حدیث نمبر: 7079
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَال : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْتَدُّوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " .
مولانا داود راز

´ہم سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم میں بعض بعض کی گردن مارنے لگے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7079
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2193

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7079. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد الٹے پاؤں پھر کر کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7079]
حدیث حاشیہ: منشائے نبوی یہ تھا کہ آپ میں لڑنا جھگڑنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے یہ کافروں کا طریقہ ہے پس تم ہر گز یہ شیوہ اختیار نہ کرنا مگر افسوس کہ مسلمان بہت جلد اس پیغام رسالت کو بھول گئے۔
إنا للہ و أسفا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7079 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2193 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردن نہ مارنا۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2193]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی کفار سے مشابہت مت اختیار کرنا اور کفر یہ اعمال کو نہ اپنانا، اس حدیث میں کافر کا لفظ زجر وتوبیخ کے طور پر ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2193 سے ماخوذ ہے۔