صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ رِزْقِ الْحُكَّامِ وَالْعَامِلِينِ عَلَيْهَا: باب: حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا۔
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ ، فَأَقُولُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا ، فَقُلْتُ : أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ ، فَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَالَا ، فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ .´اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں کہتا کہ آپ اسے دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے ایسے شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کر دو ۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہشمند نہ ہو اور نہ اسے تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑا کرو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
کیوں کہ صدقہ کا ثواب بھی اس میں حاصل ہوا۔
محققین فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ مال کے رد کرنے میں بھی نفس کو ایک غرور حاصل ہوتا ہے۔
اگر ایسا ہو تو اسے مال لے لینا چاہئے پھر لے کر خیرات کردے یہ نہ لینے سے افضل ہوگا۔
آج کل دینی خدمات کرنے والوں کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ تنخواہ بقدر کفالت لیں، غنی ہوں تو نہ لیں یا لے کر خیرات کردیں۔
1۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی یہ حدیث پہلے ایک واقعے کے ضمن میں بیان ہوئی تھی۔
اب امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے مستقل طور پر بیان کیا ہے تاکہ اس کی استنادی حیثیت مضبوط ہو جائے۔
اس حدیث کے مطابق اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ مال نہ لیتے اور اس واپس کر دیتے تو اس کی وہ افادیت نہ ہوتی جو اس کے لینے اور صدقہ کردینے میں ہے۔
2۔
بعض دفعہ مال واپس کر دینے میں بھی نفس میں ایک غرور سا پیدا ہو جاتا ہے اگر کوئی شخص اس طرح کا تکبر اپنے اندر محسوس کرے تو اسے لے لینا چاہیے پھر اسے خیرات کردے۔
ایسے حالات میں اس کا لینا اس کے نہ لینے سے کہیں بہتر ہے آج کل دینی خدمات سر انجام دینے والوں کے لیے بھی یہی بہتر ہے کہ وہ ضرورت کے مطابق تنخواہ ضرورلیں۔
اگر صاحب حیثیت ہیں تو بھی وصول کر لیں پھر اسے خیرات کردیں۔