حدیث نمبر: 7272
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ يُبَايِعُهُ : وَأُقِرُّ لَكَ بِذَلِكَ بِالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ عَلَى سُنَّةِ اللَّهِ وَسُنَّةِ رَسُولِهِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ` وہ اس کی بیعت قبول کرتے ہیں اور یہ لکھا کہ میں تیرا حکم سنوں گا اور مانوں گا بشرطیکہ اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کے موافق ہو جہاں تک مجھ سے ممکن ہو گا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة / حدیث: 7272
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7272. سیدنا عبداللہ بن دینار ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عبدالملک بن مروان کوخط لکھا کہ وہ اس کی بیعت کرتے ہیں، (نیز لکھا:) جہاں تک مجھے سے ہوسکے گا تیرا حکم سنوں گا اور اسے تسلیم کروں گا بشرطیکہ وہ اللہ کی شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7272]
حدیث حاشیہ: یہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کی بات ہے۔
جب عبد الملک بن مروان کی خلافت پر لوگوں کا اتفاق ہو گیا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7272 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7272. سیدنا عبداللہ بن دینار ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے عبدالملک بن مروان کوخط لکھا کہ وہ اس کی بیعت کرتے ہیں، (نیز لکھا:) جہاں تک مجھے سے ہوسکے گا تیرا حکم سنوں گا اور اسے تسلیم کروں گا بشرطیکہ وہ اللہ کی شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق ہو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7272]
حدیث حاشیہ:

ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت پرلوگوں کا اتفاق ہوگیا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خط لکھا جو حسب ذیل مضمون پر مشتمل تھا: ’’میں اللہ کےبندے امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ عبدالملک بن مروان کے لیے سمع واطاعت کا اقرار کرتا ہوں بشرط یہ کہ اس کے اوامر اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہوں۔
میں ان پر عمل پیرا رہوں گا جتنی میری طاقت ہوگی، اور میرے بیٹے بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأحکام، حدیث: 7205)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گڑ بڑ کے دوران میں کسی کی بیعت نہیں کرتے تھے، غالباً اسی وجہ سے انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سے کسی کی بیعت نہیں کی۔
جب یزید بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر لوگوں کا اتفاق ہوگیا تو اس کی بیعت کرلی۔
اسی طرح جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مروان بن حکم کا باہمی اختلاف تھا تو ان سے الگ تھلگ رہے۔
جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد عبدالملک بن مروان کی خلافت پراتفاق رائے ہوگیا تو آپ نے ان کی بیعت کی۔
اس میں کتاب وسنت پر عمل پیرا ہونے کی شرط ہے، اس لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث یہاں بیان کی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7272 سے ماخوذ ہے۔