حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا " ،´ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ان کے دادا حفص بن عاصم نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے ۔ “
قَالَ عُقْبَةُ :وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ .´عقبہ نے بیان کیا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ۔ البتہ انہوں نے یہ الفاظ کہے کہ ( فرات سے ) سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہو گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
کچھ لوگوں نے سونے سے تیل یا پٹرول کا کنواں مراد لیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں کیونکہ حدیث سونے کے پہاڑ کی صریح نص ہے جبکہ پٹرول میں سونا نہیں بلکہ سونا ایک معدن کا نام ہے۔
ایک دوسری حدیث میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑے نکال باہر پھینکے گی جیسے سونے اور چاندی کے بڑے بڑے ستون ہوتے ہیں۔
قاتل آئے گا اور کہے گا: میں نے اس کے لیے قتل کیا، رشتہ داری توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: میں نے اس کے لیے رشتوں کوتوڑا، چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا پھر سب کے سب اس کو چھوڑیں گے اور اس میں سے کچھ بھی نہیں لیں گے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
2۔
اس خزانے سے کچھ نہ لینے کی ممانعت اس لیے ہے کہ وہاں قتل وغارت کی صورت پیش آئے گی جیسا کہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’فرات میں سونے کا پہاڑ ظاہر ہوگا۔
جب لوگ سنیں گے تو اس کی طرف چل دیں گے اور جو لوگ وہاں موجود ہوں گے وہ کہیں گے: اگر ہم نے انھیں اس پہاڑ سے لینے دیا تو یہ سارا سونا لے جائیں گے۔
آخر کار جنگ ہوگی اور نناوے فیصد لوگ مارے جائیں گے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الزکاة، حدیث: 2341(1013)
(1)
اجم، قلعہ، جمع آجام ہے۔
(2)
اعناق، عنق (گردن)
کی جمع ہے، اس سے مراد، لوگوں کی حرص وآز کوبیان کرنا ہے کہ عام طور پر لوگ حصول دنیا میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہی چیز ان میں باہمی رنجش واختلاف کا باعث بنتی ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب صفة الجنة/حدیث: 2569]
وضاحت: 1 ؎: اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دریائے فرات میں سونے کے پہاڑ نہ ظاہر ہو جائیں، اور لوگ اس پر باہم جنگ کرنے لگیں، حتیٰ کہ دس آدمیوں میں سے نو قتل ہو جائیں گے، اور ایک باقی رہ جائے گا " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4046]
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے شاذ ہونے کی وجہ سے ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے ایک جملے کے سوا باقی روایت کو حسن قراردیا ہے۔
شیخ البانی اور دکتور بشار عواد اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت (مِنْ كُلِّ عَشرَة تِسْعَة)
دس میں سے نو افراد۔
والے کے جملے کے علاوہ حسن صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ جملہ شاذ ہے جبکہ محفوظ الفاظ (مِنْ كُلِّ مِائَةٌ تِسْعَة وَّ تِسْعُوْن)
ہر سو میں سے نناوے ہیں۔
علاوہ ازیں ہمارے فاضل محقق نے بھی اس جملے کو شاذ قراردیا ہے۔
لہٰذا مذکورہ روایت اس جملے کے سوا حسن بن جاتی ہے۔
والله اعلم، دیکھیے: (صحيح سنن ابن ماجة للألباني، رقم: 3286 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 4046)
(2)
دریائے فرات ترکی سے شروع ہوکرشام عراق میں سے گزرتا ہوا خلیج فارس میں گرتا ہے۔
ترکی کا وہ حصہ بھی اس سے سیراب ہوتا ہے جہاں کردستان کے نام سے الگ ملک بنانے کی تحریک چل رہی ہے۔
اور عراق کا وہ حصہ جہاں یہ سمندر میں گرتا ہے۔
ایران اور کویت دونوں کی سرحدوں کے قریب ہے۔
اس لیے اس علاقے میں معدنی دولت کا خزانہ ظاہر ہونے پر علاقے کے ممالک میں جنگ کا چھڑنا ناگزیر ہے۔
اس کے ساتھ ہی علاقے کے ممالک کی سلامتی اور تحفظ کے نام پر بڑے ملک (امریکہ، روس اور چین وغیرہ)
بھی اس دولت پر قبضہ جمانے کے لیے شریک ہوسکتے ہیں۔
(3)
اس واقعہ کی پیشگی خبر دینے میں یہ حکمت ہے کہ سمجھ دار آدمی دولت کا لالچ نہ کریں اور جنگ میں شریک ہوکر جانیں نہ گنوائیں باالخصوص یہ جنگ اتنی شدید اور خطرناک ہوگی کہ ننانوے فیصد لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور صرف ایک فی صد جنگجو زندہ بچیں گے۔
ان کا حال بھی زخموں اور بیماریوں کی وجہ سے قابل رشک نہیں ہوگا۔