صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ : كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ " ، فَقَالَ عُمَرُ : فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ ، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ : عَنْ اللَّيْثِ عَنَاقًا وَهُوَ أَصَحُّ .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے زہری نے ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب کے کئی قبائل پھر گئے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں سے کس بنیاد پر جنگ کریں گے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں پس جو شخص اقرار کر لے کہ لا الہٰ الا اللہ تو میری طرف سے اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ہے ۔ البتہ کسی حق کے بدل ہو تو وہ اور بات ہے ( مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے ) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللہ کے حوالے ہے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے ، واللہ ! اگر وہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکار پر بھی جنگ کروں گا ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر جو میں نے غور کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں لڑائی کی تجویز ڈالی ہے تو میں نے جان لیا کہ وہ حق پر ہیں ۔ ابوبکیر اور عبداللہ بن صالح نے لیث سے «عناقا» ( کی بجائے «عقلا» ) کہا یعنی بکری کا بچہ اور یہی زیادہ صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعضوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب محمد بن مسلمہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو وہ ہر شخص سے زکوٰۃ کے جانور باندھنے کے لیے رسی بھی لیتے‘ اسی طرح تبعاً رسی بھی زکوٰۃ میں دی جاتی۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد لوگ تین حصوں میں تقسیم ہو گئے تھے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: کچھ لوگ دین اسلام سے برگشتہ ہو کر (پھر کر)
کفر کی طرف لوٹ گئے اور شرائع اسلام کا انکار کر کے بت پرستی اختیار کر لی۔
بعض لوگ ختم نبوت کے منکر ہو گئے اور انھوں نے مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی کو بطور متبنیٰ مان لیا۔
ان دونوں قسم کے لوگوں سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قتال کر کے ان کا خاتمہ کر دیا۔
ان سے جنگ کرنے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ہمنوا تھے۔
ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرتا تھا۔
ان کا موقف تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین کو زکاۃ دینا ضروری نہیں۔
ان کے خلاف قتال کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اختلاف کیا جس کا مذکورہ حدیث میں ذکر ہے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زکاۃ کو نماز پر قیاس کرتے ہوئے ان کے خلاف جنگ کرنے کا ارادہ کیا جبکہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عموم سے حدیث سے استدلال کیا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث میں بیان ہونے والے "حَّقِ اسلام" کے الفاظ سے بھی اپنے موقف کو مضبوط کیا۔
اس وضاحت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مطمئن ہوگئے۔
2۔
واضح رہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ شہادتیں کا اقرار کر لیں، نماز پڑھیں اور زکاۃ ادا کریں۔
جب وہ یہ کام کرنے لگیں گے توانھوں نے مجھ سے اپنے مال اور جان کو محفوظ کر لیا سوائے حق اسلام کے پھر ان کا (باطنی)
حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہوگا۔
‘‘ (صحیح البخاري، الإیمان، حدیث: 25)
یہ حدیث حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یاد نہ تھی اگر یاد ہوتی تو وہ قیاس کے بجائے اسے پیش کرتے اور نہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے سامنے تھی وگرنہ وہ اس کے ہوتے ہوئے حدیث کے عموم سے فائدہ نہ اٹھاتے۔
عین ممکن ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن سے یہ فیصلہ کن حدیث مروی ہے بحث وتکرار کے وقت وہاں موجود نہ ہوں کیونکہ اگروہاں موجود ہوتے تو اسے پیش کرکے اس اختلاف کو فوراً ختم کیا جا سکتا تھا۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے آخر میں (عناقا)
کے بجائے لفظ (عقلاً)
کو صحیح قرار دیا ہے کیونکہ زکاۃ میں بکری کا بچہ تو آجاتا ہے مگر رسی زکاۃ میں نہیں دی جاتی۔
واللہ أعلم۔
ویسے جو لوگ نہ مسلمان ہوں اور نہ لڑائی جھگڑا کریں ان کے لئے اسلام کا اصول لا إکراہَ في الدینِ کا ہے یعنی دین اسلام کی اشاعت میں کسی پر زبردستی جائز نہیں ہے۔
یہ سب کی مرضی پر ہے‘ آزادی کے ساتھ جو چاہے قبول کرے جو نہ چاہے وہ قبول نہ کرے‘ اسلام نے مذہب کے بارے میں کسی بھی زبردستی کو روا نہیں رکھا۔
1۔
اس حدیث میں جنگ کی غایت لاإله إلااللہ کہنے کو قراردیا گیا ہے جبکہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق قتال کی غایت لَآ اِلٰهَ اِلَّااللّٰهُ وَاَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ بیان کی گئی۔
(صحیح مسلم، الإیمان، حدیث 29(22)
اس کی توجیہ یہ ہے کہ پہلی روایت ان بت پرستوں کے متعلق ہے جو توحید کا اقرار ہی نہیں کرتے اور دوسری روایت ان لوگوں کے لیے ہے جو توحید کا اقرار تو کرتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہیں۔
ان کے متعلق فرمایا: ’’مجھے ان سے قتال کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ شہادتیں کا اقرارکریں۔
‘‘ (فتح الباري: 137/6)
یعنی جس چیز کے منکر ہیں اس کا اقرار کرانے تک قتال جاری رہے گا لیکن حق اسلام کے لیے انھیں قتل کیا جاسکتا ہے۔
2۔
حق اسلام تین چیزیں ہیں:۔
کسی انسان کو بلاوجہ قتل کرنا۔
۔
شادی شدہ کا زنا کرنا۔
۔
دین اسلام سے مرتد ہوجانا۔
۔
انھیں اقرار شہادتین کے باوجود بھی قتل کیا جائے گا اور ان کی جانوں کا کوئی تحفظ نہیں ہے۔
(عمدة القاري: 266/10)
فائدہ:
«عَشِي» کا وقت زوال کے فوراََ بعد سے لے کر مغرب تک رہتا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پوتے، فقیہ مدینہ قاسم بن محمد رحمہ اللہ اپنے اس فرمان سے ان لوگوں کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو زوال کے فوراً بعد نمازِ ظہر ادا کرنے کو معمول بناتے ہیں، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی زوال آفتاب کے بعد کچھ وقت گزار کر ہی ظہر پڑھا کرتے تھے، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: «كَانَتْ قَدْرُ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّيْفِ ثَلاثَةَ أَقْدَامِ إِلى خَمْسَةِ أَقْدَامٍ وَفِي الشَّتَاءِ خَمْسَةَ أَقْدَامٍ إِلى سَبْعَةِ أَقْدَامٍ»
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ظہر کا گرمیوں میں اندازہ یہ تھا کہ (آپ اُس وقت اسے پڑھتے جب سورج ڈھلنے کے بعد سایہ) تین سے پانچ قدم تک ہو جاتا اور سردیوں میں پانچ سے سات قدم تک ہو جاتا۔“
[ابوداود: 400، نسائي: 504، اس كي سند صحيح هے]
------------------
جمعہ کے وقت کا بیان
فائدہ:
جمعہ چونکہ نمازِ ظہر کا بدل ہے اس لیے اس کا وقت بھی ہو بہو ظہر والا ہی ہے، یعنی زوالِ آفتاب سے لے کر سایہ ایک مثل ہونے تک رہتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اول وقت ہی میں جمعہ ادا کیا کرتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمعہ کی تیاری اور اس میں جلدی حاضر ہونے کا اس قدر شوق رکھتے اور اہتمام کرتے تھے کہ دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے بعد تک مؤخر کر دیتے۔
[صحيح بخاري: 939، صحيح مسلم: 859]
حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت جمعہ پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ [صحيح بخاري: 904] حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جمعہ اس وقت ادا کرتے جب زوالِ آفتاب ہو جاتا۔ [صحيح مسلم: 860]
عِقَالٌ: اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی رسی، زانو بند۔
فوائد ومسائل: (1)
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد مدینہ منورہ سے دور رہنے والے قبائل جنہیں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رفاقت کا زیادہ موقع نہیں ملا تھا اور اسلام کو پوری طرح سمجھ نہیں سکے تھے، یا محض مسلمانوں کی قوت وطاقت سے خوف کھا کر مسلمان ہوئے تھے وہ اسلام سے پھر گئے، لیکن وہ لوگ جنہیں نبی اکرم ﷺ سے تعلیم وتربیت کا موقع ملا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کے لمحات میسر آئے اور انہوں نے اسلام کو دل کی گہرائیوں سے سمجھ لیا ان کے دل میں اسلام کے بارے میں کوئی شک وشبہ پیدا نہیں ہوا وہ اسلام پر قائم رہے، یہی لوگ اکثریت میں تھے اور تقریبا ہر قبیلہ میں کم وبیش موجود تھے۔
اسلام سےپھرنے والوں کے مختلف گروہ تھے (الف)
وہ لوگ جو اسلام سے بالکل مرتد ہو کر اپنے پہلے کفر کی طرف لوٹ گئے، دین شعائر، نماز، زکاۃ اور دوسرے احکام شرعیہ کو ترک کر کے، زمانہ جاہلیت کے طور طریقوں کو اختیار کر لیا۔
(ب)
وہ لوگ جنہوں نے مدعیان نبوت کے فریب میں آکر ان کی جھوٹی نبوت کو تسلیم کر لیا۔
(ج)
وہ لوگ جو کنارہ کش ہو کر، حالات کا انتظار کر نے لگے۔
(د)
وہ لوگ جو اسلام کے منکر نہیں تھے، صرف زکاۃ کا انکار کرتے تھے کہ یہ صرف رسول اللہ ﷺ ہی وصول کر سکتے تھے، اور ان میں سے بھی کچھ لوگ صرف خلیفہ کو زکاۃ ادا کرنے سے منکر تھے کہ ہم اپنے طور پر اپنے محتاجوں میں تقسیم کریں گے، بلکہ بنویربوع کے لوگو ں نے تو صدقات اکٹھے کر کے، خلیفہ کو دینا چاہا تھا۔
ان کے سردار، مالک بن نویرہ نے ان کو روک دیا، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا اختلاف اس چوتھے گروہ کے بارے میں تھا، اور پھر یہ اختلاف بھی ختم ہو گیا۔
(2)
نماز اور زکاۃ اسلام کے ایسے دو بنیادی ارکان ہیں کہ اسلام کا قیام وبقا ان پر منحصر ہے، اس لیے ان میں سے کسی ایک کا منکر کافر ہے بلکہ ضروریات دین، جن چیزوں کا دین ہونا ہر خاص وعام کو معلوم ہے ان کا منکر کافر ہے۔
(3)
جو انسان کلمہ شہادت کا اقرار کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو تسلیم کرتا ہے تو گویا وہ پورے دین کو تسلیم کرتا ہے، اس لیے اس کا مال وجان محفوظ ہوں گے اور دین کے احکام پرعمل پیرا ہونے کا وہ پابند ہوگا۔
اس لیے اگر کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے گا، جس سے اس کا مال یا جان محفوظ نہ رہے سکتے ہوں، تو اس کا محاسبہ ہوگا، زکاۃ اگر ادا نہ کرے تو زبردستی لی جائے گی، شادی شدہ ہو کر، زنا کرے گا یا کسی کو ناحق قتل کرے گا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔
(4)
جو شخص کلمہ اسلام پڑھ کر ہمارے سامنے اپنے ایمان لانے کا اظہار کرتا ہے تو یہ دنیوی اور قانونی طور پر اس کو مسلمان تسلیم کر لیں گے اور اس کو مسلمانوں والے حقوق حاصل ہوں گے اور مسلمانوں کے فرائض کا وہ پابند ہوگا لیکن اگر یہ کام اس نے محض مسلمانوں سے ڈر کر یا کسی بد نیتی سے کیا ہے تو اللہ اس کا محاسبہ کرے گا، ہم تو ظاہر کے پابند ہیں، باطن کو عالم الغیب اور علیم بذات الصدور ذات ہی جانتی ہے۔
(5)
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا تھا: (مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ)
جو نماز اور زکاۃ میں فرق اور امتیاز کرے گا، ایک کو ادا کرے گا اور دوسری کا منکر ہوگا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت تھی جس میں جان ومال کی عصمت کو نماز اور زکاۃ پر موقوف کیا گیا ہے، یہ روایت آگے آرہی ہے اور متفق علیہ ہے۔
(فتح الباری: 1/103)
اس لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب رسول اللہ ﷺ نے دونوں یکساں اہمیت دی ہے تو پھر ان میں فرق کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے اور بعض تاریخی روایات میں اس روایت کے پیش کرنے کی تصریح موجود ہے۔
(الامارۃ والسیاسة: 1/17)
اس لیے کہ کہنا درست نہیں کہ شیخین کے سامنے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت نہ تھی، اس لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قیاس واستنباط سے کا م لینا پڑا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شبہ لاحق ہوا۔
(6)
الناس: سے مراد، صرف قریش مرد ہیں اس لیے کہا جاتا ہے (عامٌ أُريدَ به الخاصُ)
لفظ عام لیکن مراد خاص ہے یا (اختصَّ منه البعضُ)
عام لیکن دلائل کی روشنی میں اس کی تخصیص کر لی گئی یا الف لام عہد ذہنی کے لیے بے مراد قریش ہیں کیونکہ اہل کتاب اگرجزیہ ادا کر دیں تو ان سے لڑائی نہیں کی جائے گی ﴿حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ (سورة التوبة: 29)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی الله عنہ خلیفہ بنا دئیے گئے اور عربوں میں جنہیں کفر کرنا تھا کفر کا اظہار کیا، تو عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابوبکر رضی الله عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے جنگ (جہاد) کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ کہیں: «لا إلہ الا اللہ» ، تو جس نے «لا إلہ الا اللہ» کہا، اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لی ۱؎۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2607]
وضاحت:
1؎:
اب نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے قتل کیا جا سکتا ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ (جہاد) کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں، پھر جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو اب انہوں نے اپنے خون اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیا، مگر کسی حق کے بدلے ۱؎، اور ان کا (مکمل) حساب تو اللہ تعالیٰ پر ہے “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الإيمان/حدیث: 2606]
وضاحت:
1؎:
یعنی ان کی جان اور ان کا مال صرف اسی وقت لیا جائے گا جب وہ قول و عمل سے اپنے آپ کو اس کا مستحق اور سزاوار بنا دیں، مثلاً کسی نے کسی کو قتل کردیا تو ایسی صورت میں مقتول کے ورثاء اسے قتل کریں گے یا اس سے دیت لیں گے۔
2؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام ایک آفاقی اورعالمگیر مذہب ہے، اس کا مقصد دنیا سے تاریکی، گمرا ہی اورظلم وبربریت کا خاتمہ ہے، ساتھ ہی لوگوں کو ایک اللہ کی بندگی کی راہ پر لگانا اور انہیں عدل و انصاف مہیا کرنا ہے، دوسری بات اس حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ جو اسلام کو اپنے گلے سے لگالے اس کی جان مال محفوظ ہے، البتہ جرائم کے ارتکاب پراس پر اسلامی احکام لاگو ہوں گے، وہ اپنے مال سے زکاۃ ادا کرے گا، کسی مسلمان کو ناجائز قتل کردینے کی صورت میں اگر ورثاء اسے معاف نہ کریں اور نہ ہی دیت لینے پر راضی ہوں تو اسے قصاص میں قتل کیا جائے گا، یہ بھی معلوم ہواکہ اس کے ظاہری حالات کے مطابق اسلامی احکام کا اجراء ہوگا، اس کا باطنی معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی گواہی نہ دینے لگ جائیں، پھر جب وہ اس کلمہ کو کہہ دیں تو ان کے خون اور مال مجھ سے محفوظ ہو گئے، سوائے اس کے حق کے (یعنی اگر وہ کسی کا مال لیں یا خون کریں تو اس کے بدلہ میں ان کا مال لیا جائے گا اور ان کا خون کیا جائے گا) اور ان کا حساب اللہ پر ہو گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2640]
1۔
اسلام بنی نوع انسان کے لئے امن سلامتی کا دین ہے۔
اس کی دعوت اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کے اس دنیا میں کائنات کے خالق ومالک کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
اور نہ کرنے دی جائے۔
اسی اصل بنیاد پرمنکرین سے حسب احوال وظروف قتال کا حکم ہے۔
جس کی معلوم ومعروف شرطیں اور آداب ہیں جواس کتاب الجہاد اور کتب فقہ اسلامی میں محفوظ ہیں۔
2۔
اگر کوئی قوم اسلام قبول کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کو اہل اسلام کی اطاعت قبول کرنی ہوگی۔
اور جزیہ دینا ہوگا۔
3۔
اسلام میں اقرار توحید اور اقرار رسالت محمد رسول اللہ ﷺ کو مستلزم ہے۔
اس کے بغیر توحید کا اقرار قابل قبول نہیں، جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں، جب وہ لوگ یہ کہنے لگیں تو اب انہوں نے اپنے خون، اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور ان کا حساب اللہ پر ہے، پھر جب «ردت» کا واقعہ ہوا (مرتد ہونے والے مرتد ہو گئے) تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ ان سے جنگ کریں گے حالانکہ آپ نے رسول اللہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3976]
(2) ”تفریق کرے گا“ یعنی نماز کو تو فرض سمجھے گا لیکن زکوٰۃ کو فرض نہ سمجھے گا۔ یا حکومت کو زکوٰۃ ادا نہ کرے کیونکہ یہ بغاوت کے مترادف ہے۔
(3) اگر کوئی شخص کلمۂ توحید کا اقرار کر لے تو اس کی جان و مال محفوظ ہو جاتے ہیں اگرچہ یہ اقرار قتل کے خوف ہی سے کیا ہو۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے لڑتا رہوں جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کہنے نہ لگ جائیں۔ تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہم (مسلمانوں) سے محفوظ کر لیا (اب اس کی جان و مال کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں) سوائے اس کے کہ وہ خود ہی (اپنی غلط روی سے) اس کا حق فراہم کر دے ۱؎، اور اس کا (آخری) حساب اللہ کے ذمہ ہے ۲؎۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3092]
(2) ”کسی کا حق“ اسلام کسی سابقہ حق کو ختم نہیں کرتا بلکہ اس کی مزید تاکید کرتا ہے۔ اسلام لانے سے سابقہ حقوق اللہ تو معاف ہوجاتے ہیں مگر حقوق العباد کی ادائیگی لازم رہتی ہے۔
(3) اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ جب تک کوئی شخص مسلمان نہ ہو، اس سے لڑائی جاری رکھی جائے یا اسے قتل کردیا جائے اور اس کا مال لوٹ لیا جائے، کیونکہ یہ مفہوم رسول اللہﷺ کی تیئیس سالہ زندگی نبوت کے طرز عمل کے بالکل خلاف ہے۔ اسلامی مملکت میں ذمیوں کا وجود متفقہ چیز ہے۔ رسول اللہﷺ کے دور میں بھی اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی۔ اس کا انکار ممکن نہیں، لہٰذا اس حدیث سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں سے لڑائی شروع کریں۔ پھر انہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے دے او ر وہ کلمہ اسلام پڑھ لیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں، چنانچہ جس نے ” لا الٰہ الا اللہ “ کہہ لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔ شعیب بن ابی حمزہ نے اپنی روایت میں دونوں حدیثوں کو جمع کر دیا ہے (یعنی: واقعہ ردت اور مرفوع حدیث)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3977]
(2) ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھ لیا“ یہ مختصر ہے، ورنہ صرف اتنا پڑھ لینا کافی نہیں بلکہ توحید کے ساتھ ساتھ رسالت کا اقرار بھی ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ نماز قائم کریں، مسلمانوں کا قبلہ اختیار کریں، ان کا ذبیحہ کھائیں، زکوٰۃ ادا کریں اور ہر اس چیز پر ایمان لائیں جو رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں جیسا کہ دیگر احادیث میں صراحتاً ذکر ہے۔ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھنا اسلام قبول کرنے سے کنایہ ہے۔ (مزید دیکھئے، حدیث: 3092)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے اور عرب کے جن لوگوں نے کفر (ارتداد) کی گود میں جانا تھا چلے گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ إلا اللہ “ نہ کہیں، تو جس نے ” لا الٰہ الا اللہ “ کہا اس نے مجھ سے اپنا مال، اپ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3978]
(2) ”اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے“ کہ اس نے کلمہ صدق دل سے پڑھا ہے یا جان بچانے کے لیے۔
(3) اگر صرف ظاہری معنیٰ لیے جائیں تو اہل کتاب سے بھی قتال جائز نہیں کیونکہ وہ بھی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار کرتے ہیں، اس لیے تفصیل ضروری ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں، یہاں تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ کہیں تو جس نے یہ کہہ دیا، اس نے اپنی جان اور اپنا مال مجھ سے محفوظ کر لیا مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے، اور اس کا حساب اللہ پر ہے۔“ ولید بن مسلم نے عثمان کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3979]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (ارتداد کا فتنہ ظاہر ہونے پر) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان مرتدین سے جنگ کرنے کی ٹھان لی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیوں کر لڑیں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں جب تک کہ وہ لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں، جب وہ یہ کہنے لگیں تو ان کے خون، ان کے مال مجھ سے محفوظ ہو گئے مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے “، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہر اس شخص سے لازم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3980]
(2) اگر صرف زکاۃ ادا نہ کریں تو وہ باغیوں میں شمار ہوں گے اور ان سے قتال واجب ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنا دیئے گئے، اور عربوں میں سے جن کو کافر ہونا تھا وہ کافر ہو گئے ۱؎، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر! آپ لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے تو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ «لا إله إلا اللہ» کے قائل نہ ہو جائیں، تو جس نے «لا إله إلا اللہ» کہہ لیا، اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو ہ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3093]
(2) ابو العباس مبرد [لو منَعوني عِقالًا کے متعلق سے وصول کرے جس کی زکاۃ دی جارہی ہو اور قیمت جب اصل چیز کے بجائے قیمت وصول کرے تو بولتے ہے، یعنی اگر وہ مجھ سے کسی قسم کا صدقہ روکیں گے (الكامل للمبرد: 2/ 508)
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، اور عربوں میں سے جنہیں کافر مرتد ہونا تھا کافر ہو گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کیسے لڑیں گے؟ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ یہ لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیں، تو جس نے لا الٰہ الا اللہ کا اقرار کر لیا، اس نے مجھ سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2445]
(2) ”لا الٰہ الا اللہ پڑھ لیں۔“ مراد پورا کلمہ شہادت ہے۔ اور یہ متفقہ بات ہے، ورنہ یہودی اور عیسائی کو بھی مسلمان کہنا پڑے گا۔
(3) ”الا یہ کہ اس پر کوئی حق بنتا ہو۔“ یعنی اس نے کسی کے جان ومال کا نقصان کیا ہو تو اس کی سزا اسے بھگتنی ہوگی۔
(4) ”اندرونی حساب۔“ کہ اس نے کلمہ خلوص قلب سے پڑھا ہے یا جان ومال بچانے کے لیے۔
(5) ”زکاۃ مال کا حق ہے۔“ وہ نہ دیں تو ان سے زبردستی وصول کیا جائے گا، ورنہ حکومت کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے گا اور بغاوت راہ پکڑے گی۔
(6) ”وہ رسی نہ دیں۔“ زور کلام کے لیے مبالغے سے کام لیا گیا ہے اور کلام میں ایسا عموماً ہوتا ہے۔ ورنہ زکاۃ میں رسی دینا لازم نہیں، صرف جانور دینا لازم ہے۔
(7) منکرین زکاۃ سے بھی کافروں کی طرح قتال کرنے پر صحابہ کا اجماع ہے۔
(8) یہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علم وفضل اور شجاعت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ آپ نے اس نازک ترین موقع پر کمال ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بہت بڑے فتنے کو آغاز ہی میں اس کے عبرت ناک انجام تک پہنچا دیا۔ اس وقت ابتداء ً عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ سے اتفاق رائے نہ رکھتے تھے کیونکہ اپنے علمی رسوخ کی بنا پر جہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پہنچے ہوئے تھے وہاں ابھی عمر رضی اللہ عنہ نہ پہنچے تھے۔ یہ بات ابوبکر رضی اللہ عنہ کے علمی تفوق کی دلیل ہے۔ اس اور اس جیسے دیگر واقعات کی بنا پر اہل حق کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمی تفوق کی دلیل ہے۔ اس اور اس جیسے دیگر واقعات کی بنا پر اہل حق کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے افضل ترین آدمی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔
(9) صحابہ کرامؓ قیاس جلی کے قائل تھے۔
(10) بات کو موکد کرنے کے لیے قسم اٹھانا جائز ہے اگرچہ اس کا مطالبہ نہ کیا گیا ہو۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں، جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کر لیے مگر (جان و مال کے) حق کے بدلے اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہو گا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 3981]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے جنگ کروں جب تک وہ «لا إله إلا الله» نہ کہہ دیں، جب وہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیں (اور شرک سے تائب ہو جائیں) تو انہوں نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا، مگر ان کے حق کے بدلے اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3927]
فوائد و مسائل:
(1)
کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے پر دنیا میں مسلمانوں کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
اگر دل میں ایمان نہیں ہوگا تو اس کی سزا آخرت میں ملے گی۔
(2)
خون اور مال محفوظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جنگ کرکے انھیں قتل نہیں کیا جائے گا نہ ان کے مال پر بطور غنیمت یا فے قبضہ کیا جائے گا۔
(3)
جان میں حق کے ساتھ تصرف سے مراد اس سے سرزد ہونے والے جر م کی سزا دینا ہے مثلاً چوری کی صورت میں ہاتھ کا ٹنا، پاک دامن پر بدکاری کا الزام لگائے تو کوڑے مارنا، قتل کی صورت میں قصاص کے طور پر قتل کرنا وغیرہ، اور مال میں جائز تصرف زکاۃ اور لازمی خرچ وصول کرنا قتل عمد میں مقتول کے وارثوں کے مطالبے پر قاتل یا اس کے قبیلے سے دیت(خون بہا)
وصول کرنا وغیرہ
(4)
اگر دنیا میں کسی وجہ سے گناہ کی سزا نہ ملے تو آخرت میں سزا ملے گی البتہ کسی بڑے نیک کام کی وجہ سے معافی بھی مل سکتی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 71]
اللہ کی راہ میں جنگ کرنا مسلمانوں کا اجتماعی فریضہ ہے جس کا مقصد انسانوں کو غیر اللہ کی عبادت سے ہٹا کر صرف اللہ کی عبادت پر قائم کرنا ہے۔
(2)
کسی شخص کے اسلام میں واقعی داخل ہو جانے کا ثبوت تین چیزیں ہیں: توحید و رسالت کا اقرار کرنا، نماز باقاعدی سے ادا کرنا
اور اسلام کے مالی حق یعنی زکاۃ کی ادائیگی کرنا۔
(3)
مذکورہ بالا آیات اور حدیث میں اسلام کے صرف تین ارکان کا ذکر کیا گیا ہے۔ (اقرار شہادتین، نماز اور زکاۃ)
اس کی وجہ یہ ہے کہ شہادتین کے بغیر تو اسلام میں داخل ہونے کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔
نماز ایسی اجتماعی عبادت ہے جو ہر مسلمان پر ہر حال میں ادا کرنا فرض ہے، اس لیے اسے اسلام اور کفر کے درمیان امتیازی علامت قرار دیا گیا ہے اور زکاۃ اگرچہ صرف مال داروں پر فرض ہے لیکن اسلامی حکومت دولت مندوں سے اس کی وصولی اور ناداروں میں اس کی تقسیم کا جس طرح اہتمام کرتی ہے، اس بنا پر یہ بھی مسلم اور غیر مسلم میں واضح امتیاز کا باعث بن جاتی ہے کیونکہ زکاۃ صرف مسلمانوں سے لی جاتی ہے اور مسلمانوں ہی میں تقسیم کی جاتی ہے۔
(4)
اس حدیث میں دو ارکان (روزہ اور حج)
کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ روزہ ایک پوشیدہ عبادت ہے اگر ایک شخص بغیر روزہ رکھے اپنے آپ کو روزے دار باور کرانا چاہے تو اس کے لیے ایسا کرنا ممکن ہے۔
اور حج اول تو سب مسلمانوں پر فرض ہی نہیں، دوسرے صاحب استطاعت افراد پر بھی زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے۔
علاوہ ازیں جس قوم کے خلاف جنگ کی جا رہی ہو وہ اگر روزہ رکھنے اور حج کرنے کا اقرار بھی کریں تو اس کے عملی اظہار کے لیے انہیں خاص مہینوں کا انتظار کرنا پڑے گا، لہذا جنگ کرنے یا نہ کرنے کا تعلق ایسے کاموں سے قائم کرنا حکمت کے منافی ہے۔
واللہ أعلم.