صحيح البخاري
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں کے بیان میں
بَابُ التَّعَرُّبِ فِي الْفِتْنَةِ: باب: فتنہ فساد کے وقت جنگل میں جا رہنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ : يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ ، ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ ؟ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ " ، وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، خَرَجَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ إلَى الرَّبَذَةِ ، وَتَزَوَّجَ هُنَاكَ امْرَأَةً ، وَوَلَدَتْ لَهُ أَوْلَادًا ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا حَتَّى قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِلَيَالٍ ، فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` وہ حجاج کے یہاں گئے تو اس نے کہا کہ اے ابن الاکوع ! تم گاؤں میں رہنے لگے ہو کیا الٹے پاؤں پھر گئے ؟ کہا کہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جنگل میں رہنے کی اجازت دی تھی ۔ اور یزید بن ابی عبید سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ جب عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے تو سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ربذہ چلے گئے اور وہاں ایک عورت سے شادی کر لی اور وہاں ان کے بچے بھی پیدا ہوئے ۔ وہ برابر وہیں پر رہے ، یہاں تک کہ وفات سے چند دن پہلے مدینہ آ گئے تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
آج بھی فتنوں کا زمانہ ہے ہر جگہ گھر گھر نفاق و شقاق ہے۔
باہمی خلوص کا پتہ نہیں۔
ایسے حالات میں بھی سب سے تنہائی بہتر ہے، کچھ مولانا قسم کے لوگ لوگوں سے بیعت لے کر ان احادیث کو پیش کرتے ہیں، یہ ان کی کم عقلی ہے۔
یہاں بیعت خلاف مراد ہے اور فتنے سے اسلامی ریاست کا شیرازہ بکھر جانا مراد ہے۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو شخص ہجرت کر کے کسی شہر میں رہائش اختیار کرتا، اسے وہاں سے منتقل ہو کر دیہات میں جانا جائز نہ تھا اسے مرتد جیسا کہا جاتا تھا، چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کو باعث لعنت قرار دیا ہے۔
(سنن النسائي، الزینة، حدیث: 5105)
البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے ایسا کرنا جائز تھا جیسا کہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی تھی، پرفتن دور میں ایسا کیا جا سکتا ہے۔
2۔
آج بھی فتنوں کا دور ہے ہر جگہ گھر گھر میں نفاق ہے۔
خلوص کا دور، دور تک نشان نظر نہیں آتا، ایسے حالات میں تنہائی اختیار کرنا افضل عمل ہے لیکن اگر کوئی شخص لوگوں میں رہتے ہوئے اصلاح کا فریضہ سرانجام دے اور اپنا ایمان بھی قائم رکھ سکے تو ایسے شخص کے لیے آبادی میں رہنا افضل ہے۔
واللہ أعلم۔
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حجاج کے پاس گئے تو اس نے کہا: ابن الاکوع! کیا آپ (ہجرت کی جگہ سے) ایڑیوں کے بل لوٹ گئے، اور ایک ایسا کلمہ کہا جس کے معنی ہیں کہ آپ بادیہ (دیہات) چلے گئے۔ انہوں نے کہا: نہیں، مجھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادیہ (دیہات) میں رہنے کی اجازت دی تھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4191]
(2) یہ حدیث مبارکہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ کے صبر اور ان کی جرأت پر بھی دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے جحاج کی بے ادبی پر صبر کیا، اور پھر اسے جواب بھی دیا۔ جحاج بنوامیہ کے دور کا ایک ظالم اور گستاخ گورنر تھا۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی سے اس کا انداز تخاطب اس کے تکبر اور گستاخی کی واضح دلیل ہے۔ اسے اقتدار کے نشے نے چھوٹے بڑے کی تمیز بھلا دی تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی بھی اسے اچھے لفظوں سے یاد نہیں کرتا بلکہ لعنت تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ بے ادبی انسان کی خوبیوں کو چھپا دیتی ہے۔
(3) "بادیہ" مراد صحرائی علاقہ ہے، یعنی آبادیوں سے باہر کھلے اور آزاد علاقے۔ ان میں رہنے والے کو بدوی یا اعرابی کہتے ہیں۔
(4) حجاج کا اعتراض فضول تھا۔ کوئی شخص کسی بھی جگہ رہائش اختیار رکھ سکتا ہے۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالٰی عنہ کوئی مہاجر نہیں تھے کہ مدینہ چھوڑ کر اپنے سابقہ گھر چلے گئے ہوں اور ان پر اعتراض ہوسکے۔ بہت سے مہاجر صحابہ بھی مدینہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں آباد ہوگئے تھے۔ خیر انھوں نے تو نبی ﷺ سے اجازت بھی لے رکھی تھی اور پھر وہ فوت بھی مدینہ منورہ ہی ہوئے۔ رضي اللہ عنه وأرضاہ