صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ أَمْرِ الْوَالِي إِذَا وَجَّهَ أَمِيرَيْنِ إِلَى مَوْضِعٍ أَنْ يَتَطَاوَعَا وَلاَ يَتَعَاصَيَا: باب: جب حاکم اعلیٰ دو شخصوں کو کسی ایک جگہ ہی کا حاکم مقرر کرے تو انہیں یہ حکم دے کہ وہ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِي ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا ، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا ، وَتَطَاوَعَا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى : إِنَّهُ يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا الْبِتْعُ ، فَقَالَ : كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " ، وَقَالَ النَّضْرُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .´ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ ( تبع ) بنایا جاتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ نضر بن شمیل ، ابوداؤد طیالسی ، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا ، ان سے سعید نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ایک روایت میں وضاحت ہے کہ ملک یمن دوحصوں میں تقسیم تھا،(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 4341۔
4342)
بالائی حصے میں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور نشیبی علاقے میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تعینات کیا تھا۔
دونوں حضرات خیر سگالی کے طور پر ایک دوسرے کی ملاقات کے لیے آیا جایا کرتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں تلقین فرمائی تھی کہ حکومتی معاملات میں ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرنا بلکہ اتفاق واتحاد اور یکجہتی سے معاملات سرانجام دینا۔
اگرتمہارا اختلاف ہو جائے تو بحث وتمحیص سے درست رائے پر اتفاق کرلینا، بصورت دیگر حاکم اعلیٰ کے نوٹس میں لانا۔
2۔
بہرحال اختلاف سے ہر ممکن طریقے سے بچنے کی ترغیب دی تاکہ لوگوں کو ان کے خلاف سر اٹھانے کی ہمت نہ ہو۔
(فتح الباري: 203/13)
جب تک اس ہدایت پر عمل رہا‘ مسلمان دنیا پر حکمران رہے اور جب سے باہمی تنازع و افتراق شروع ہوا‘ امت کی قوت پارہ پارہ ہو کر رہ گئی۔
قرآن مجید کی بہت سی آیات اور احادیث نبوی کی بہت سی مرویات موجود ہیں‘ جن میں امت کو اتفاق باہمی کی تاکید کی گئی اور اتفاق و اتحاد اور مودت باہمی کے فوائد سے آگاہ کیا گیا ہے اور تنازع و افتراق کی خرابیوں سے خبر دی گئی ہے۔
خود آیت باب میں غیر معمولی تنبیہ موجود ہے کہ تنازع کا نتیجہ یہ ہے کہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم بزدل بن جاؤ گے۔
ہوا اکھڑنے کا مطلب ظاہر ہے کہ غیر اقوام کی نظروں میں بے وقعت ہو جاؤ گے اور جرأت و بہادری مفقود ہو کر تم پر بزدلی چھا جائے گی۔
دور حاضرہ میں عربوں کے باہمی تنازع کا نتیجہ سقوط بیت المقدس کی شکل میں موجود ہے کہ مٹھی بھر یہودی کروڑوں مسلمانوں کو نظر انداز کرکے مسجد اقصیٰ پر قابض بنے بیٹھے ہیں۔
حدیث معاذ کی ہدایات بھی بہت سے فوائد پر مشتمل ہیں۔
لوگوں کے لئے شرعی دائرہ کے اندر اندر ہر ممکن آسانی پیدا کرنا‘ سختی کے ہر پہلو سے بچنا‘ لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا‘ کوئی نفرت پیدا کرنے کا کام نہ کرنا‘ یہ وہ قیمتی ہدایات ہیں جو ہر عالم‘ مبلغ‘ خطیب‘ مدرس‘ مرشد‘ ہادی کے پیش نظر رہنی ضروری ہیں۔
ان علماء و مبلغین کے لئے بھی غور کا مقام ہے جو سختیوں اور نفرتوں کے پیکر ہیں۔
ھدام اللہ۔
رسول اللہ ﷺ اپنے حکام کو ہدایات دیتے تھے کہ وہ امور اختیار کریں جن میں لوگوں کے لیے آسانی ہو،ان کے لیے کسی قسم کی مشقت یا سختی کا پہلو نہ ہو۔
انھیں اچھی خبر دی جائیں جن سے ان کے حوصلے بلند ہوں اور ایسی باتیں نہ کی جائیں جن کی وجہ سے وہ باہمی نفرت کا شکار ہوجائیں،نیز ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کریں اور باہمی اختلاف سے بچیں کیونکہ اس سے افراتفری پھیلتی ہے۔
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے صحابہ میں سے کسی کو اپنے کام کے لیے بھیجتے تو فرماتے، خوشخبری دینا، نفرت مت دلانا، آسانی اور نرمی کرنا، دشواری اور مشکل میں نہ ڈالنا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4835]
قائد اور صاحبِ منصب کے لیئے خاص نبوی ہدایت یہ ہے کہ اپنے ماتحت افراد کے لیئے نرمی اور آسانی پیدا کرنے والا بنے۔
بے مقصد سختی مخالفت کا باعث بنتی ہے۔
جو نفرت لاتی ہے اور کسی بھی نظم اور اجتماعیت کے لیے سم قاتل ہے۔