صحيح البخاري
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں کے بیان میں
بَابُ الْفِتْنَةِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ: باب: اس فتنے کا بیان جو فتنہ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار کر اٹھے گا۔
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ : قِيلَ لِأُسَامَةَ : أَلَا تُكَلِّمُ هَذَا ؟ ، قَالَ : قَدْ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحُهُ ، وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَنْتَ خَيْرٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ ، فَيَقُولُونَ : أَيْ فُلَانُ ، أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ ، فَيَقُولُ : إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ " .´ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم کو جعفر نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں سلیمان نے کہ میں نے ابووائل سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ ( عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے ( کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں ) انہوں نے کہا کہ میں نے ( خلوت میں ) ان سے گفتگو کی ہے لیکن ( فتنہ کے ) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنا دیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے ۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو ( قیامت کے دن ) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے ۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے ، اے فلاں ! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے ؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ جو شخص دو آدمیوں پر بھی حاکم بنے میں اس کی تعریف کرنے والا نہیں، اس لیے کہ حکومت بڑے مؤاخذے کی چیز ہے۔
حاکم کو عدل اور انصاف اور رعایا کی پوری خبرگیری کا انتظام کرنا چاہئے تو حاکم شخص کے لیے یہی غنیمت ہے کہ حکومت کی وجہ سے اور مؤاخذہ میں گرفتار نہ ہو چہ جائے کہ بھلائی اور ثواب حاصل کرے۔
اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس دوزخی آدمی سے یہ حدیث بیان کر کے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ تم میری نسبت یہ گمان نہ کرنا کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کو نیک صلاح دینے میں کوتاہی کرتا ہوں کیا میں قیامت کے دن اپنا حال اس شخص کا سا کر لوں گا جو انتڑیوں کو اٹھائے ہوئے گدھے کی طرح گھومے گا یعنی اگر میں تم لوگوں کو یہ کہوں گا کہ بری بات دیکھنے پر منع کیا کرو اور جو کوئی برا کام کرے اس کو سمجھا کر ایسے کام سے باز رکھا کروں اور خود میں ایسا نہ کروں بلکہ برے کاموں کو دیکھ کر خاموش رہ جاؤں تو میرا حال اسی شخص کا سا ہونا ہے۔
1۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مادری بھائی ولید بن عقبہ نے شراب نوشی کی تو آپ نے تحقیق مکمل ہونے تک اس پر حد لگانے سے سکوت کیا۔
اس تاخیر میں لوگوں کے اندر شکوک وشبہات نے جنم لیا۔
سازشی گروہ نے اس بات کو بہت اچھالا، چنانچہ کسی نے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ لوگوں میں ولید بن عقبہ کی شراب نوشی کا بہت چرچا ہو رہا ہے۔
آپ اس سلسلے میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ آپ نے فرمایا: تم میرے متعلق یہ گمان نہ کرو کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اچھی بات کہنے میں سستی یا مداہنت سے کام لیتا ہوں اور نہ میں خوشامدی ہی ہوں کہ ان کے حاکم ہونے کی وجہ سے ان کی بے جا تعریف کروں، میں نے ان سے مصلحت، ادب واحترام اوررازداری کے طور پر بات کی ہے،میں نہیں چاہتا کہ سرعام ان سے گفتگو کروں جس سے فتنے کی آگ مزید بھڑک اٹھے اور سب سے بڑھ کر میں فتنہ اٹھانے والا بن جاؤں۔
میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ امر بالمعروف میں کوتاہی کر کے اس شخص جیسا بن جاؤں جس کا ذکر حدیث میں بیان ہواہے۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قابل تعریف رواداری اور قابل مذمت مداہنت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
اچھی رواداری کا ضابطہ یہ ہے کہ اس میں دین کا کوئی پہلو مجروح نہ ہوتا ہو اور مداہنت یہ ہے کہ اس میں کسی بُری بات کی پردہ پوشی کی جائے اور باطل کو سہارا دیا جائے۔
(فتح الباري: 67/13)
1۔
حضرت اسامہ بن زید ؓ سے لوگوں نے کہا: آپ حضرت عثمان ؓ سے ولید بن عقبہ کے متعلق گفتگو کریں تاکہ چہ میگوئیاں ختم ہو جائیں تو انھوں نے کہا: میں ان سے علانیہ گفتگو کرنے کی بجائے تنہائی میں بات کرتا ہوں کیونکہ علانیہ بات کرنے سے فتنے کی آگ بھڑک اٹھے گی اور میں اس کا آغاز کرنے والا بن جاؤں گا میں جس طرح لوگوں کو اچھی باتوں کا کہتا ہوں اور بری باتوں سے روکتا ہوں بعینه اپنے حکمرانوں پر بھی اچھی بات واضح کردیتا ہوں۔
اگر میں امر بالمعروف ترک کردوں تو میری مثال بھی اس شخص جیسی ہو جائے گی جس کا حدیث میں ذکر ہوا ہے۔
2۔
آپ کا مقصد یہ تھا کہ علانیہ طور پر امراء کے خلاف بات کرنا بے ادبی ہے۔
اس سے یہ باور نہ کر لیا جائے۔
کہ میں ان سے بات ہی نہیں کرتا کیونکہ ایسا انداز اختیار کرنا امر بالمعروف کے خلاف ہے۔
اس سخت وعید جو حدیث میں بیان ہوئی ہے کے پیش نظر ہمارے ان خطباء و علماء کو غور کرنا چاہیےجو اپنے علم اور وعظ کے مطابق عمل نہیں کرتے۔
دیگراں را نصیحت خود را فضیحت
اس حدیث میں اس شخص کی مذمت بیان کی گئی ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا تھا، اور خود عمل نہیں کرتا تھا، اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو ڈانٹتے ہوئے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴾ (الصف: 2)