صحيح البخاري
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں کے بیان میں
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: «إِنَّ ابْنِي هَذَا لَسَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ»: باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمانا ”میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى ، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ وَجَاءَ إِلَى ابْنِ شُبْرُمَةَ ، فَقَالَ : أَدْخِلْنِي عَلَى عِيسَى فَأَعِظَهُ ، فَكَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكَتَائِبِ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ : أَرَى كَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتَّى تُدْبِرَ أُخْرَاهَا ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ ؟ ، فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ : نَلْقَاهُ ، فَنَقُولُ لَهُ : الصُّلْحَ ، قَالَ الْحَسَنُ : وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَخْطُبُ جَاءَ الْحَسَنُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ " .´ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا` اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی ۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ ( منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی ) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں ۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے ۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی، امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن العاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے ۔ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا ؟ جواب دیا کہ میں ، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں ( اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں )، حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ پاک آپ کی روح پاک پر ہزارہا ہزار رحمت نازل فرمائے۔
اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی سچی ہو گئی جو اس حدیث میں مذکور ہے۔
اللهم صل علی محمد و علیٰ آله و أصحابه أجمعین۔
پھر یہ دونوں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور صلح کی تجویز ٹھہر گئی۔
اور انہوں نے صلح کر لی۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے مقدمہ لشکر کے سردار قیس بن سعد تھے۔
یہ دونوں لشکر کوفہ کے قریب ایک دوسرے سے ملے۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے ان لشکروں کی تعداد پر نظر ڈال کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پکارا۔
فرمایا میں نے اپنے پروردگار پاس جو ملنے والا ہے اس کو اختیار کیا اگر خلافت اللہ نے تمہارے لیے لکھی ہے تو مجھ کو ملنے والی نہیں اور اگر میرے لیے لکھی ہے تو میں نے تم کو دے ڈالی۔
اس وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر والوں نے تکبیر کہی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی إن ابني هذا سید ....أخیر تک پھر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خطبہ سنایا اور خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی، اس شرط پر کہ وہ اللہ کی کتاب اور سنت رسول اللہ پر عمل کرتے رہیں۔
لوگ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے یا عارالمسلمین یعنی مسلمانوں کے ننگ۔
آپ نے جواب دیا العار خیر من النار۔
جو صلح نامہ قرار پایا تھا اس میں یہ بھی شرط تھی کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد پھر خلافت حضرت حسن کو ملے گی۔
محمد بن قدامہ نے بہ سند صحیح اور ابن ابی خیثمہ نے ایسا ہی روایت کیا ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے اسی شرط پر بیعت کی تھی۔
1۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد لوگوں نےحضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلی تو وہ ایک بھاری لشکر لے کر شام کی طرف روانہ ہوئے۔
دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی فوجوں کے ہمراہ کوفے کی طرف روانہ ہوئے۔
یہ دونوں کوفے کے پاس ایک مقام پر اکھٹے ہوئے۔
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب لشکروں کی تعداد دیکھی توحضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آواز دے کر کہا: "میں اس چیز کو اختیار کرتا ہوں جو مجھے میرے پروردگار کے ہاں ملنے والی ہے۔
اگراللہ تعالیٰ نے یہ حکومت تمہارے لیے لکھ دی ہے تو یہ مجھے ملنے والی نہیں اور اگرمیرے لیے لکھی ہے تو میں تمہارے حق میں دست بردار ہوتا ہوں۔
"2۔
اس حدیث سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ انھوں نے حسن تدبیر سے خانہ جنگی کو ختم کردیا۔
انھوں نے کسی کمزوری یا ذلت وقلت کے پیش نظر حکومت نہیں چھوڑی بلکہ مسلمانوں کی جانیں بچانے کے لیے صلح کی تھی۔
انھوں نے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے ہاں انعامات میں رغبت کی اور فتنہ وفساد کی آگ کو ٹھنڈا کیا۔
دوسری طرف حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی بڑی فراخدلی کا ثبوت دیا۔
انھوں نے سفید کاغذ پر مہر لگا کر حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے کر دیا کہ آپ جو بھی شرائط لکھ کر دیں، میں انھیں تسلیم کر کے صلح کرنے کے لیے تیار ہوں۔
3۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ملک کی تدبیر میں ان کی نظر بہت دور اندیش تھی اور وہ انجام پر کڑی نظر رکھتے تھے، اس کے علاوہ انھیں اپنی رعایا کے ساتھ بھی بہت ہمدردی تھی، چنانچہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتاب وسنت کے نفاذ کی شرط پر امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کرلی، پھر آپ کوفے آئے تو تمام لوگوں نے آپ کی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے آپ سے بیعت کی۔
لوگوں کے جمع ہونے اور خانہ جنگی ختم ہونے کی بنا پر اس سال کا نام "عام الجماعۃ" رکھا گیا۔
جو حضرات فتنے کے دور میں گوشہ نشین ہوگئے تھے، مثلاً: ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، محمد بن سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کر لی۔
آپ نے حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بطور انعام تین لاکھ درہم، ایک ہزار لباس، سو اونٹ اور تیس غلام دیے۔
صلح کے بعد حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ طیبہ روانہ ہو گئے۔
اور امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفے کا اور حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بصرے کا حاکم بنا کر خود دمشق روانہ ہوگئے، اس طرح صلح کےمعاملات اختتام پذیر ہوئے۔
(فتح الباري: 80/13)
4۔
واضح رہے کہ باہمی فتنہ فساد کی وجہ سے لوگوں کے ذہن اس حد تک خراب ہوچکے تھے کہ جب حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلح کرلی تو لوگوں نے آپ کے خلاف آوازے کسے ’’اے مسلمانوں کے لیے باعث ننگ وعار!‘‘ لیکن حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں مستقل مزاجی کے ساتھ یہ جواب دیا کہ مجھے فتنوں کی آگ کے مقابلے میں عار زیادہ محبوب ہے۔
(فتح الباري: 82/13) (رضي الله عنه وعنا في الدنيا والآخرة)
حضرت حسن ؓ کے متعلق رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی حضرت معاویہ ؓ کے زمانے میں پوری ہوئی۔
حضرت حسن ؓ کے ہمراہ تقریباً چالیس ہزار فدائی تھے۔
اسی طرح حضرت امیر معاویہ ؓ کے ہمراہ بھی بہت بڑا لشکر تھا۔
حضرت حسن ؓ نے قلت یا ذلت کی وجہ سے نہیں بلکہ محض امت پر شفقت کرتے ہوئے ملک اور دنیا کو چھوڑدیا اور حکومت حضرت معاویہ ؓ کے حوالے کردی۔
اس صلح عظیم سے ایک جنگ عظیم کا خطرہ ٹل گیا۔
اللہ والوں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ خود نقصان برداشت کر لیتے ہیں مگر فتنہ و فساد برپا نہیں کرتے۔
حضرت حسن ؓ نے وہ کام کیا کہ ہزاروں مسلمانوں کی جان بچ گئی۔
حضرت امیر معاویہ ؓ سے لڑنا پسند نہ کیا۔
خلافت ان ہی کودے دی، حالانکہ ستر ہزار ّدآمیوں نے آپ کے ساتھ جان دینے پر بیعت کی تھی۔
اس طرح سے آنحضرتﷺ کی یہ پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی اور یہاں پر یہی مقصد باب ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی پوری ہوئی، حضرت حسن ؓ نے وہ کام کیا کہ ہزاروں مسلمانوں کی جانیں بچ گئیں حضرت امیر معاویہ ؓ سے لڑنا پسندنہ کیا بلکہ صلح کر کے خلافت ان کے حوالے کردی حالانکہ ستر ہزار مسلمانوں نے آپ کے ہاتھ پر جان دینے کی بیعت کر لی تھی۔
2۔
یہ نبوت کی دلیل ہے کہ آپ کے اشارے کے مطابق ویسا ہی ہوا۔
امام بخاری ؒ اس حدیث کو نبوت کی دلیل کے طور پر لائے ہیں۔
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: " میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3773]
وضاحت:
1؎:
یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چنانچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اور دوسرا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، تو حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کار نامہ ہے (جَزَاہُ اللہُ عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ خَیْرَ الْجَزَاءِ)
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا: " میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔" حماد کی روایت میں ہے: " شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎۔" [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4662]
1: حضرت علی رضی اللہ کے دور میں سیدنا عثمان رضی اللہ کی شہادت کی بنا پر ہر مسلمان دو گرہوں میں بٹ گئے تھے۔
ایک طرف علی رضی اللہ تھے اور دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ اور دونوں ہی اپنی اپنی ترجیحات میں بر حق تھے، تاہم سیدنا علی رضی اللہ کا موقف اقرب الی الحق تھا۔
2: سیدنا حسن رضی اللہ نے اپنی خلافت سے دست بردارہو کر ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا اور اس کی وجہ سے ان کے شرف سیادت میں اور اضافہ ہو گیا۔
مگر کچھ لوگوں کو اب تک ان کا یہ عمل ناپسند ہے۔
3: رسول ؐ نے دونوں اطراف کے لوگوں کو اپنی امت کے مسلمان قراردیا ہے اورکسی کو بھی گمراہ یا باطل نہیں فرمایا۔
4: صحابہ کرام یا پھر فقہا ءوائمہ کی اجتہادی غلطیوں کی اشاعت کرنا بہت بڑا اور برا فتنہ ہے، صرف خاص محدود علمی حلقہ میں ان کے مسائل کی علمی تفہیم جائز ہے۔
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا، حسن رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: " میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے " ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1411]
➋ خوارج کا رد ہے جو کہ دونوں گروہوں کو کافر کہتے ہیں۔ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں کے مسلمان ہونے کی گواہی دی ہے۔
➌ لوگوں کے درمیان اصلاح بہت فضیلت والا کام ہے، خصوصاً جب خون خرابہ ہونے کا خطرہ ہو۔
➍ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ رعایا پر بہت شفیق اور مہربان تھے، نیز امور مملکت میں بڑی کڑی نظر رکھتے تھے۔ آپ کا صلح کا غیر مشروط مطالبہ اس بات کی بین دلیل ہے۔
➎ کم مرتبے والا شخص، زیادہ فضیلت والے کی موجودگی میں حکمران بن سکتا ہے۔ حضرت حسن اور معاویہ رضی اللہ عنہما حکمران بنے جبکہ حضرت سعد بن ابی وقاص اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما بدری صحابہ موجود تھے۔
➏ خلیفہ بذات خود دستبردار ہو سکتا ہے خصوصاً جبکہ یہ استغفیٰ وسیع تر قومی و ملی مفاد میں ہو۔
اس حدیث میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی زبردست فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ دو جماعتوں سے مراد سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہم کی جماعتیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی سو فیصد پوری ہوئی۔ جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہم کی بیعت کی گئی اور انہوں نے چھ ماہ خلافت بھی سنبھالی پھر خیر خواہی کی خاطر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔