حدیث نمبر: 7072
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُشِيرُ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن یحییٰ ذہلی ( یا محمد بن رافع ) نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں ہمام نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کوئی شخص اپنے کسی دینی بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ نہیں جانتا ممکن ہے شیطان اسے اس کے ہاتھ سے چھڑوا دے اور پھر وہ کسی مسلمان کو مار کر اس کی وجہ سے جہنم کے گڑھے میں گر پڑے ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7072
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2617 | صحيفه همام بن منبه: 100

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7072. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے کیونکہ وہ (اس کے انجام کو) نہیں جانتا ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے وار کرا دے پھر وہ (اس وجہ سے) دوزخ کے گڑھے میں جا گرے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7072]
حدیث حاشیہ: اس طرح کہ دنیا سے دین کے عالم گزر جائیں گے اور جو لوگ باقی رہیں گے وہ ہمہ تن دنیا کے کمانے میں غرق ہوں گے‘ ان کو دینی علوم کا بالکل شوق ہی نہیں رہے گا۔
ہمارے زمانہ میں یہ آثار شروع ہو گئے ہیں۔
ہزار ہا لکھو کھ ہا مسلمان اپنے بچوں کو صرف انگریزی تعلیم دلاتے ہیں‘ قرآن وحدیث سے بالکل بے بہرہ رکھتے ہیں إلا ما شا ءاللہ۔
کچھ کچھ جو دین کے عالم رہ گئے ہیں‘ قیامت کے قریب یہ بھی نہ رہیں گے۔
علم دین کو محض بے کار سمجھ کر اس کی تحصیل چھوڑ دیں گے‘ کیونکہ اچھے لوگ قیامت سے پہلے اٹھ جائیں گے۔
جیسے امام مسلم نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا جو حریر سے زیادہ ملائم ہوگی اس کے لگتے ہی جس شخص کے دل میں رتی برابر بھی ایمان ہو گا وہ اٹھ جائے گا۔
دوسری حدیث میں ہے قیامت تب تک قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہا جائے گا۔
اب یہ اعتراض نہ ہوگا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت تک میری امت کا ایک گروہ حق پر قائم رہے گا تو اس سے یہ نکلتا ہے کہ قیامت اچھے لوگوں پر بھی قائم ہوگی کیونکہ اس حدیث میں قیامت تک سے مراد ہے کہ اس ہوا چلنے تک جس کے لگتے ہی ہر ایک مومن مر جائے گا اور کفارہ ہی دنیا میں رہ جائیں گے انہی پر قیامت آئے گی قسطلانی۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7072 سے ماخوذ ہے۔