حدیث نمبر: 7256
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : " وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبید بن حنین نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` قبیلہ انصار کے ایک صاحب تھے ( اوس بن خولیٰ نام ) جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شرکت نہ کر سکتے اور میں شریک ہوتا تو انہیں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبریں بتاتا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شریک نہ ہو پاتا اور وہ شریک ہوتے تو وہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبر مجھے بتاتے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب أخبار الآحاد / حدیث: 7256
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7256. سیدنا عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: انصار میں سے ایک آدمی تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں شرکت نہ کرتا اور میں ہوتا تو جو کچھ میں رسول اللہ ﷺ سے سنتا اسے آکر بیان کر دیتا اور جب میں غائب ہوتا اور وہ مجلس میں شریک ہوتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے سنتا وہ مجھے بیان کر دیتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7256]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے خبر واحد کا حجت ہونا نکلتا ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کی خبر پر یقین کرتے اور وہ حضرت کی خبر پر اعتماد کرتا تھا۔
پر خبر واحد پر تواتراً عمل ہوتا آرہا ہے مگر مقلدین کو اللہ عقل دے کہ وہ کیوں ایک صحیح بات کی زبردستی سے منکر ہو گئے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7256 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7256. سیدنا عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: انصار میں سے ایک آدمی تھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں شرکت نہ کرتا اور میں ہوتا تو جو کچھ میں رسول اللہ ﷺ سے سنتا اسے آکر بیان کر دیتا اور جب میں غائب ہوتا اور وہ مجلس میں شریک ہوتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے سنتا وہ مجھے بیان کر دیتا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7256]
حدیث حاشیہ:

اس شخص کا نام اوس بن خولی انصاری تھا۔
ان پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پورا پورا اعتماد تھا اور انھیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر کامل یقین ہوتا تھا۔
یہ دونوں حضرات ایک دوسرے پر اعتماد کرتے اور ایک دوسرے کی باتوں پر یقین کرتے تھےاور جو کچھ سنتے اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔

اس حدیث سے خبر واحد کے قابل حجت ہونے کا ثبوت ملتا ہے لیکن کچھ لوگ اس کے لیے شرائط لگاتے ہیں جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے بہر حال خبر واحد پر یقین اور عمل کا طریقہ تواتر سے چلا آرہا ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7256 سے ماخوذ ہے۔