صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ كَثْرَةِ السُّؤَالِ وَتَكَلُّفِ مَا لاَ يَعْنِيهِ: باب: بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً ، فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ ، فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ " .´ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے موسیٰ ابن عقبہ نے بیان کیا ، کہا میں نے ابوالنضر سے سنا ، انہوں نے بسر بن سعید سے بیان کیا ، ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا اور رمضان کی راتوں میں اس کے اندر نماز پڑھنے لگے پھر اور لوگ بھی جمع ہو گئے تو ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں آئی ۔ لوگوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں ۔ اس لیے ان میں سے بعض کھنگارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کے کام سے واقف ہوں ، یہاں تک کہ مجھے ڈر ہوا کہ کہیں تم پر یہ نماز تراویح فرض نہ کر دی جائے اور اگر فرض کر دی جائے تو تم اسے قائم نہیں رکھ سکو گے ۔ پس اے لوگو ! اپنے گھروں میں یہ نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث کی مناسبت ترجمہ باب سے یہ ہے کہ ان لوگوں کو مسجد میں اس نماز کا حکم نہیں ہوا تھا مگر انہوں نے اپنے نفس پر سختی کی‘ آپ نے اس سے باز رکھا۔
معلوم ہوا کہ سنت کی پیروی افضل ہے اور خلافت سنت عبادت کے لیے سختی اٹھا نا قیدیں لگانا کوئی عمدہ بات نہیں ہے۔
1۔
مذکورہ واقعہ رمضان المبارک میں نمازتراویح کے متعلق ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک جگہ چٹائی کا حجرہ بنایا تاکہ اس میں نماز پڑھیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکیں، لیکن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں تین دن تک نماز تراویح ادا کی۔
چونکہ نزول وحی کا زمانہ تھا اور اس کےفرض ہونے کا خطرہ تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کےبعد جماعت کااہتمام ترک کردیا۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد یہ اندیشہ ختم ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز تراویح کی جماعت کا اہتمام مسجد میں کردیا۔
2۔
اس حدیث کا عنوان سے تعلق اس طرح ہے کہ لوگوں کو مسجد میں نماز تراویح ادا کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا لیکن انھوں نے از خود اپنے آپ پر یہ پابندی عائد کرلی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر شفقت کرتے ہوئے انھیں اس سے باز رکھا۔
معلوم ہوا کہ سنت کی پیروی ہی میں نجات اور عزت ہے۔
خلاف سنت عبادت کے علاوہ سختی اٹھانا اورشرطیں لگانا اچھی بات نہیں۔
3۔
واضح رہے کہ فرض نماز کے علاوہ نماز عید اور نماز گرہن وغیرہ مسجد میں ادا کی جاتی ہیں کیونہ یہ نماز شعائر اسلام سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے ان کا حکم فرض نماز جیسا ہے۔
اسی طرح تحیۃ المسجد اور طواف کی دورکعت بھی مسجد میں پڑھی جاتی ہیں تو یہ خارجی دلائل کی بنا پر حدیث میں مذکورہ عام حکم سے مستثنیٰ ہیں۔
واللہ أعلم۔
فرض نماز کا محل مساجد ہیں بلا عذر شرعی فرض نماز گھر میں پڑھے وہ بہت سے ثواب سے محروم رہ گیا۔
صحابہ کا آپ کو آواز دینا اطلاعاً مکان پر کنکری پھینک کر آپ کو بلانا، نماز تہجد آپ کی اقتداء میں ادا کرنے کے شوق میں تھا۔
کھوئے ہوئے اونٹ کے بارے میں آپ کا حکم عرب کے ماحول کے مطابق تھا۔
(1)
فرض نماز کا محل تو مساجد ہیں، اس کے علاوہ نوافل کی ادائیگی گھروں میں کی جائے۔
اگر کوئی انسان فرض نماز بھی اپنے گھر میں پڑھتا ہے تو وہ بہت بڑے ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔
(2)
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی خواہش تھی کہ نماز تہجد آپ کی اقتدا میں ادا کریں، اس لیے انہوں نے اپنی آوازیں بلند کیں اور دروازے کو کنکریاں ماریں، لیکن اس طرح آوازیں بلند کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں خلل انداز ہوا اور کنکریاں مارنا تو بہت ہی ادب کے خلاف تھا، اس لیے آپ کو غصہ آیا۔
آپ کا یہ اقدام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے قبیل سے تھا، اس لیے آپ کا غصہ اللہ کے لیے تھا، آپ کی ذات کو اس میں کوئی دخل نہیں کیونکہ آپ ذاتی معاملات کے متعلق غصہ نہیں کرتے تھے۔
(1)
حدیث عائشہ کے متعلق دیگر روایات میں وضاحت ہے کہ ایسا ماہ رمضان میں ہوا۔
(صحیح البخاري، التھجد، حدیث: 1129)
نیز چوتھی رات لوگ اتنے جمع ہوگئے کہ مسجد ان وجہ سے تنگ ہوگئی۔
(صحیح البخاري، الجمعة، حدیث: 924)
آپ نے نماز فجر کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا: ’’لوگو! وہی اعمال بجالاؤ جن کی کی بجاآوری کی تم ہمت رکھتے ہو۔
اللہ تعالیٰ تواپنے دینے میں تنگ دلی نہیں دکھائے گا، البتہ تم خود تنگ آکر اس عمل کو چھوڑ دو گے۔
اللہ کے ہاں پسندیدہ عمل وہی ہے جس پر دوام کیا جائے اگرچہ وہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہوں۔
‘‘ (صحیح البخاري، اللباس، حدیث: 5861)
حدیث زید بن ثابت کے متعلق دیگر روایات میں مزید وضاحت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اگلے دن لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے تو انھوں نے بآواز بلند تسبیحات کہنا شروع کر دیں۔
بعض نے دروازے کو کنکریاں مارنا شروع کردیں، چنانچہ رسول اللہ ﷺ غصے کی حالت میں ان کے ہاں تشریف لائے۔
(صحیح البخاري، الأدب، حدیث: 6113)
ایک روایت میں ہے کہ جب لوگوں نے اگلے دن نبی ﷺ کی آواز نہ سنی تو خیال کیا کہ شاید آپ سورہے ہوں، اس لیے بآواز بلند کھانسنے لگے تاکہ آپ تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں۔
آپ نے فرمایا: ’’مجھے اندیشہ ہے مبادا تمھارے ذوق وشوق کے پیش نظر نماز تہجد تم پر فرض ہوجائے۔
اگر فرض کردی گئی تو پھر تم اس کا اہتمام نہیں کرسکو گے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الاعتصام بالکتاب والسنة، حدیث: 7290) (2)
شریعت نے نوافل کی ادائیگی مسجد میں اور فرائض گھروں میں ادا کرنے کو پسند نہیں فرمایا۔
رسول اللہ ﷺ نماز سے پہلے اور بعد کی سنتیں عام طور پر گھر میں ادا کرتے تھے۔
صبح کی سنتیں تو نبی ﷺ سے مسجد میں پڑھنا ثابت ہی نہیں۔
بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ نفل نماز کے لیے گھر اور مسجد کے ثواب میں وہی نسبت ہے جو جماعت اور تنہا نماز کے ثواب میں ہے۔
گھر میں نوافل پڑھنے کے کئی ایک فوائد ہیں: ٭انسان ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے اور نماز کے ثواب کو کم کرنے والی بہت سی چیزوں سے حفاظت ہوجاتی ہے۔
٭اس گھر میں اللہ کی رحمت وبرکت کا نزول ہوتا ہے جس میں نماز پڑھی جائے۔
٭اس گھر میں اللہ کے فرشتے اترتے ہیں اور شیاطین وہاں سے بھاگ جاتے ہیں۔
(عمدة القاري: 372/4) (3)
روایت کے آخر میں امام بخارى ؒ نے ایک مزید سند کا حوالہ دیا ہے۔
ان کی غرض یہ ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کا سماع ابو نضر سے ثابت کیا جائے، چنانچہ آخری سند میں اس کی صراحت ہے۔
(فتح الباري: 280/2)
(1)
خَصْفَةٌ: کھجور کے پتے، حَصِيْرٌ: چٹائی جو کھجور کے پتوں ہی سے بنائی جاتی ہے، اور آپﷺ نے ایک محفوظ اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل اپنے لیے مسجد میں ایک طرف چٹائی کا احاطہ بنایا، تاکہ اس کے اندر کھڑے ہو کر نماز پڑھیں۔
(2)
تَتَبَّعَ اِلَيْهِ رِجَالٌ: تلاش و جستجو سے لوگ وہاں تک پہنچ گئے، اور ایک گروہ جمع ہو گیا۔
فوائد ومسائل: حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں اختصارکے ساتھ آپﷺ کی نماز تراویح کا ذکر ہے جس پر بحث گزر چکی ہے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے ایک حصہ کو چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنا لیا، آپ رات کو نکلتے اور اس میں نماز پڑھتے تھے، کچھ لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دی وہ ہر رات آپ کے پاس آنے لگے یہاں تک کہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف نہیں نکلے، لوگ کھنکھارنے اور آوازیں بلند کرنے لگے، اور آپ کے دروازے پر کنکر مارنے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ان کی طرف نکلے اور فرمایا: ” لوگو! تم مسلسل ایسا کئے جا رہے تھے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ کہیں تم پر یہ فرض نہ کر دی جائے، لہٰذا اب تم کو چاہیئے کہ گھروں میں نماز پڑھا کرو اس لیے کہ آدمی کی سب سے بہتر نماز وہ ہے جسے وہ اپنے گھر میں پڑھے ۱؎ سوائے فرض نماز کے۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1447]
➋ مردوں کےلئے نوافل گھر میں پڑھنا افضل ہیں۔ مگر عورتوں کے لئے فرض بھی گھروں میں افضل ہیں۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی نماز اس کے اپنے گھر میں اس کی میری اس مسجد میں نماز سے افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1044]
➊ یہ ارشاد مردوں کو ہے عورتوں کو نہیں کیونکہ ان کے لئے فرض نماز بھی گھر میں پڑھنا زیادہ افضل ہے۔ اگرچہ جماعت میں آنے کی اجازت ہے۔
➋ بیت الحرام اور بیت المقدس بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس ہیں۔
➌ ان نوافل سے مراد ایسے نوافل ہیں۔ جو مسجد سے مخصوص نہیں، مثلاً تحیۃ المسجد اور جمعہ سے پہلے کے نوافل وغیرہ۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں چٹائی سے گھیر کر ایک کمرہ بنایا، تو آپ نے اس میں کئی راتیں نمازیں پڑھیں یہاں تک کہ لوگ آپ کے پاس جمع ہونے لگے، پھر ان لوگوں نے ایک رات آپ کی آواز نہیں سنی، وہ سمجھے کہ آپ سو گئے ہیں، تو ان میں سے کچھ لوگ کھکھارنے لگے، تاکہ آپ ان کی طرف نکلیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے تمہیں اس کام میں برابر لگا دیکھا تو ڈرا کہ کہیں وہ تم پر فرض نہ کر دی جائے، اور اگر وہ تم پر فرض کر دی گئی تو تم اسے ادا نہیں کر سکو گے، تو لوگو! تم اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی سب سے افضل (بہترین) نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو سوائے فرض نماز کے۔“ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1600]
➋ ’’فرض نہ کر دی جائے“ رمضان المبارک میں تراویح کا فرض ہوجانا پانچ نمازوں میں اضافے کے مترادف نہیں کہ اعتراض پیدا ہوکہ (لا یبدل القول لذی) کے الفاظ (جواللہ تعالیٰ نے لیلۃ الاسراء میں پانچ نماز کی فرضیت کے وقت فرمائے تھے) کے بعد تو فرضیت کا خطرہ نہیں تھا کیونکہ اس قول میں صرف روزانہ کی پانچ نمازوں میں اضافہ یا کمی کی نفی کی گئی ہے اور تراویح کی، بالفرض، فرضیت سے یومیہ نمازوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد فرضیت کا خطرہ ناپید ہو گیا، لہٰذا نماز تراویح کو مسجد میں مستقل باجماعت جاری کر دیا گیا جو خلفائے راشدین کے دور سے لے کر اب تک بلانزاع امت میں جاری و ساری ہے اور اجماعی مسئلہ ہے اور سنت المسلمین بن چکا ہے۔ اب کسی مسجد کو اس سعادت سے محروم نہیں رکھا جائے گا، البتہ اگر کوئی شخص انفرادی طور پر گھر میں ادا کرنا چاہے تو بھی جائز ہے مگر ضروری ہے کہ وہ نماز تراویح میں قرآن مجید زیادہ پڑھنے کے قابل ہوتاکہ اصل مقصد پورا ہو، نہ کہ صرف رکعات کی گنتی پوری کرے۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاس پھوس سے بنی ہوئی چٹائی سے ایک چھوٹا (خیمہ نما) حجرہ بنایا اور اس میں نماز پڑھنے لگے۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا تو وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ مرد کی اپنے گھر میں نماز افضل ہے سوائے فرض نماز کے۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 322»
«أخرجه البخاري، الأذان، باب صلاة الليل، حديث:731، ومسلم، صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته، حديث:781.»
تشریح: 1. یہ ماہ رمضان کا موقع تھا کہ آپ نے اپنے لیے مسجد میں الگ ایک مختصر سی مخصوص جگہ بنالی۔
2. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ایسا کرنا مقتدیوں اور نمازیوں کے لیے باعث ضرر اور تکلیف نہ ہو تو مسجد میں مخصوص جگہ بنائی جا سکتی ہے۔
3.مکمل روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رات کی نماز پڑھتے تھے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو علم ہوا تو انھوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھنا شروع کر دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات دیر سے اس حجرے سے باہر نکلے اور فرمایا: ’’میں نے تمھارا حال دیکھ لیا ہے‘ اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ فرض نماز کے علاوہ مردوں کی نماز گھر میں افضل ہے۔
‘‘