صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ الْحَاكِمِ يَحْكُمُ بِالْقَتْلِ عَلَى مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَ الإِمَامِ الَّذِي فَوْقَهُ: باب: ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 7156
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قرہ نے ، ان سے حمید بن ہلال نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7156
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7156. سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں (یمن) بھیجا تھا اور ان کے بعد سیدنا معاز بن جبل ؓ کو بھی روانہ کیا تھا[صحيح بخاري، حديث نمبر:7156]
حدیث حاشیہ: حضرت ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری رضی اللہ عنہ مکہ میں اسلام لائے اور ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے پھر اہل سفینہ کے ساتھ خیبر میں خدمت نبوی میں واپس ہوئے۔
سنہ52ھ میں وفات پائی۔
رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
سنہ52ھ میں وفات پائی۔
رضی اللہ عنہ و ارضاہ۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7156 سے ماخوذ ہے۔