حدیث نمبر: 7244
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا ، أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اگر ہجرت ( کی فضیلت ) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد بننا ( پسند کرتا ) اور اگر دوسرے لوگ کسی وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التمني / حدیث: 7244
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3779 | صحيفه همام بن منبه: 57

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3779 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3779. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر انصار کسی میدان یا نشیب میں چلیں تو میں بھی انصار کے اختیار کردہ میدان اور نشیبی علاقے میں چلوں گا۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔‘‘ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے یہ بات خلاف واقعہ نہیں فرمائی کیونکہ انصار نے آپ کو رہنے کے لیے جگہ دی اور آپ کی مدد کی۔ یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3779]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ انصار کا درجہ بہت بڑا ہے کہ رسول کریمﷺنے اس گروہ میں ہونے کی تمنا ظاہر فرمائی انصار کی عند اللہ قبولیت کا یہ کھلا ہوا ثبوت ہے کہ اسلام اور قرآن کے ساتھ ان کانام قیامت تک خیر کے ساتھ زندہ ہے۔
آج بھی انصاری بھائی جہاں بھی ہیں دینی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3779 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3779 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3779. حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’اگر انصار کسی میدان یا نشیب میں چلیں تو میں بھی انصار کے اختیار کردہ میدان اور نشیبی علاقے میں چلوں گا۔ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار کا ایک فرد ہوتا۔‘‘ حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ نے یہ بات خلاف واقعہ نہیں فرمائی کیونکہ انصار نے آپ کو رہنے کے لیے جگہ دی اور آپ کی مدد کی۔ یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3779]
حدیث حاشیہ:

اس حدیث سے مقصود انصار کی فضیلت بیان کرنا ہے کہ انصار ایسے مقام عظیم کو پہنچے ہیں۔
اگر رسول اللہ ﷺ مہاجرین میں سے نہ ہوتے تو آپ خود کو انصار سے شمار کرتے۔
حاصل یہ ہے کہ اگر آپ کو ہجرت کے باعث انصار پر فضیلت نہ ہوتی تو آپ کا شمار انصار میں سے ہوتا۔

یہ بھی احتمال ہے کہ انصار رسول اللہﷺ کے ماموں تھے اس نسبی تعلق کی بنا پر آپ نے فرمایا کہ اگر ہجرت رکاوٹ نہ ہوتی تو میں خود کو انصار کی طرف منسوب کرتا۔
رسول اللہ ﷺ کی تواضع اور انکسارہے اور لوگوں کو انصار کی عزت افزائی کرنے کی طرف ترغیب دینا ہے تاکہ وہ ان کا احترام بجا لائیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3779 سے ماخوذ ہے۔