مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 7152
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ طَرِيفٍ أَبِي تَمِيمَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ صَفْوَانَ ، وَجُنْدَبًا وَأَصْحَابَهُ وَهُوَ يُوصِيهِمْ ، فَقَالُوا : هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : وَمَنْ يُشَاقِقْ يَشْقُقِ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالُوا : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَأْكُلَ إِلَّا طَيِّبًا فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يُحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ بِمِلْءِ كَفِّهِ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ فَلْيَفْعَلْ " ، قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ : مَنْ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جُنْدَبٌ ، قَالَ : نَعَمْ جُنْدَبٌ .
مولانا داود راز

´ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے ، ان سے جریری نے ، ان سے ظریف ابوتمیمہ نے بیان کیا کہ` میں صفوان اور جندب اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا ۔ صفوان اپنے ساتھیوں ( شاگردوں ) کو وصیت کر رہے تھے ، پھر ( صفوان اور ان کے ساتھیوں نے جندب رضی اللہ عنہ سے ) پوچھا : کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو لوگوں کو ریاکاری کے طور پر دکھانے کے لیے کام کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری کا حال لوگوں کو سنا دے گا اور فرمایا کہ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا ، پھر ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انسان کے جسم میں اس کا پیٹ سڑتا ہے پس جو کوئی طاقت رکھتا ہو کہ پاک و طیب کے سوا اور کچھ نہ کھائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے اور جو کوئی طاقت رکھتا ہو وہ چلو بھر لہو بہا کر ( یعنی ناحق خون کر کے ) اپنے آپ کو بہشت میں جانے سے روکے ۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ سے پوچھا ، کون صاحب اس حدیث میں یہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ؟ کیا جندب کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں وہی کہتے ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأحكام / حدیث: 7152
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7152. سیدنا طریف ابو تمیمہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں صفوان،ان کے ساتھیوں اور سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا جبکہ وہ ان کو وصیت کررہے تھے،پھر ان ساتھیوں نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے، آپ نے فرمایا: جو شخص لوگوں کو سنانے کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا بھید کھول دے گا اور جولوگوں کو مشقت میں ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مصیبت میں مبتلا کردے گا۔پھر ان لوگوں نے کہا: آپ ہمیں وصیت کریں تو انہوں نے فرمایا: سب سے پہلے(قبر میں) انسان کا پیٹ کا خراب ہوگا۔لہذا جو شخص حلال وپاکیزہ چیز کھانے کی طاقت رکھتا ہوتو وہ ضرور حلال اور پاک چیز کھائے۔اور شخص چاہتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان چلو بھر خون حائل نہ ہوجو اس نے ناحق بہایا تو وہ ایسا ضرور کرے۔
(فربری نے کہا:) میں نے ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) سے پوچھا: کون صاحب اس حدیث میں کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:7152]
حدیث حاشیہ:

ایک روایت میں ہے کہ حضرت جندب بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور حکومت میں عسعس بن سلامہ کی طرف پیغام بھیجا کہ وہ شورش برپا کرنے والوں کو جمع کریں تاکہ میں انھیں حدیث بیان کروں،چنانچہ خوارج کے سرغنوں،یعنی نافع بن ازرق،ابوبلال مرد اس،نجدہ اور صالح بن مشرح کو جمع کیا گیا تو انھوں نے ان لوگوں کے سامنے مذکورہ حدیث بیان کی۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب انھوں نے وعظ سنا تو رونے لگے۔
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اگر یہ سچے ہیں تو میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو نجات یافتہ نہیں پایا۔
(صحیح مسلم الایمان حدیث 279(97)
وفتح الباری 13/161،162)
دراصل یہ لوگ فتنہ برپا کرنے والے تھے اور انتہائی درجہ کے پاکباز معلوم ہوتے تھے جب وہ وعظ سن کر رونے لگے تو انھوں نے ان کی ریاکاری کو محسوس کیا اور فرمایا: اگر یہ سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں نجات یافتہ ہیں۔

بہرحال ان خوارج نے مسلمانوں کا بے دریغ خون بہایا،بچوں،عورتوں اور لوگوں کا قتل عام کیا۔
ہمارے رجحان کے مطابق حدیث بالا کا یہ مفہوم ہے کہ جس نے مسلمانوں کےدرمیان اختلاف ڈالا اوراپنے لیے کسی الگ راستے کا انتخاب کیا جو سبیل المومنین (اہل ایمان کے راستے)
کے علاوہ ہوتو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے سخت مصیبت سے دوچار کرے گا کیونکہ خوارج نے جوحالات پیدا کررکھے تھے ان کے پیش نظر یہی مفہوم مناسب ہے۔
واللہ اعلم۔w
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7152 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔