حدیث نمبر: 7049
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، لَيُرْفَعَنَّ إِلَيَّ رِجَالٌ مِنْكُمْ ، حَتَّى إِذَا أَهْوَيْتُ لِأُنَاوِلَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَصْحَابِي ، يَقُولُ : لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ".
مولانا داود راز

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے ، ان سے ابووائل کے غلام مغیرہ ابن مقسم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حوض کوثر پر تم لوگوں کا پیش خیمہ ہوں گا اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے جب میں انہیں ( حوض کا پانی ) دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے کھینچ لیا جائے گا ۔ میں کہوں گا اے میرے رب ! یہ تو میری امت کے لوگ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد دین میں کیا کیا نئی باتیں نکال لی تھیں ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الفتن / حدیث: 7049
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6575

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7049. حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا۔ اور تم میں سے کچھ لوگ میری طرف آئیں گے۔ جب میں انہیں پانی دینے کے لیے جھکوں گا تو انہیں میرے سامنے سے دور کر دیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میرے ساتھی (امتی) ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: آپ کو معلوم نہیں کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین میں کیا نئی نئی باتیں نکال لی تھیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7049]
حدیث حاشیہ: نئی باتوں سے بدعات مروجہ مراد ہیں جیسے تیجہ، فاتحہ، چہلم، تعزیہ پرستی، عرس، قوالی وغیرہ وغیرہ۔
اللہ سب بدعات سے بچائے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7049 سے ماخوذ ہے۔