صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ الْحَاكِمِ يَحْكُمُ بِالْقَتْلِ عَلَى مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ دُونَ الإِمَامِ الَّذِي فَوْقَهُ: باب: ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 7155
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ " .مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن خالد ذہلی نے بیان کیا ، کہا ہم سے انصاری محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ` قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہتے تھے جیسے امیر کے ساتھ کوتوال رہتا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7155. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد ؓ کی حیثیت نبی ﷺ کے سامنے اس طرح تھی جسیے امیر کے ساتھ کو توال رہتا ہے[صحيح بخاري، حديث نمبر:7155]
حدیث حاشیہ: بعض کوتوال اچھے بھی ہوتے ہیں اور حاکم اعلیٰ کی طرف سے وہ مجاز بھی ہوتے ہیں، اس میں یہی اشارہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7155 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7155. سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ قیس بن سعد ؓ کی حیثیت نبی ﷺ کے سامنے اس طرح تھی جسیے امیر کے ساتھ کو توال رہتا ہے[صحيح بخاري، حديث نمبر:7155]
حدیث حاشیہ:
صاحب شرط کے معنی صاحب علامات کے ہیں جیسا کہ سپاہیوں پرخاص نشانات ہوتے ہیں۔
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رہتے تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امور و احکام کو نافذ کرتے تھے۔
کچھ کو توال بہت زیرک اور دانا ہوتے ہیں۔
انھیں حاکم اعلیٰ کی طرف سے حددود قصاص کے فیصلے کرنے کی اجازت ہوتی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔w
صاحب شرط کے معنی صاحب علامات کے ہیں جیسا کہ سپاہیوں پرخاص نشانات ہوتے ہیں۔
حضرت قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رہتے تھےاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امور و احکام کو نافذ کرتے تھے۔
کچھ کو توال بہت زیرک اور دانا ہوتے ہیں۔
انھیں حاکم اعلیٰ کی طرف سے حددود قصاص کے فیصلے کرنے کی اجازت ہوتی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7155 سے ماخوذ ہے۔