صحيح البخاري
كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة— کتاب: اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
( بَابٌ: ) باب: ۔۔۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ الْغَدَ حِينَ بَايَعَ الْمُسْلِمُونَ أَبَا بَكْرٍ وَاسْتَوَى عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ قَبْلَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَاخْتَارَ اللَّهُ لِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عِنْدَهُ عَلَى الَّذِي عِنْدَكُمْ وَهَذَا الْكِتَابُ الَّذِي هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَكُمْ ، فَخُذُوا بِهِ تَهْتَدُوا وَإِنَّمَا هَدَى اللَّهُ بِهِ رَسُولَهُ " .´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل بن خالد نے ، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے وہ خطبہ سنا جو انہوں نے وفات نبوی کے دوسرے دن پڑھا تھا ، جس دن مسلمانوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی ۔ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سے پہلے خطبہ پڑھا پھر کہا : امابعد ! اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے لیے وہ چیز ( آخرت ) پسند کی جو اس کے پاس تھی اس کے بجائے جو تمہارے پاس تھی یعنی دنیا اور یہ کتاب اللہ موجود ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے رسول کو دین و سیدھا راستہ بتلایا پس اسے تم تھامے رہو تو ہدایت یاب رہو گے ۔ یعنی اس راستے پر رہو گے جو اللہ نے اپنے پیغمبر کو بتلایا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
قرآن کا مطلب حدیث سے کھلتا ہے تو قرآن اور حدیث یہی دین کی اصلیں ہیں۔
ہر مسلمان کو ان دونوں کو تھامنا یعنی سمجھ کر انہی کے موافق اعتقاد اور عمل کرنا ضرور ہے جس شخص کا اعتقاد یا عمل قرآن اور حدیث کے موافق نہ ہو‘ وہ کبھی اللہ کا ولی اور مقرب بندہ نہیں ہو سکتا اور جس شخص میں جتنا اتباع قرآن وحدیث زیادہ ہے اتنا ہی ولایت میں اس کا درجہ بلند ہے۔
مسلمانو! خوب سمجھ رکھو موت سر پر کھڑی ہے اور آخرت میں پروردگار اور اپنے پیغمبر کے سامنے حاضر ہونا ضرور ہے‘ ایسا نہ ہو کہ تم وہاں شرمندہ بنو اور اس وقت کی شرمندگی کچھ فائدہ نہ دے۔
دیکھو یہی قرآن اور حدیث کی پیروی تم کو نجات دلوانے والی اور تمہارے بچاؤ کے لیے ایک عمدہ دستاویز ہے۔
باقی سب چیزیں ڈھونگ ہیں۔
کشف وکرامات‘ تصور شیخ‘ درویشی کے شطحیات دوسرے خرافات جیسے حال قال نیاز اعراس میلے ٹھیلے چراغاں صندل یہ چیزیں کچھ کام آنے والی نہیں ہیں۔
ایک شخص نے حضرت جنید رحمہ اللہ کو جو رئیس اولیاء تھے خواب میں دیکھا پوچھا کہا کیا گزری؟ انہوں نے کہا وہ درویشی کے حقائق اور دقائق اور فقیری کے نکتے اور ظرائف سے گئے گزرے کچھ کام نہیں آئے۔
چند رکعتیں تہجد کی جو ہم سحر کے قریب (سنت کے موافق)
پڑھا کرتے تھے‘ انہوں نے ہی ہم کو بچایا۔
یا اللہ! قرآن اور حدیث پر ہم کو جمائے اور شیطانی علوم اور وسوسوں سے بچائے رکھ‘ آمین۔
1۔
ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ جس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی، اس سے اگلے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا جبکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خاموش تھے، کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے، آپ نےفرمایا: ہم چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں زندہ رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقت کرتے لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ برحق ہے۔
اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی بدولت ہدایت کا راستہ پایا تھا۔
(صحیح البخاري، الأحکام، حدیث 7219)
2۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر لوگوں نے قرآن کوچھوڑدیا تو گمراہ ہو جائیں گے اور قرآن کا مطلب حدیث سے کھُلتا اورواضح ہوتا ہے تو قرآن وحدیث ہی دین کی اصل بنیاد ہیں۔
ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑ لے اور ان کے مطابق عمل کرے۔
جس شخص کا اعتقاد یا عمل قرآن وحدیث کے مطابق نہیں ہوگا وہ کبھی راہ نجات سے ہمکنار نہیں ہوگا۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث سے یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ کتاب وسنت ہی دین کی اصل بنیاد ہیں، ایک مسلمان کو انھی کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔