صحيح البخاري
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں کے بیان میں
بَابُ ظُهُورِ الْفِتَنِ: باب: فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 7065
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : إِنِّي لَجَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، وَالْهَرْجُ بِلِسَانِ الْحَبَشَةِ : الْقَتْلُ .مولانا داود راز
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ` میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اسی طرح ۔ «هرج» حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
7065. حضرت ابو وائل ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابو موسیٰ ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا:میں نے نبی ﷺ سے سنا۔ اسی (سابقہ حدیث) کی مثل (بیان کیا) حبشی زبان میں ”ھرج“ کے معنیٰ ہیں: قتل۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7065]
حدیث حاشیہ: حضرت ابو موسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ہیں جو مکہ میں اسلام لائے اور ہجرت حبشہ میں شریک ہوئے سنہ 52ھ میں وفات پائی رضي اللہ عنه و أرضاھا اور حبشی زبان میں ہر ج قتل کے معنی میں ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7065 سے ماخوذ ہے۔