صحيح البخاري
كتاب الأحكام— کتاب: حکومت اور قضا کے بیان میں
بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ: باب: حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ " ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَان ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَهُ .´ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم حکومت کا لالچ کرو گے اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے باعث ندامت ہو گی ۔ پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی ۔ “ اور محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن حمران نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے سعید المقبری نے ، ان سے عمر بن حکم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنا قول ( موقوفاً ) نقل کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ایک دوسری سند کے مطابق سیدنا سعید مقبری،عمر بن حکم کے واسطے سے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ان کا اپنا قول نقل کرتے ہیں-[صحيح بخاري، حديث نمبر:7148]
سبحان اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا عمدہ مثال دی ہے۔
آدمی کو حکومت اور سرداری ملتے وقت بڑی لذت ہوتی ہے، خوب روپے کماتا ہے، مزے اڑاتا ہے لیکن اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سدا قائم رہنے والی چیز نہیں، ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا ہے وہ سب کرکرا ہوجائے گا اور اس رنج کے سامنے جو سرداری اور حکومت جاتے وقت ہوگا یہ خوشی کوئی چیز نہیں ہے۔
عاقل کو چاہئے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہو اس کو تھوڑی سی لذت کی وجہ سے ہرگز اختیار نہ کرے۔
عاقل وہی کام کرتا ہے جس میں رنج اور دکھ کا نام نہ ہو، نری لذت ہی لذت ہو گویہ لذت مقدار میں تھوڑی ہو لیکن اس لذت سے بدرجہا بہتر ہے جس کے بعد رنج سہنا پڑے۔
لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
دنیا کی حکومت پر سرداری اور بادشاہت درحقیقت ایک عذاب الیم ہے۔
اسی لیے عقل مند بزرگ اس سے ہمیشہ بھاگتے رہے۔
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے مارکھائی، قید میں رہے مگر حکومت قبول نہ کی۔
دوسری حدیث میں ہے جو شخص عدالت کا حاکم یعنی قاضی (جج)
بنایا گیا وہ بن چھری ذبح کیاگیا۔
ایک دوسری سند کے مطابق سیدنا سعید مقبری،عمر بن حکم کے واسطے سے سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے ان کا اپنا قول نقل کرتے ہیں-[صحيح بخاري، حديث نمبر:7148]
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکومتی عہدے کی لذت اور حلاوت کی بہترین مثال دی ہے کہ انسان کو حکومتی منصب ملتے وقت بڑی لذت محسوس ہوتی ہے وہ خوب مزے اڑاتا ہے۔
یہ اس کا آغاز ہے جیسا کہ دودھ پلانے والی عورت ہوتی ہے لیکن یہ ہمیشہ قائم رہنے والی چیز نہیں ہے ایک دن چھن جائے گی تو جتنا مزہ اٹھایا تھا وہ سب کرکراہوجائےگا۔
حکومت جانے کا رنج اور پریشانی اس قدر ہوگی کہ اس کے مقابلے میں ابتدائی خوشی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
عقلمند کوچاہیے کہ جس کام کے انجام میں رنج ہواسے معمولی سی لذت کی وجہ سے اختیار نہ کرے۔
اس انجام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے\"دودھ چھڑانے والی بری ہے\" کے الفاظ سے بیان فرمایا ہے۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین پر یہ اثر ہوا کہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین حکومتی عہدوں سے بھاگتے تھے۔
چنانچہ حدیث میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے زمانہ خلافت میں قاضی بنانا چاہا لیکن انھوں نے انکار کردیا اور کس طرح بھی راضی نہ ہوئے(جامع الترمذی الاحکام حدیث 1322)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” عنقریب تم لوگ منصب کی خواہش کرو گے، لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہو گی پس دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے، (اس لیے کہ ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے “) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5387]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ بیشک تم لوگ ضرور حکومت کی حرص و خواہش کرو گے اور وہ قیامت کے روز باعث ندامت ہو گی۔ پس اچھی ہے دودھ پلانے والی ماں اور بری ہے دودھ چھڑانے والی ماں۔ “ (بخاری) «بلوغ المرام/حدیث: 1190»
«أخرجه البخاري، الأحكام، باب ما يكره من الحرص علي الإمارة، حديث:7148.»
تشریح: 1. اس حدیث میں امارت اور سرداری سے بچنے اور اجتناب کرنے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے کیونکہ دوسری حدیث میں ہے کہ حکومت اور سربراہی دنیا میں ملامت اور اس سے معزولی ندامت و پشیمانی ہے اور آخرت میں باعث عذاب ہے۔
2. جس وقت انسان حکومت کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے تو عزت و توقیر ملتی ہے‘ دولت و ثروت ہاتھ آتی ہے‘ عوام ماتحت ہوتے ہیں‘ ان پر حکم چلتا ہے‘ ٹھاٹھ باٹھ جمتے ہیں‘ ایسی صورت میں بڑی اچھی لگتی ہے۔
مگر جب بدعنوانیوں اور بے اعتدالیوں کا احتساب اس دنیا ہی میں شروع ہوتا ہے تو پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا اور آخرت کے حساب و کتاب کی سختی تو ایسی ہوگی جس کا اس دنیا میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
اسی خوف کے پیش نظر امت مسلمہ کے صلحاء اس سے کوسوں دور رہنے کی کوشش کرتے رہے حتیٰ کہ سزائیں برداشت کیں مگر اس منصب کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
موجودہ دور میں مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کے بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے سربراہان میں اکثر وبیشتر افراد وہ ہوتے ہیں جو عہدوں کے متلاشی‘ طلبگار اور بھوکے ہوتے ہیں‘ اسی لیے وہ کرسی پر براجمان ہوتے ہی عیش پرستی میں مگن ہو کر خوب مزے اڑاتے ہیں اور عوام کے حقوق بھلا کر اپنا دامن بھرنے میں سرگرم ہوتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں عوام کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شریعت کے اصولوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنا امیر اور سربراہ ایسے شخص کو قطعاً منتخب نہ کریں جو خود سربراہی اور عہدے کا طالب ہو کیونکہ اس سے خیر کی امید نہیں کی جا سکتی۔