صحيح البخاري
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ مَنْ شَكَا إِمَامَهُ إِذَا طَوَّلَ: باب: اس کے بارے میں جس نے امام سے نماز کے طویل ہو جانے کی شکایت کی۔
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ بِنَاضِحَيْنِ وَقَدْ جَنَحَ اللَّيْلُ ، فَوَافَقَ مُعَاذًا يُصَلِّي ، فَتَرَكَ نَاضِحَهُ وَأَقْبَلَ إِلَى مُعَاذٍ فَقَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ أَوْ النِّسَاءِ ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ وَبَلَغَهُ أَنَّ مُعَاذًا نَالَ مِنْهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا إِلَيْهِ مُعَاذًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا مُعَاذُ ، أَفَتَّانٌ أَنْتَ أَوْ أَفَاتِنٌ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، فَلَوْلَا صَلَّيْتَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ وَالضَّعِيفُ وَذُو الْحَاجَةِ أَحْسِبُ هَذَا فِي الْحَدِيثِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : وَتَابَعَهُ سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، وَمِسْعَرٌ ، وَالشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : عَمْرٌو ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مِقْسَمٍ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ قَرَأَ مُعَاذٌ فِي الْعِشَاءِ بِالْبَقَرَةِ ، وَتَابَعَهُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُحَارِبٍ .´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محارب بن دثار نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری سے سنا ، آپ نے بتلایا کہ` ایک شخص پانی اٹھانے والا دو اونٹ لیے ہوئے آیا ، رات تاریک ہو چکی تھی ۔ اس نے معاذ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھاتے ہوئے پایا ۔ اس لیے اپنے اونٹوں کو بٹھا کر ( نماز میں شریک ہونے کے لیے ) معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف بڑھا ۔ معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز میں سورۃ البقرہ یا سورۃ نساء شروع کی ۔ چنانچہ وہ شخص نیت توڑ کر چل دیا ۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو برا بھلا کہا ہے ۔ اس لیے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور معاذ کی شکایت کی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ، معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالتے ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ( «فتان» یا «فاتن» ) فرمایا : «سبح اسم ربك ، والشمس وضحاها ، والليل إذا يغشى» ( سورتیں ) تم نے کیوں نہ پڑھیں ، کیونکہ تمہارے پیچھے بوڑھے ، کمزور اور حاجت مند نماز پڑھتے ہیں ۔ شعبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آخری جملہ ( کیونکہ تمہارے پیچھے الخ ) حدیث میں داخل ہے ۔ شعبہ کے ساتھ اس کی متابعت سعید بن مسروق ، مسعر اور شیبانی نے کی ہے اور عمرو بن دینار ، عبیداللہ بن مقسم اور ابوالزبیر نے بھی اس حدیث کو جابر کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ معاذ نے عشاء میں سورۃ البقرہ پڑھی تھی اور شعبہ کے ساتھ اس روایت کی متابعت اعمش نے محارب کے واسطہ سے کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
نماز ہر طرح خیر ہی خیر ہے، کسی برائی کا اس میں کوئی پہلو نہیں۔
اس کے باوجود اس سلسلے میں ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے شکایت کی اور آنحضور ﷺ نے اسے سنا اور شکایت کی طر ف بھی توجہ فرمائی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں بھی شکایت بشرطیکہ معقول اور مناسب ہو جائز ہے۔
(تفہیم البخاری)
دوسری روایت میں ہے کہ سورۃ الطارق اور ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ﴿١﴾ یا ﴿سبح اسم﴾ یا ﴿اقتربت الساعة﴾ پڑھنے کا حکم فرمایا۔
مفصل قرآن کی ساتویں منزل کا نام ہے۔
یعنی سورۃ ق سے آخر قرآن تک۔
پھر ان میں تین ٹکڑے ہیں۔
طوال یعنی ق سے سورۃ عم تک۔
اور اوساط یعنی بیچ کی عم سے والضحیٰ تک۔
قصار یعنی چھوٹی والضحیٰ سے آخر تک۔
ائمہ کو ان ہدایات کا مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
(1)
حضرت معاذ بن جبل ؓ اور حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کی روایت میں بیان شدہ واقعہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر مختلف ہے: ٭ واقعۂ معاذ میں نماز عشاء کا ذکر ہے جبکہ حضرت ابو مسعود کی روایت نماز صبح سے متعلق ہے۔
٭حضرت معاذ ؓ کے واقعہ میں وہ خود امام تھے جبکہ ابو مسعود ؓ کی روایت میں حضرت ابی بن کعب ؓ کی امامت کا ذکر ہے۔
٭حضرت معاذ ؓ اپنی قوم بنو سلمہ کے امام تھے جبکہ ابو مسعود ؓ کی روایت میں مسجد قباء کی امامت کا ذکر ہے۔
٭ حضرت معاذ ؓ سے اختلاف کرنے والاکوئی ایک انصاری نوجوان ہے۔
(فتح الباري: 256/2) (2)
حضرت جابر ؓ کی روایت کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان: ’’ نماز میں بوڑھوں،عمر رسیدہ اور ضرورت مند حضرات کا خیال رکھنا چاہیے۔
‘‘ یہ کسی راوی کا سہو ہے کیونکہ یہ ارشاد نبوی حضرت ابو مسعود ؓ کی روایت کا حصہ ہے، اس لیے اس اضافے کو محارب سے شعبہ کے علاوہ اور کوئی بیان نہیں کرتا، اسی طرح حضرت جابر ؓ سے بیان کرنے والا کوئی دوسرا راوی ان الفاظ کا ذکر نہیں کرتا۔
(3)
حدیث میں مذکور الفاظ (أحسب في هذا الحديث)
مختلف فیہ ہیں۔
فتح الباری اور صحیح بخاری کے دیگر نسخوں میں یہ الفاظ (أحسب في هذا الحديث)
یا (أحسب في الحديث)
منقول ہیں، البتہ مفہوم کے اعتبار سے (أحسب في هذا الحديث)
ہی درست معلوم ہوتے ہیں۔
اس سے مراد یہ ہے کہ هذا کا مشار الیہ آخری جملہ (فانه يصلي وراءك۔
۔
۔
الحاجة)
ہے۔
شعبہ کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ جملہ بھی حدیث کا جز اور حصہ ہے۔
(4)
واضح رہے کہ جماعت کے دوران میں مندرجہ ذیل حضرات کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
جیسا کہ متعدد دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے: ضعیف وناتواں، بیمار، نوعمر بچہ، عمر رسیدہ، حاملہ عورت، دودھ پلانے والی، مسافر اور ضرورت مند حضرات۔
(فتح الباري: 260/2)
اللہ توفیق دے آمین۔
(1)
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ شخص کو منافق کہا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تکفیر کرنے کے بجائے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ کلمہ کہنے میں معذور خیال کیا کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اسے منافق کہنے کی ایک معقول وجہ رکھتے تھے کہ جماعت کا تارک منافق ہوتا ہے اور مذکورہ شخص نے جماعت چھوڑ دی تھی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو سمجھایا اور سمجھاتے وقت ذرا سخت رویہ اختیار کیا اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ اس آدمی کو منافق نہیں کہنا چاہیے تھا، اگرچہ اس بات میں یہ تاویل کی جائے کہ تارک جماعت منافق ہے۔
(2)
امام کو چاہیے کہ وہ مقتدی حضرات کا خیال رکھے کیونکہ ان میں کمزور، ناتواں، ضرورت مند اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، جماعت کراتے وقت چھوٹی چھوٹی سورتوں کا انتخاب کیا جائے۔
لمبی سورتیں پڑھ کر لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کیا جائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کسی کو منافق کہنے میں کوئی معقول تاویل پیش نظر ہے تو کہنے والا منافق نہیں ہو گا بلکہ اسے تاویل کی وجہ سے معذور تصور کیا جائے گا۔
فَتَّانٌ: فتنہ پرور، ابتلاء وآزمائش میں ڈالنے والا، یعنی یہ چیز لوگوں کے لیے نماز سے پیچھے رہنے کا سبب بن سکتی ہے، حالانکہ جماعت کا اہتمام ضروری ہے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے الگ نماز پڑھنے والے کو منافق کہا)
۔
فوائد ومسائل: 1۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ حضرت معاذ مسجد نبوی میں جہاں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مسجدوں سے زیادہ ہے۔
اورآپﷺ کی اقتداء میں جہاں نماز پڑھنے میں خشوع وخضوع اور طمانیت وتسکین زیادہ ہے فرض نماز ہی پڑھتے تھے کیونکہ پہلے انہوں نے نماز نہیں پڑھی ہوئی ہوتی کہ یہ نماز نفلی ہو جاتی۔
مزید برآں بعض روایات میں یہ تصریح موجود ہے، کہ ان کی نماز قوم کے ساتھ نفلی ہوتی تھی۔
(هِيَ لَهُ تَطُوَّع وَهِيَ لَهُمْ فَرِيْضَة)
یہ نماز معاذ کی نفل اور قوم کی فرض ہوتی تھی۔
اس لیے احناف اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا یہ نظریہ درست نہیں ہے کہ متنفل کے پیچھے مفرض کی نماز نہیں ہوتی۔
2۔
امام کو چاہیے کہ وہ نماز اتنی طویل نہ پڑھے، جو مقتدیوں کے لیے مشقت کا باعث ہو، خاص کر جبکہ اس کے مقتدی، ضعیف، بوڑھے اور محنت پیشہ لوگ ہوں۔
3۔
ایک واضح اور کھلی بات کی مخالفت کرنے والوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی جا سکتی ہے۔
حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپﷺ کی اقتداء میں نماز پڑھ کر جاتےتھے۔
اس طرح انہیں آپﷺ کی قراءت کا پتہ چلتا رہتا تھا، اس کے باجود انہوں نے اس کو نظر انداز کیا، اور اپنے پیچھے محنت ومشقت کرنے والے نمازیوں کا خیال نہ رکھا تو آپﷺ نے سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر لوٹتے تو ہماری امامت کرتے تھے - ایک روایت میں ہے: پھر وہ لوٹتے تو اپنی قوم کو نماز پڑھاتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نماز دیر سے پڑھائی اور ایک روایت میں ہے: عشاء دیر سے پڑھائی، چنانچہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر گھر واپس آ کر اپنی قوم کی امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی تو ان کی قوم میں سے ایک شخص نے جماعت سے الگ ہو کر اکیلے نماز پڑھ لی، لوگ کہنے لگے: اے فلاں! تم نے منافقت کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے منافقت نہیں کی ہے، پھر وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر یہاں سے واپس جا کر ہماری امامت کرتے ہیں، ہم لوگ دن بھر اونٹوں سے کھیتوں کی سینچائی کرنے والے لوگ ہیں، اور اپنے ہاتھوں سے محنت اور مزدوری کا کام کرتے ہیں (اس لیے تھکے ماندے رہتے ہیں) معاذ نے آ کر ہماری امامت کی اور سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے! کیا تم لوگوں کو فتنے اور آزمائش میں ڈالو گے؟ فلاں اور فلاں سورۃ پڑھا کرو۔“ ابوزبیر نے کہا کہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): ”تم «سبح اسم ربك الأعلى» ، «والليل إذا يغشى» پڑھا کرو“، ہم نے عمرو بن دینار سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: میرا بھی خیال ہے کہ آپ نے اسی کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 790]
➊ امام کو اپنے مقتدیوں کا لحاظ رکھتے ہوئے نماز مختصر پڑھانی چاہیے۔
➋ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نماز اور جماعت سے پیچھے رہنے کو نفاق سے تعبیر کیا کرتے تھے۔
➌ امام، مفتی اور داعی کو کسی عمل خیر میں اس نکتے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ عام مسلمانوں پر اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ ایسی صورت نہ ہو کہ لوگ دین ہی سے بدک جائیں۔ مردہ سنتوں کے احیاء کے لئے ضروری ہے کہ پہلے لوگوں کی فکری تربیت کی جائے اور ان میں سنت کی محبت بھر دی جائے اور دلائل محکمہ سے انہیں مطمئین کیا جائے۔ پھر عمل شروع کیا جائے۔ بعض اوقات ایک شخص کا ارادہ تو نیکی کا ہوتا ہے، مگر اس سے فتنہ پیدا ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنی عافیت میں رکھے۔ آئمہ اور داعی حضرات کی ذمہ دای انتہائی اہم اور حساس ہے۔
➍ پیچھے یہ گزر چکا ہے کے کسی بھی مشروع سبب سے نماز کو دہرانا اور نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض ادا کرنا جائز ہے۔ دیکھیے: [حديث 599]
کیونکہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ جو اپنی قوم کو پڑھایا کرتے تھے، وہ ان کی نفل نماز ہوتی تھی۔
ملحوظہ۔ اس روایت میں صرف مسافر کا ذکر صحیح نہیں ہے۔ [شيخ الباني]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انصار کا ایک شخص دو اونٹوں کے ساتھ جن پر سنچائی کے لیے پانی ڈھویا جاتا ہے معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا، اور وہ مغرب ۱؎ پڑھ رہے تھے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ شروع کر دی، تو اس شخص نے (الگ جا کر) نماز پڑھی، پھر وہ چلا گیا تو یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ معاذ کیا تم فتنہ پرداز ہو؟ “ «سبح اسم ربك الأعلى» اور «والشمس وضحاها» اور اس طرح کی سورتیں کیوں نہیں پڑھتے۔“ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 985]
➋ اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مفترض (فرض پڑھنے والا) متنفل (نفل پڑھنے والا) کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے، یعنی امام متنفل ہو اور مقتدی مفترض کیونکہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھ کر آتے تھے، پھر اپنی قوم کو آکر پڑھاتے تھے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی نماز نفل ہوتی تھی۔
➌ کسی عذر کی بنا پر مقتدی نماز سے نکل سکتا ہے۔
➍ مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے نماز ہلکی پڑھانا مستحب ہے۔
➎ جب مسجد میں جماعت ہو رہی ہو تو کسی شرعی عذر کی وجہ سے کوئی آدمی اکیلا نماز پڑھ لے تو جائز ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے، پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کی امامت کرتے، ایک رات انہوں نے نماز لمبی کر دی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھی، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آ کر ان کی امامت کرنے لگے، تو انہوں نے سورۃ البقرہ کی قرآت شروع کر دی، جب مقتدیوں میں سے ایک شخص نے قرآت سنی تو نماز توڑ کر پیچھے جا کر الگ سے نماز پڑھ لی، پھر وہ (مسجد سے) نکل گیا، تو لوگوں نے پوچھا، فلاں! تو منافق ہو گیا ہے؟ تو اس نے کہا: اللہ کی قسم میں نے منافقت نہیں کی ہے، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا، اور آپ کو اس سے باخبر کروں گا ؛ چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! معاذ آپ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں، پھر ہمارے پاس آتے ہیں، اور ہماری امامت کرتے ہیں، پچھلی رات انہوں نے نماز بڑی لمبی کر دی، انہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر واپس آ کر انہوں نے ہماری امامت کی، تو سورۃ البقرہ پڑھنا شروع کر دی، جب میں نے ان کی قرآت سنی تو پیچھے جا کر میں نے (تنہا) نماز پڑھ لی، ہم پانی ڈھونے والے لوگ ہیں، دن بھر اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ” معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو تم (نماز میں) فلاں، فلاں سورت پڑھا کرو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 836]
➋ ظاہر ہے آپ کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز فرض ہوتی تھی اور جو اپنی قوم کو پڑھاتے تھے وہ ان (معاذ رضی اللہ عنہ) کے لیے نفل ہوتی تھی اور مقتدیوں کے لیے فرض۔ اور یہی امام نسائی رحمہ اللہ کا استدلال ہے کہ امام نفل کی نیت سے پڑھ رہا ہو اور مقتدی فرض کی نیت سے تو کوئی حرج نہیں۔ محدثین اسے جائز سمجھتے ہیں مگر احناف کے نزدیک نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نہیں پڑھے جاسکتے۔ اس حدیث کو وہ منسوخ سمجھتے ہیں مگر نسخ ثابت نہیں لہٰذا حدیث میں مذکورہ صورت جائز ہے یعنی امام نماز پہلے پڑھ چکا ہو وہ نفل نماز کی نیت کے ساتھ ہو جب کہ مقتدیوں کی نیت فرض کی ہو تو یہ صورت بالکل صحیح ہے اور حدیث معاذ اس کی واضح دلیل ہے۔ واللہ آعلم۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے حدیث نمبر: 832۔
➌ امام اور مقتدی کے اختلاف نیت سے استدلال کرتے ہوئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ امام مثلاً: عصر کی نماز پڑھا رہا ہو تو کوئی شخص اس کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھ سکتا ہے جس کی نماز ظہر رہ گئی ہو اور نماز عصر وہ بعد میں اکیلا پڑھ لے۔ اور جن کے نزدیک ترتیب کے بغیر بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے ان کے نزدیک مذکورہ صورت میں یہ بھی جائز ہے کہ وہ امام کے ساتھ نماز عصر ہی ادا کرے اور سلام پھیرنے کے بعد وہ ظہر کی قضا پڑھ لے۔ دونوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔ واللہ آعلم۔
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا ایک شخص آیا اور نماز کھڑی ہو چکی تھی تو وہ مسجد میں داخل ہوا، اور جا کر معاذ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھنے لگا، انہوں نے رکعت لمبی کر دی، تو وہ شخص (نماز توڑ کر) الگ ہو گیا، اور مسجد کے ایک گوشے میں جا کر (تنہا) نماز پڑھ لی، پھر چلا گیا، جب معاذ رضی اللہ عنہ نے نماز پوری کر لی تو ان سے کہا گیا کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کیا ہے، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے صبح کر لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بیان کروں گا ؛ چنانچہ معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلا بھیجا، وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ” تمہیں کس چیز نے ایسا کرنے پر ابھارا؟ “ تو اس نے جواب دیا: اللہ کے رسول! میں نے دن بھر (کھیت کی) سینچائی کی تھی، میں آیا، تو جماعت کھڑی ہو چکی تھی، تو میں مسجد میں داخل ہوا، اور ان کے ساتھ نماز میں شامل ہو گیا، انہوں نے فلاں فلاں سورت پڑھنی شروع کر دی، اور (قرآت) لمبی کر دی، تو میں نے نماز توڑ کر جا کر الگ ایک کونے میں نماز پڑھ لی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ معاذ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں ڈالنے والے ہو؟ “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 832]
➋ یہ عشاء کی نماز کا واقعہ ہے۔ اس انصاری کو ادائیگی نماز کی داد دیجیے کہ سارا دن کام کرنے بلکہ رات کا ایک حصہ بھی گزر جانے کے باوجود اس نے کھانے اور آرام کرنے کی بجائے نماز کو ترجیح دی۔
➌ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو تنبیہ کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم «وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالضُّحَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَي» اور «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأعْلَى» جیسی سورتیں پڑھا کرو۔ دیکھیے: [صحیح البخاري الأذان حدیث: 705 و صحیح مسلم الصلاة حدیث: 465]
➍ عصر اور مغرب کی نماز میں قرآن مجید کی آخری چھوٹی سورتیں ظہر اور عشاء میں آخری درمیانی سورتیں اور صبح کی نماز میں آخری بڑی سورتیں مسنون ہیں۔ ویسے مقتدیوں کے لحاظ سے کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ” یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها» ، «سبح اسم ربك الأعلى» ، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 836]
فوائد و مسائل:
(1)
حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عشاء کی نماز نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں ادا کرنے کے بعد اپنے محلے کی مسجد میں جا کر نماز کی امامت کیا کرتے تھے۔
ایسی صورت میں جب کہ ان کی نماز مسجد نبوی ﷺ کی نماز سے بھی لیٹ ادا ہوتی تھی۔
طویل قراءت لوگوں کےلئے مزید مشقت اور گرانی کا باعث ہوتی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے آ کر نبی ﷺ سے ان کی شکایت بھی کی۔
جس پر آپﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تنبیہ فرمائی۔ (صحیح مسلم، الصلاۃ، باب القراءۃ فی العشاء، حدیث: 465)
(2)
اس موقع پر شکایت کرنے والے صاحب کو ایک اور وجہ سے بھی مشقت ہوئی۔
وہ محنت مشقت سے روزی کمانے والے آدمی تھے۔
مزدوری سے فارغ ہوکر آئے۔
دو اونٹ ساتھ تھے۔
دیکھا مسجد میں جماعت کھڑی ہے۔
تو نماز میں شامل ہوگئے۔
کچھ دن بھر کی تھکاوٹ کچھ اونٹوں کا فکر کچھ جلدی گھر پہنچ کرکھانے پینے اور آرام کی خواہش۔
ادھر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورہ بقرہ شروع کردی۔
اب معلوم نہیں حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلاوت سے لطف وانداز ہوتے ہوئے کہاں تک پڑھتے چلے جایئں۔
چنانچہ اس صحابی نے جماعت سے الگ ہوکر اپنی نماز پڑھی اور چلے گئے۔
حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے نامناسب خیال کیا۔
اور تنقید کے طور پرکچھ ارشاد فرمایا۔
انھیں خبر ملی تو رسول اللہ ﷺ سے جا شکایت کی۔
تب آپﷺ نے یہ بات فرمائی۔
دیکھئے: (صحیح البخاري، الأذان، باب من شکا إمامه اذا طوّل، حدیث: 705)
(3)
امام کو نماز میں کمزور اور ضرورت مند مقتدیوں کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
(4)
اگرکسی سے شکایت ہوتو اس کے متعلق کسی اعلیٰ شخصیت کو بتانا غیبت میں شامل نہیں۔
کیونکہ اس سے غلطی کی تلافی اور اس کی اصلاح مقصود ہے۔
(5)
عشاء کی نماز میں قراءت مختصر ہونی چاہیے۔
اس میں مذکورہ بالاسورتیں یا اس مقدار میں تلاوت کرنا مسنون ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، ہم میں سے ایک آدمی چلا گیا اور اکیلے نماز پڑھ لی، معاذ رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا: یہ منافق ہے، جب اس شخص کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پہنچی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو معاذ رضی اللہ عنہ کی بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” معاذ! کیا تم فتنہ پرداز ہونا چاہتے ہو؟ جب لوگوں کو نماز پڑھاؤ تو «والشمس وضحاها» ، «سبح اسم ربك الأعلى» «والليل إذا يغشى» اور «۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 986]
فوائد و مسائل:
(1)
صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمعین کی نظر میں نماز باجماعت کی اہمیت بہت زیادہ تھی۔
اس لئے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس قدر شدید ردعمل کا اظہار فرمایا۔
(2)
جس کی شکایت کی گئی ہو۔
اس کا موقف بھی معلوم کرنا چاہیے۔
تاکہ فریقین کی بات سن کر صحیح نتیجے تک پہنچا جا سکے۔
(3)
عشاء کی نماز میں قراءت مختصر ہونی چاہیے۔