صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ الْحُكْمِ فِي الْبِئْرِ وَنَحْوِهَا: باب: کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا۔
فَجَاءَ الْأَشْعَثُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ يُحَدِّثُهُمْ ، فَقَالَ : فِيَّ نَزَلَتْ وَفِي رَجُلٍ خَاصَمْتُهُ فِي بِئْرٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ بَيِّنَةٌ ، قُلْتُ : لَا ، قَالَ : فَلْيَحْلِفْ ، قُلْتُ : إِذًا يَحْلِفُ ، فَنَزَلَتْ : إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ سورة آل عمران آية 77 . اتنے میں اشعث رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ۔ ابھی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سے حدیث بیان کر ہی رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی اور ایک شخص کے بارے میں میرا ان سے کنویں کے بارے میں جھگڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مجھ سے ) کہا کہ تمہارے پاس کوئی گواہی ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر فریق مقابل کی قسم پر فیصلہ ہو گا ۔ میں نے کہا کہ پھر تو یہ ( جھوٹی ) قسم کھا لے گا ۔ چنانچہ آیت «إن الذين يشترون بعهد الله» ” بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد کو “ الخ نازل ہوئی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
یہ حدیث بھی اس امر کی دلیل ہے کہ حاکم کا فیصلہ ظاہری طور پر نافذ ہوگا لیکن وہ حرام کو حلال نہیں کرسکے گا اور نہ ممنوع چیز کو مباح ہی کرے گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اُمت کو جھوٹی قسم اٹھا کر کسی دوسرے کا حق ہتھیانے سے منع فرمایا ہے اور اس پر سخت وعید سنائی ہے۔
قرآن کریم کی وعید تو اس معاملے میں بہت سنگین ہے کہ اللہ ایسے شخص سے گفتگو نہ کرے گا اور نہ اسے پاکیزہ ہی قرار دے گا بلکہ اسے سنگین عذاب دے گا۔
اگر قاضی کا فیصلہ باطن میں بھی نافذ ہوتا اور حرام کو حلال کر دیتا تو اسے اللہ تعالیٰ سے شرف کلام سے محروم نہ کیا جاتا۔
2۔
بہرحال اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنویں کے متعلق فیصلہ فرمایا۔
قاضی کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے مقدمات کی بھی سماعت کرے اور ان کا فیصلہ کرے۔