صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ هَلْ يَقْضِي الْحَاكِمُ أَوْ يُفْتِي وَهْوَ غَضْبَانُ: باب: قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں۔
حدیث نمبر: 7158
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ : كَتَبَ أَبُو بَكْرَةَ إِلَى ابْنِهِ ، وَكَانَ بِسِجِسْتَانَ ، بِأَنْ لَا تَقْضِيَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ " .مولانا داود راز
´ہم سے آدم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن ابن ابی بکرہ سے سنا کہا کہ` ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے ( عبیداللہ ) کو لکھا اور وہ اس وقت سجستان میں تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرنا جب تم غصہ میں ہو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7158
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1717 | سنن ترمذي: 1334 | سنن ابي داود: 3589 | سنن نسائي: 5408 | سنن ابن ماجه: 2316 | معجم صغير للطبراني: 1153 | مسند الحميدي: 810
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7158. سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکرہ ؓ نے اپنے بیٹے کو لکھا جبکہ وہ سجستان میں تھا کہ بحالت غصہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”کوئی حاکم،بحالت غصہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7158]
حدیث حاشیہ: جج صاحبان کے لیے بہت بڑی نصیحت ہے، غصہ کی حالت میں انسانی ہوش و حواس مختلف ہوجاتے ہیں اس لیے اس حالت میں فیصلہ نہیں دینا چاہئے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7158 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7158. سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکرہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکرہ ؓ نے اپنے بیٹے کو لکھا جبکہ وہ سجستان میں تھا کہ بحالت غصہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ نے فرمایا: ”کوئی حاکم،بحالت غصہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:7158]
حدیث حاشیہ:
1۔
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا یا فتوی دینا اس لیے منع ہے کہ غصے کی وجہ سے طبیعت میں تبدیلی آجاتی ہے اور حواس پوری طرح کام نہیں کرتے جبکہ فیصلہ کرنے کے لیےانسان کا ہراعتبار سے یکسو ہونا ضروری ہے۔
غصے کی حالت میں غلطی کا امکان ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں فیصلہ کرنے سے منع فرمایاہے ہر وہ چیز جس سے طبیعت میں اس قسم کی تبدیلی آجائے۔
جو سوچ بچار کو متاثر کردے مثلاً: بھوک کا غلبہ نیند کی شدت یا بیماری کی حالت وغیرہ وہ غصے کے حکم میں ہے لیکن اگر کوئی غصے کی حالت میں صحیح فیصلہ کردے تو وہ نافذ العمل ہوگا۔
2۔
اس حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستثنیٰ ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں حق کے مطابق ہی فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک انصاری سے پانی کی باری کے متعلق جھگڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےغصے کی حالت میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔
اس کی وضاحت آئندہ حدیث میں آئے گی۔w
1۔
غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا یا فتوی دینا اس لیے منع ہے کہ غصے کی وجہ سے طبیعت میں تبدیلی آجاتی ہے اور حواس پوری طرح کام نہیں کرتے جبکہ فیصلہ کرنے کے لیےانسان کا ہراعتبار سے یکسو ہونا ضروری ہے۔
غصے کی حالت میں غلطی کا امکان ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حالت میں فیصلہ کرنے سے منع فرمایاہے ہر وہ چیز جس سے طبیعت میں اس قسم کی تبدیلی آجائے۔
جو سوچ بچار کو متاثر کردے مثلاً: بھوک کا غلبہ نیند کی شدت یا بیماری کی حالت وغیرہ وہ غصے کے حکم میں ہے لیکن اگر کوئی غصے کی حالت میں صحیح فیصلہ کردے تو وہ نافذ العمل ہوگا۔
2۔
اس حکم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مستثنیٰ ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں حق کے مطابق ہی فیصلہ کرتے تھے جیسا کہ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک انصاری سے پانی کی باری کے متعلق جھگڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےغصے کی حالت میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔
اس کی وضاحت آئندہ حدیث میں آئے گی۔w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7158 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1717 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن سے سجستان کے قاضی عبیداللہ بن ابی بکرہ کو لکھوایا کہ دو فریقوں کے درمیان فیصلہ غصہ کی حالت میں نہ کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ’’تم میں سے کوئی دو فریقوں کے درمیان، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4490]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ قاضی کو اس حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، جس میں وہ صحیح غوروفکر نہ کر سکے اور اس کا مزاج اعتدال پر قائم نہ رہ سکے، مثلاً اس کو بہت زیادہ بھوک ستا رہی ہو یا پیٹ انتہائی بھرا ہو، پیاس کا غلبہ ہو، بہت زیادہ غم و حزن ہو یا بہت زیادہ خوش ہو یا اس کا دل و دماغ کسی اور مسئلہ میں الجھا ہوا ہو اور حالت غضب کی تخصیص، بقول حافظ ابن حجر اس لیے کی ہے کہ وہ نفس پر غلبہ پا لیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا مقابلہ مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے وہ حق سے تجاوز کر سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1717 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1334 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´قاضی غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔`
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کو جو قاضی تھے خط لکھا کہ تم غصہ کی حالت میں فریقین کے بارے میں فیصلے نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلے نہ کرے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1334]
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے باپ نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کو جو قاضی تھے خط لکھا کہ تم غصہ کی حالت میں فریقین کے بارے میں فیصلے نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” حاکم غصہ کی حالت میں فریقین کے درمیان فیصلے نہ کرے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1334]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ غصے کی حالت میں فریقین کے بیانات پرصحیح طورسے غوروفکرنہیں کیا جا سکتا، اسی پرقیاس کرتے ہوئے ہر اس حالت میں جوفکرانسانی میں تشویش کا سبب ہو فیصلہ کرنا مناسب نہیں اس لیے کہ ذہنی تشویش کی حالت میں صحیح فیصلہ تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس لیے کہ غصے کی حالت میں فریقین کے بیانات پرصحیح طورسے غوروفکرنہیں کیا جا سکتا، اسی پرقیاس کرتے ہوئے ہر اس حالت میں جوفکرانسانی میں تشویش کا سبب ہو فیصلہ کرنا مناسب نہیں اس لیے کہ ذہنی تشویش کی حالت میں صحیح فیصلہ تک پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1334 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3589 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غصے کی حالت میں قاضی کا فیصلہ کیسا ہے؟`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3589]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ” غصے کی حالت میں قاضی دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3589]
فوائد ومسائل:
فائدہ: طیش کی حالت میں انسان بالعموم حد اعتدال سے تجاوز کرجاتا ہے۔
تو اس کیفیت میں فیصلہ عین ممکن ہے کہ عدل کے خلاف ہو، لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔
انتہائی غم۔
شدید فکرمندی۔
کسی بیماری کے سبب تکلیف۔
اور درد اور اسی طرح کی کیفیتیں جن میں یکسوئی متاثر ہو غصے پر قیاس کی جایئں گی۔
فائدہ: طیش کی حالت میں انسان بالعموم حد اعتدال سے تجاوز کرجاتا ہے۔
تو اس کیفیت میں فیصلہ عین ممکن ہے کہ عدل کے خلاف ہو، لہذا اس سے بچنا ضروری ہے۔
انتہائی غم۔
شدید فکرمندی۔
کسی بیماری کے سبب تکلیف۔
اور درد اور اسی طرح کی کیفیتیں جن میں یکسوئی متاثر ہو غصے پر قیاس کی جایئں گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3589 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5408 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حاکم کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔`
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5408]
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ” کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5408]
اردو حاشہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے کسی بھی شخص کو غصے کی حالت میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں ہے۔ جس غصے کی حالت میں حاکم اور قاضی و جج وغیرہ کو فیصلہ کرنے سے روکا گیا ہے، اس غصے سے مراد زیادہ غصہ ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو وقتی طور پر ختم کر دیتا ہے اور غلط فیصلے کا خطرہ ہوتا ہے، البتہ معمولی غصہ جوکسی مجرم کا جرم سننے سے فطرتاً آ جاتا ہے، فیصلے سے مانع نہیں۔ غصے کے علاوہ بھی جو چیز سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثر ڈالے، مثلاً: زیادہ بھوک، پیاس، پریشانی، بیماری اور نیند کا غلبہ وغیرہ ان کا حکم بھی غصے والا ہی ہے۔ بہتر ہے کہ فیصلہ مقدمےکی سماعت سے الگ مجلس میں لکھا جائے تا کہ وقتی جذبات اثر انداز نہ ہو سکیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5408 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2316 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´غصہ کی حالت میں حاکم و قاضی فیصلہ نہ کرے۔`
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے “ ۱؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: ” حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2316]
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے “ ۱؎۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: ” حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2316]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
غصے کی حالت میں انسان کی ذہنی حالت درست نہیں رہتی اور جذبات کی وجہ سے معاملات کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ممکن نہیں رہتا اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ اس حالت میں دیا ہوا فیصلہ درست نہیں ہو گا۔
(2)
نبی اکرمﷺ اس بات سے معصوم تھے کہ جذبات یا غصے میں غلط فیصلہ دیں اس لیے نبی ﷺ ناراضی محسوس فرما رہے تھے دیکھیے: (صحیح البخاري، الأحکام، باب ھل یقضی القاضی او یفتی وھو غضبان؟حدیث: 7159)
فوائد و مسائل: (1)
غصے کی حالت میں انسان کی ذہنی حالت درست نہیں رہتی اور جذبات کی وجہ سے معاملات کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا ممکن نہیں رہتا اس لیے خطرہ ہوتا ہے کہ اس حالت میں دیا ہوا فیصلہ درست نہیں ہو گا۔
(2)
نبی اکرمﷺ اس بات سے معصوم تھے کہ جذبات یا غصے میں غلط فیصلہ دیں اس لیے نبی ﷺ ناراضی محسوس فرما رہے تھے دیکھیے: (صحیح البخاري، الأحکام، باب ھل یقضی القاضی او یفتی وھو غضبان؟حدیث: 7159)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2316 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 810 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
810- سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں۔ میرے والد نے مجھے ایک خط املاء کروایا۔ جو انہوں نے میرے بھائی کو لکھا تھا۔ جو کسی علاقے کا گورنر تھا (اس میں یہ تحریر تھا) کہ تم غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دینا کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ثالث کے لیے یہ بات مناسب نہیں ہے، وہ دو آدمیوں کے درمیان اس وقت فیصلہ دے جب وہ غصے کی حالت میں ہو۔“ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:810]
فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ حالت غصہ میں قاضی کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
اس سے معلوم ہوا کہ حالت غصہ میں قاضی کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 810 سے ماخوذ ہے۔