صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
بَابُ الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْأَعْمَشَ ، فَقَالَ : عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ مِنَ السَّمَاءِ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ وَنَزَلَ الْقُرْآنُ ، فَقَرَءُوا الْقُرْآنَ ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ " .´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اعمش سے پوچھا تو انہوں نے زید بن وہب سے بیان کیا کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امانت داری آسمان سے بعض لوگوں کے دلوں کی جڑوں میں اتری ، ( یعنی ان کی فطرت میں داخل ہے ) اور قرآن مجید نازل ہوا تو انہوں نے قرآن مجید کا مطلب سمجھا اور سنت کا علم حاصل کیا تو قرآن و حدیث دونوں سے اس ایمانداری کو جو فطرتی تھی پوری قوت مل گئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ان میں اپنی رائے کو دخل دے کر گمراہ ہو جاتے ہیں۔
اس لیے مسلمانوں کو لازم ہے کہ قرآن کو حدیث کے ساتھ ملا کر پڑھیں اور جو تفسیر حدیث کے موافق ہو اسی کو اختیار کریں۔
اللہ کے فضل وکرم سے اس آخری زمانے میں جب طرح طرح کے فتنے مسلمانوں میں نمود ہو رہے ہیں اور دجال اور شیطان کے نائب ہر جگہ پھیل رہے ہیں اس نے عام مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے قرآن کی ایک مختصر اور صحیح تفسیر یعنی تفسیر موضحۃ الفرقان مرتب کرا دی۔
اب ہر مسلمان بڑی آسانی کے ساتھ قرآن کا صحیح مطلب سمجھ سکتا ہے اور ان دجالی اور شیطانی پھندوں سے اپنے تئیں بچا سکتا ہے۔
الحمد اللہ منتخب حواشی اور ثنائی ترجمہ والا قرآن مجید بھی اس مقصد کے لیے بے حد مفید ہے۔
1۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امانت کے نازل ہونے کے بعد اس کے اٹھائے جانے کی کیفیت بھی بیان فرمائی۔
چنانچہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الرقاق میں ایک عنوان الفاظ میں قائم کیا ہے: (باب رفع الأمانة)
’’امانت کے اٹھائے جانے کا بیان‘‘ اس کی معلومات کے لیے حدیث: 6497 کا مطالعہ کیا جائے۔
2۔
امانت سے مراد ایمان اور اس کے احکام ہیں اور آدمیوں سے مراد اہل ایمان ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اعتبار سے اہل ایمان کے دلوں میں امانت رکھ دی، پھر قرآن وحدیث کے نور سے فطری ایمانداری مکمل ہوگئی، اس لیے امانت کی حفاظت میں فطرت اورشریعت دونوں جمع ہیں۔
بہرحال اس حدیث سے قرآن وسنت کے اتباع کا اشارہ ملتا ہے اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے قائم کردہ عنوان کا بھی یہی مقصد ہے۔
واللہ المستعان۔
آج کل تو امانت دیانت کا جتنا بھی جنازہ نکل جائے کم ہے۔
کتنے دین کے دعویدار ہیں جو امانت دیات سے بالکل کورے ہیں۔
اس حدیث سے غیرمسلموں کے ساتھ لین دین کرنا بھی ثابت ہوا بشرطیکہ کسی خطرے کا ڈر نہ ہو۔
حذیفہ بن یمان سنہ 35 ھ میں مدائن میں فوت ہوئے، شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے چالیس روز بعد آپ کی وفات ہوئی۔
(رضي اللہ عنه)
یہ حدیث علامات نبوت میں سے ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے دین خراب ہونے اور آخر زمانہ میں امانت کے رخصت ہو جانے کا امکان ہے۔
حدیث میں بیان کردہ مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ لوگوں کے لوں سے امانت جاتی رہے گی۔
بالآخر اندھیرا ہی اندھیرا باقی رہ جائے گا۔
آج کل تو امانت ودیانت کا خون کیا جا رہا ہے، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو دین کے دعوے دار ہونے کے باجود امانت ودیانت سے بالکل کورے ہیں۔
جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ امانت ودیانت کے متعلق کسی پر اعتماد اور بھروسا نہ کیا جا سکے، نیز دھوکے باز لوگوں کی کثرت سے ہو جائے تو انسان کو ایسے لوگوں کی فکر کرنے کے بجائے خود اپنی فکر کرنی چاہیے، البتہ فریضہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی جاری رہنا چاہیے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس عنوان اور پیش کردہ حدیث سے یہی مقصد معلوم ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
«. . . قَالَ: يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ . . .»
”. . . فرمایا کہ آدمی ایک نیند سوئے گا اور (اسی میں) امانت اس کے دل سے ختم ہو گی . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الرِّقَاقِ: 6497]
«جَذْر» اصل۔
«الْوكْت» کالا نقطہ۔
«الْمَجْل» چھالا، جو ہاتھ وغیرہ پر زیادہ کام کی وجہ سے نکل آتا ہے۔
«نَفِطَ» بڑا ہونا، بلند ہونا۔
«مُنْتَبراً» پھولا ہوا، بلند۔
فہم الحديث:
نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ پیش گوئی آج ہمیں من و عن مکمل نظر آتی ہے کہ ہر طرف بےایمانی اور بد دیانتی کا بازار گرم ہے، جھوٹ فریب اور دھوکہ دہی عام ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں امانت و دیانت بالکل ختم ہو چکی ہے بلکہ امانت دار آج بھی موجود ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر، اکثریت بےایمانوں کی ہی ہے۔ «العياذ بالله»
متن قسطانی میں یہاں اتنی عبارت اورزیادہ ہے۔
قال الفربري قال أبو جعفر حدثت أبا عبد اللہ فقال سمعت أبا أحمد بن عاصم ....یقول سمعت أبا عبید یقول قال الأصمعي وأبو عمرو و غیرهما جذر قلوب الرجال الجذر الأصل من کل شيئ والوکت أثر الشيئ الیسیر منه والمجل أثر والعمل في الکف إذا غلظ یعنی محمد بن یوسف فربری نے کہا ابو جعفر محمد بن حاتم جو امام بخاری کے منشی تھے ان کی کتابیں لکھا کرتے تھے، کہتے تھے کہ میں نے امام بخاری کو حدیث سنائی تو وہ کہنے لگے میں نے ابو احمد بن عاصم بلخی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابو عبید سے سنا، وہ کہتے تھے عبدالملک بن قریب اصمعی اور ابو عمرو بن علاء قاہری وغیرہ لوگوں نے سفیان ثوری سے کہا جذر کا لفظ جو حدیث میں ہے اس کا معنیٰ جڑ اور وکت کہتے ہیں ہلکے خفیف داغ کو اور مجل وہ موٹا چھالا جو کام کرنے سے ہاتھ میں پڑ جاتا ہے۔
(1)
بعض اہل علم نے بايعت سے بیعت خلافت مراد لی ہے، حالانکہ یہ معنی غلط ہیں کیونکہ عیسائی اور کافر سے یہ کیسے ممکن ہے بلکہ اس سے خرید و فروخت کا معاملہ کرنا ہے۔
(فتح الباري: 406/11) (2)
دیانت داری، مسلمان معاشرے کا ایک اہم کردار ہے، البتہ غیر اسلامی معاشرے میں دھوکا دہی اور فریب و خیانت کو ایک خوبی خیال کیا جاتا ہے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اب قابل اعتماد اور دیانت دار افراد بہت کم رہ گئے ہیں، اس دور میں تو کمیاب ہی نہیں بلکہ نایاب ہیں۔
سوئے ہوئے دل سے دیانت داری کے ختم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ امانت و دیانت بڑی تیزی سے ختم ہوتی چلی جائے گی حتی کہ جو شخص پہلے دیانت دار تھا وہی بددیانت بن جائے گا۔
(3)
آبلے سے تشبیہ اس لیے دی ہے کہ آبلہ پھولا ہوا ہونے کی وجہ سے بظاہر اہمیت کا حامل نظر آتا ہے لیکن وہ اندر سے خالی ہوتا ہے، اسی طرح لوگ بظاہر نیک نظر آئیں گے لیکن ان کے دل نیکی اور دیانت سے خالی ہوں گے۔
: (1)
الْأَمَانَةُ: دیانت یہاں مراد وہ ذمہ داری اور تکلیف ہے جس کا انسان مکلف ہے، اور سورۃ احزاب کی اس آیت ﴿إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ ’’ہم نے آسمانوں اور زمین پر ذمہ داری اور تکلیف پیش کی ہے۔
‘‘ (2)
جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ: جذر جیم پر زبر اور زیر دونوں پڑھے جا سکتے ہیں، یعنی جڑ اور اصل۔
(3)
الْوَكْتُ: ہلکا نشان جو سیاہی مائل ہوتا ہے۔
(4)
مَجْلٌ: میم پر زبر ہے اور جیم پر زیر اور سکون دونوں آ سکتے ہیں، کلہاڑا یا کَسی وغیرہ سے کام کرنے کے نتیجہ میں جو آبلہ ہاتھوں پر ابھر آتا ہے۔
(5)
نَفِطَ: فاء پر زیر ہے، چمڑے اور گوشت کے درمیان پیدا ہونے والا پانی۔
(6)
مُنْتَبِرًا: ابھرا ہوا، اس سے منبر ہے۔
(7)
مَا أَجْلَدَهُ: جلادۃ سے ماخوذ ہے، صلاحیت و استحکام کو کہتے ہیں، طاقتور اور صابر انسان یا عقلمند، کس قدر بہادر اور دلیر ہے، یا مضبوط اور طاقتور ہے، یا ذہین و فطین ہے۔
(8)
مَا أَظْرَفَهُ: ظرافت: دانشمندی، مہارت و حذاقت، کس قدر حاذق، ماہر ہے یا ہوشیار ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
پاس عہد اورتکلیف وذمہ داری کا احساس انسان کی فطرت اورسرشت میںرکھا گیا ہے، اور انسان طبعی اور فطری طور پر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی الوہیت وربوبیت کا پابند سمجھتا ہے، قرآن وسنت سے اس کو مزید تقویت اور تائید حاصل ہوتی ہے۔
(2)
آہستہ آہستہ انسان اپنی فطرت اور سرشت سے بٹتا جاتا ہے اور اس کی فطرت مسخ ہو جاتی ہے جس سے احساس ذمہ داری ختم ہوتا جاتا ہے، اور دل میں سیاہی اور تاریکی طاری ہونا شروع ہوجاتی ہے، او ر آخر کار یہ پاس عہد بالکل ختم ہوجاتا ہے اور اس آبلے کی طرح ہوجاتا ہے جس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔
آج کل لوگوں کی اکثریت کی یہی حالت ہے کہ ان کے اندر احساس ذمہ داری ختم ہوچکا ہے، قرآن وسنت کی پابندی وپاسداری عملا دن بدل مفقود ہو رہی ہے اور ان کی دین میں مد معاملگی بڑھ رہی ہے۔
(3)
جب ذمہ داری اورتکلیف کی پاسدار ختم ہوگی تو انسان کی تعریف وتوصیف کا مدار، علم وعمل یا تقویٰ ودیانت نہیں رہے گی، بلکہ مال ودولت کی کثرت، دلیری وشجاعت اورفصاحت وبلاغت وعہدہ ومنصب باعث مدح بنیں گے، اور آج کل یہ صورت ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہے۔
حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک کی حقیقت تو میں نے دیکھ لی ۱؎، اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: ” امانت لوگوں کے دلوں کے جڑ میں اتری پھر قرآن کریم اترا اور لوگوں نے قرآن سے اس کی اہمیت قرآن سے جانی اور سنت رسول سے اس کی اہمیت جانی “ ۲؎، پھر آپ نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” آدمی (رات کو) سوئے گا اور اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی (اور جب وہ صبح کو اٹھے گا) تو اس کا تھوڑا سا اثر ایک نقطہٰ کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2179]
وضاحت:
1؎:
یعنی اس کا ظہور ہوچکا ہے اور قرآن وسنت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس امانت سے متعلق لوگوں کے دلوں میں مزید پختگی پیدا ہوئی، اور اس سے متعلق ایمانداری اور بڑھ گئی ہے۔
2؎:
اس سے معلوم ہواکہ قرآن کی تشریح وتفسیرخود قرآن سے اورپھرسنت وحدیث نبوی سے سمجھنی چاہئے، اسی طرح قرآن کے سمجھنے میں تیسرا درجہ فہم صحابہ ہےچوتھے درجہ میں تابعین وتبع تابعین ہیں جیسا کہ پیچھے حدیث (2156) سے بھی اس کا معنی واضح ہوتا ہے۔
3؎:
یعنی جس طرح جسم پر نکلے ہوئے پھوڑے کی کھال اس کے اچھا ہونے کے وقت موٹی ہوجاتی ہے اسی طرح امانت کا حال ہوگا، گویا اس امانت کا درجہ اس امانت سے کہیں کم تر ہے جو ایک نقطہ کے برابر رہ گئی تھی، کیوں کہ یہاں صرف نشان باقی رہ گیا ہے
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی ۱؎ اور دوسری کا منتظر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ بیان فرمایا: ” امانت آدمیوں کے دلوں کی جڑ میں اتری (پیدا ہوئی)، (طنافسی نے کہا: یعنی آدمیوں کے دلوں کے بیچ میں اتری) اور قرآن کریم نازل ہوا، تو ہم نے قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کی ۲؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امانت کے اٹھ جانے کے متعلق ہم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” آدمی رات کو سوئے گا تو امانت اس کے دل سے اٹھا لی جائے گی، (اور جب وہ صبح ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4053]
فوائد و مسائل:
(1)
دیانت داری مسلمان کے کردار کی ایک اہم صفت ہے۔
(2)
سوتے ہوئے دل سے دیانت داری کا وصف ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں میں یہ صفت بہت تیزی سے معدوم ہوتی چلی جائے گی حتی کہ جو شخص پہلے دیانت دار تھا ایک ہی وقت میں وہی بددیانت بن جائے گا۔
(3)
آبلےسے تشبیہ اس لیے دی گئی ہے کہ آبلہ پھولا ہوا ہونے کی وجہ سے بظاہر اہمیت کا حامل نظر آتاہے۔
حالانکہ وہ اندر سے خالی ہوتا ہے۔
اسی طرح لوگ بظاہر نیک ہوں گے لیکن ان کے دل نیکی خالی ہوں گے۔
(4)
غیر اسلامی معاشرے میں دھوکا فریب ایک خوبی سمجھا جاتا اور اس کی تعریف کی جاتی ہے۔
مسلمانوں کو ایسے نہیں ہونا چاہیے۔
(5)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اب قابل اعتماد افراد بہت کم رہ گئے ہیں۔
قرآن و حدیث کو علم کہا گیا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت اس وجہ سے بیان ہوئی ہے کہ انہوں نے قرآن و حدیث کو اچھی طرح پڑھا اور وہ تمام امانت دار تھے، ان پر نکتہ چینی کرنا گمراہ لوگوں کا کام ہے۔ اس حدیث سے امانت کی اہمیت بھی ثابت ہوتی ہے، لوگوں میں یہ ختم ہو جائے گی، سبحان اللہ! اس کی علامت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، دور دور تک امانت دار شخص نہیں مل رہا، سب پر ہوس وشہوت اور بے ایمانی سوار ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں امین بنائے، آمین۔