صحيح البخاري
كتاب الفتن— کتاب: فتنوں کے بیان میں
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لاَ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً} : باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الانفال میں) یہ فرمانا کہ ”ڈرو اس فتنہ سے جو ظالموں پر خاص نہیں رہتا (بلکہ ظالم و غیر ظالم عام خاص سب اس میں پس جاتے ہیں)“۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا عَلَى حَوْضِي أَنْتَظِرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ، فَيُؤْخَذُ بِنَاسٍ مِنْ دُونِي فَأَقُولُ أُمَّتِي. فَيَقُولُ لاَ تَدْرِي، مَشَوْا عَلَى الْقَهْقَرَى». قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ أَنْ نَرْجِعَ عَلَى أَعْقَابِنَا أَوْ نُفْتَنَ.´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے بشر بن سری نے بیان کیا ، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قیامت کے دن ) میں حوض کوثر پر ہوں گا اور اپنے پاس آنے والوں کا انتظار کرتا رہوں گا پھر ( حوض کوثر ) پر کچھ لوگوں کو مجھ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا جائے گا تو میں کہوں گا کہ یہ تو میری امت کے لوگ ہیں ۔ جواب ملے گا کہ آپ کو معلوم نہیں یہ لوگ الٹے پاؤں پھر گئے تھے ۔ “ ابن ابی ملیکہ اس حدیث کو روایت کرتے وقت دعا کرتے ” اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا فتنہ میں پڑ جائیں ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
بدعت وہ بدترین کام ہے جس سے ایک مسلمان کے سارے نیک اعمال اکارت ہوجاتے ہیں اور بدعتی حوض کوثر اور شفاعت نبوی سے محروم ہوکر خائب و خاصر ہوجائیں گے یا اللہ! ہر بدعت اور ہر برے کام سے بچائیو، آمین۔
یا اللہ! اس حدیث پر ہم بھی تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم الٹے پاؤں پھرجائیں یعنی دین سے
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام میں سب سے بڑا فتنہ یہ ہے کہ انسان کسی بدعت کا مرتب ہو اور اس طرح وہ دین اسلام سے پھر جائے۔
اس جرم کی پاداش میں انسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفارش سے محروم ہوسکتاہے اور اس کے نیک اعمال ضائع ہو سکتے ہیں۔
2۔
ہم بھی ابن ابی ملیکہ کی طرح اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں۔
یااللہ!ہم بھی تیری پناہ کے طالب ہیں ایسا نہ ہو کہ ہم الٹے پاؤں پھر جائیں یا کسی فتنے میں مبتلا ہوکرتباہ و بربادہو جائیں۔
آمین یا رب العالمین۔