صحيح البخاري
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں کے بیان میں
بَابُ تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ: باب: ایک ایسا فتنہ اٹھے گا جس سے بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہو گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَتَكُونُ فِتَنٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي فِيهَا خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، مَنْ تَشَرَّفَ لَهَا تَسْتَشْرِفْهُ ، فَمَنْ وَجَدَ مَلْجَأً أَوْ مَعَاذًا فَلْيَعُذْ بِهِ " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ ان میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہو گا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا ۔ اگر کوئی ان کی طرف دور سے بھی جھانک کر دیکھے گا تو وہ اسے بھی سمیٹ لیں گے ایسے وقت جو کوئی اس سے کوئی پناہ کی جگہ پا لے اسے اس کی پناہ لے لینی چاہئیے ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حدیث میں ذکر کردہ درجہ بندی فتنوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے متعلق بیان ہوئی ہے۔
مختلف احادیث کے پیش نظر شر میں کمی بیشی کا اعتبار حسب ذیل ترتیب سے ہوگا:۔
بھاگ دوڑکرنے والا۔
۔
پیدل چلنے والا۔
۔
کھڑا ہونے والا۔
۔
بیٹھنے والا۔
۔
لیٹنے والا۔
۔
سونے والا۔
ان میں زیادہ منحوس اور ناپسندیدہ وہ ہوں گے جو ان فتنوں میں کوشش کرنے والے اور انھیں ہوا دینے والے ہوں گے، انھیں بھاگ دوڑ کرنے والوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔
پھر ان لوگوں کا درجہ ہوگا جو ان فتنوں کا سبب تو نہیں ہوں گے لیکن انھیں بھڑکانے والے ہوں گے۔
انھیں پیدل چلنے والے کہا گیا ہے۔
ان سے کم وہ ہوں گے جوان میں دلچسپی لینے والے ہوں گے، انھیں کھڑا ہونے والا کہا گیا ہے۔
پھر وہ لوگ جو تماشائی ہوں گے لیکن جنگ وقتال میں حصہ نہیں لیں گے، انھیں بیٹھنے والے کہا گیا ہے۔
پھر ان لوگوں کا درجہ ہے جو ان فتنوں کو اچھا خیال کرے گا لیکن تماشائی نہیں ہوگا، اسے لیٹنے والے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
سب سے کم درجہ اس شخص کا ہے جو کچھ بھی نہ کرے اور انھیں بُرا بھی نہ کہے، اسے سونے والا کہا گیا ہے، یعنی جو شرارت میں کم ہوگا وہ ان میں بہتر اور جو زیادہ ہوگا وہ ان میں بدتر ہوگا۔
(فتح الباري: 39/13)
2۔
واضح رہےکہ اس سے وہ زمانہ مراد ہے جس میں ملک گیری اور کرسی کی ہوس پر اختلاف ہو اور حق وباطل کے درمیان امتیاز مشکل ہو جائے جیسا کہ ایک روایت میں ہے: صحابی نے عرض کی: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ایسا کب ہوگا؟ فرمایا: ’’ایام ہرج میں، جب انسان اپنے پاس بیٹھنے والے پر بھی اعتماد نہیں کرے گا۔
‘‘ (فتح الباري: 40/13 وسنن أبي داود، الفتن، حدیث: 4258)
مراد وہ فتنہ ہے جو مسلمانوں میں آپس میں پیدا ہوا اور یہ نہ معلوم ہو سکے کہ حق کس طرف ہے‘ ایسے وقت میں گوشہ نشینی بہتر ہے۔
بعضوں نے کہا اس شہر سے ہجرت کر جائے جہاں ایسا فتنہ واقع ہوا گروہ آفت میں مبتلا ہو جائے اور کوئی اس کو مارنے آئے تو صبر کرے۔
مارا جائے لیکن مسلمان پر ہاتھ نہ اٹھائے۔
بعضوں نے کہا اپنی جان ومال کو بچا سکتا ہے۔
جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ جب کوئی گروہ امام سے باغی ہو جائے تو امام کے ساتھ ہو کر اس سے لڑنا جائز ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوا اور اکثر اکابر صحابہ نے ان کے ساتھ ہو کر معاویہ رضی اللہ عنہ کے باغی گروہ کا مقابلہ کیا اور یہی حق ہے مگر بعض صحابہ جیسے سعد اور ابن عمر اور ابو بکر رضی اللہ عنہم دونوں فریق سے الگ ہو کر گھر میں بیٹھے رہے۔