حدیث نمبر: 706
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوجِزُ الصَّلَاةَ وَيُكْمِلُهَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو مختصر اور پوری پڑھتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 706
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 469 | سنن ابن ماجه: 985

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
706. حضرت انس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نماز کو مختصر پڑھتے اور اسے مکمل بھی کرتے تھے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:706]
حدیث حاشیہ:
امام بخاری ؒ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ نماز میں اختصار اس کے اکمال کے منافی نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے اختصار کے باوجود اکمال ثابت ہے، اس لیے مستحب یہ ہے کہ نماز میں اتنی طوالت نہ کرے کہ مقتدی حضرات کے لیے گرانی کا باعث ہو اور نہ اس قدر اختصار ہوکہ ارکان و تعدیل میں نقص واقع ہو۔
اس کی وضاحت ایک حدیث میں ہے، حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مختصر اور اسے مکمل طور پر ادا کرنے والا ہو۔
(صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 708)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 706 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 985 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جو شخص امامت کرے وہ نماز ہلکی پڑھائے۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مختصر اور کامل نماز پڑھتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 985]
اردو حاشہ:
فائده:
اس سے نماز کی تخفیف کا مطلب واضح ہوگیا کہ ارکان کی ادایئگی پورے خشوع اور اطمینان سے کی جائے لیکن تلاوت اور تسبیحات کی مقدار اتنی زیادہ نہ ہو کہ مقتدی پریشان ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 985 سے ماخوذ ہے۔