صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَعْدَ صَلاَةِ الصُّبْحِ: باب: صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا۔
حَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ أَبُو هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ لِأَصْحَابِهِ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رُؤْيَا ؟ ، قَالَ : فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ ، وَإِنَّهُ قَالَ ذَاتَ غَدَاةٍ : إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي ، وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي : انْطَلِقْ ، وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ ، فَيَثْلَغُ رَأْسَهُ ، فَيَتَهَدْهَدُ الْحَجَرُ هَهُنَا فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ فَيَأْخُذُهُ ، فَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ، ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى ، قَالَ ، قُلْتُ لَهُمَا : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا هَذَانِ ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ ، وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ ، وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ ، فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَمَنْخِرَهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَعَيْنَهُ إِلَى قَفَاهُ ، قَالَ : وَرُبَّمَا قَالَ أَبُو رَجَاءٍ : فَيَشُقُّ ، قَالَ : ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ ، فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ ذَلِكَ الْجَانِبُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى ، قَالَ : قُلْتُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، مَا هَذَانِ ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ التَّنُّورِ ، قَالَ : فَأَحْسِبُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : فَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ ، قَالَ : فَاطَّلَعْنَا فِيهِ ، فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهَبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ ، فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَؤُلَاءِ ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ ، وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ سَابِحٌ يَسْبَحُ ، وَإِذَا عَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ حِجَارَةً كَثِيرَةً ، وَإِذَا ذَلِكَ السَّابِحُ يَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الَّذِي قَدْ جَمَعَ عِنْدَهُ الْحِجَارَةَ ، فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا فَيَنْطَلِقُ يَسْبَحُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ ، كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ فَأَلْقَمَهُ حَجَرًا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَذَانِ ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً ، وَإِذَا عِنْدَهُ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَذَا ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، فَانْطَلَقْنَا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْتَمَّةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ لَوْنِ الرَّبِيعِ ، وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَيِ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ ، وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : مَا هَذَا ، مَا هَؤُلَاءِ ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : انْطَلِقِ انْطَلِقْ ، قَالَ : فَانْطَلَقْنَا ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى رَوْضَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ رَوْضَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ ، قَالَ : قَالَا لِي : ارْقَ فِيهَا ، قَالَ : فَارْتَقَيْنَا فِيهَا ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنِ ذَهَبٍ وَلَبِنِ فِضَّةٍ ، فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ ، فَاسْتَفْتَحْنَا ، فَفُتِحَ لَنَا ، فَدَخَلْنَاهَا ، فَتَلَقَّانَا فِيهَا رِجَالٌ شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ ، قَالَ : قَالَا لَهُمْ : اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ ، قَالَ : وَإِذَا نَهَرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّ مَاءَهُ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ ، فَذَهَبُوا ، فَوَقَعُوا فِيهِ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا قَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ ، فَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ ، قَالَ : قَالَا لِي : هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ ، وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ ، قَالَ : فَسَمَا بَصَرِي صُعُدًا ، فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ ، قَالَ : قَالَا لِي : هَذَاكَ مَنْزِلُكَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا ، ذَرَانِي فَأَدْخُلَهُ ، قَالَا : أَمَّا الْآنَ فَلَا ، وَأَنْتَ دَاخِلَهُ ، قَالَ : قُلْتُ لَهُمَا : فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ ؟ ، قَالَ : قَالَا لِي : أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ ، أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ ، وَيَنَامُ عَنِ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَمَنْخِرُهُ إِلَى قَفَاهُ ، وَعَيْنُهُ إِلَى قَفَاهُ ، فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ ، وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ ، فَإِنَّهُمُ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ ، وَيُلْقَمُ الْحَجَرَ ، فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا ، فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ ، وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي فِي الرَّوْضَةِ ، فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ ، فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ ، قَالَ : فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ ، وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانُوا شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطْرٌ قَبِيحًا ، فَإِنَّهُمْ قَوْمٌ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا تَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ " .
´مجھ سے ابوہشام مؤمل بن ہشام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے ، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے ، ان سے ابورجاء نے ، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ۔ بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا ۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا ، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا ، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا ۔ کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو ، آگے بڑھو ۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا ۔ ( عوف نے ) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء ( راوی حدیث ) نے «فيشق» کہا ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا ۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی ۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا ۔ ( اس طرح برابر ہو رہا ہے ) فرمایا کہ میں نے کہا سبحان اللہ ! یہ دونوں کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو ، ( ابھی کچھ نہ پوچھو ) چنانچہ ہم آگے چلے پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے ۔ راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی ۔ کہا کہ پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو ۔ فرمایا کہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے ۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا ۔ فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو ۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت ۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا چلو آگے چلو ۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے ۔ اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا ، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے یہ بچے کون ہیں ؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو آگے چلو فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے ، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھئیے ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی ۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا ۔ وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے ۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت ۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی اس کا پانی انتہائی سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میری نظر اوپر کی طرف اٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی منزل ہے ۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے ۔ مجھے اس میں داخل ہونے دو ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے ۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں ۔ یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں ۔ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو بتائیں گے ۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی ۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا ، جو دنیا میں پھیل جاتی اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہے اور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو ( بچپن ہی میں ) فطرت پر مر گئے ہیں ۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مشرکین کے بچے بھی ( ان میں داخل ہیں ) اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس عظیم خواب کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے دوزخیوں کے عذاب کے نظارے دکھلائے گئے۔
پہلا شخص قرآن شریف پڑھا ہوا حافظ ‘ قاری مولوی تھا جو نماز کی ادائیگی میں مستعد نہیں تھا۔
دوسرا شخص جھوٹی باتیں پھیلانے والا ‘ افاہیں اڑانے والا ‘ جھوٹی احادیث بیان کرنے والا تھا۔
تیسرے زنا کار مرد اور عورتیں تھیں جو ایک تنور کی شکل میں دوزخ ک عذاب میں گرفتار تھے۔
خون اور پےپ کی نہر میں غوطہ لگانے والا ‘ سود بیاج کھانے والا انسان تھا۔
بد صورت انسان دوزخ کی آگ کو بھڑ کانے والا دوزخ کا داروغہ تھا۔
عظیم طویل بزرگ ترین انسان حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے جن کے ارد گرد معصوم بچے بچیاں تھیں جو بچپن ہی میں دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں وہ سب حضرت سیدنا خلیل اللہ علیہ السلام کے زیر سایہ جنت میں کھیلتے پلتے ہیں۔
یہ ساری حدیث بڑے ہی غور سے مطالعہ کے قابل ہے۔
اللہ پاک ہر مسلمان کو اس سے عبرت حاصل کرنے کی تو فیق بخشے۔
مشرکین اور کفار کے معصوم بچوں کے بارے میں اختلاف ہے مگر بہتر ہے کہ اس بارے میں سکوت اختیار کر کے معاملہ اللہ کے حوالہ کر دیا جائے ایسے جزوی اختلاف کو بھول جانا آج وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔
اس حدیث پر پارہ نمبر28کا اختتام ہو جاتا ہے۔
سارا پارہ ہم مضامین پر مشتمل ہے جن کی پوری تفاصیل کے لئے دفاتر در کار ہیں جن میں سیاسی ‘ اخلاقی ‘ سماجی ‘ مذہبی ‘ فقہی بہت سے مضامین شامل ہیں۔
مطالعہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اونچے پایہ کے لائق ترین انسانیت کی پاکیزہ مجلس ہے جس میں انسانیت کے اہم مسائل کا تذکرہ مختلف عنوانات سے ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔
آخر میں خوابوں کی تعبیرات کے مسائل ہیں جو انسان کی روحانی زندگی سے بہت زیادہ تعلقات رکھتے ہیں۔
انسانی تاریخ میں کتنے انسانوں کے ایسے حالات ملتے ہیں کہ محض خواب کی بنا پر ان کی دنیا عظیم ترین حالات میں تبدیل ہو گئی اور یہ چیز کچھ اہل اسلام ہی سے متعلق نہیں ہے بلکہ اغیار میں بھی خوابوں کی دنیا مسلم ہے یہاں جو تعبیرات بیان کی گئی وہ سب حقائق ہیں جن کی صحت میں ایک ذرہ برابر بھی شک وشبہ کی کسی مومن مرد وعورت کے لئے گنجائش نہیں ہے۔
یا اللہ: آج ا س پارہ اٹھائیس کی تسوید سے فراغت حاصل کررہا ہوں اس میں جہاں بھی قلم لغزش کھا گئی ہو اورکوئی لفظ کوئی جملہ کوئی مسئلہ تیری اور تیرے حبیب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی کے خلاف قلم پر آگیا ہو نہایت عاجزی وانکساری سے تیرے دربار عالیہ میں اس کی معافی کے لیے درخواست پیش کرتا ہوں۔
ایک نہایت عاجز کمزور مریض گنہگار تیرا حقیر ترین بندہ ہوں جس سے قدم قدم لغزشوں کا امکان ہے۔
اس لیے میرے پروردگار تو اس غلطی کو معاف فرمادے اور تیرے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ کے اس عظیم پاکیزہ ذخیرے کی اس خدمت کو قبول فرما کر قبول عام عطا کردے اور اسے نہ صرف میرے لیے بلکہ میرے جملہ معزز شائقین اور کاتبین کے لیے ماں باپ اور اہل وعیال کے لیے اور میرے سارے معزز معاونین کرام کے لیے اسے ذخیرہ آخرت اور صدقہ جاریہ کے طور پر قبول فرما کر اسے تمام شائقین کرام کے لئے ذریعہ سعادت دارین بنائیو۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین! صل وسلم علی حبیبک سید المرسلین علیٰ آلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔
1۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خواب بہت سے عجیب وغریب حقائق پر مشتمل ہے اور انبیاء علیہ السلام کے خواب وحی ہوتے ہیں۔
اس میں چار قسم کے جرائم پیشہ لوگوں کو دی جانے والی سنگین اور ہولناک سزائیں بیان ہوئی ہیں جن میں ہمارے لیے بہت سا عبرت کا سامان ہے۔
ان جرم پیشہ لوگوں کی تفصیل حسب ذیل ہے:۔
پہلا شخص قرآن کریم کا عالم اور قاری جو نماز کی ادائیگی میں سنجیدہ نہیں تھا بلکہ غفلت وسستی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سوتے ہوئے ضائع کردیتا تھا۔
۔
دوسرا شخص جھوٹی باتیں پھیلانے والا،افواہیں اڑانے والا اور جھوٹی احادیث بیان کرنے والا تھا۔
۔
تیسرے زناکار عورتیں اور زنا کار مرد تھے جو ایک تنور میں جہنم کی سزا بھگت رہے تھے۔
۔
خون اور پیپ کی نہر میں غوطے لگانے والا اور منہ پر زناٹے پتھر کھانے والا سودخورتھا۔
یہ حدیث بڑے ہی غور سے مطالعے کے قابل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اس سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق دے۔
2۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ خوابوں کی تعبیر طلوع آفتاب کے بعد کرنی چاہیے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان حضرات کی تردید کے لیے یہ حدیث پیش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہ تھا کہ آپ جب نماز فجر پڑھ لیتے تو صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے خواب سنتے یا خود کوئی خواب بیان کرتے کیونکہ اس وقت خواب کانقشہ ذہن میں تازہ ہوتا ہے۔
اور تعبیر کرنے والا بھی خالی ذہن ہوتا ہے،پھر اگرخواب دیکھنے والے کو خبردار کرنا ہوتو یہ مناسب ہے کہ وہ آئندہ تمام اوقات میں محتاط رہے۔
3۔
اس مناسبت سے ہم ائمہ مساجد اور خطباء حضرات کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ علم تعبیر سے واقفیت حاصل کریں اور اگر وہ فن تعبیر سے واقف ہیں تو صبح کی نماز کے بعد لوگوں کے خواب سنیں اور ان کی مناسب تعبیر کریں۔
علم تعبیر لوگوں کو نیکی کی طرف بلانے اور بُرائی سے روکنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے بشرط یہ کہ ہم لوگ خواب کی تعبیر کے تمام آداب وقواعد سے واقف ہوں۔
بہرحال اس مسنون عمل کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔w
ایسے لوگوں کو اللہ پاک اپنے فضل سے بخش دے گا۔
اس کے وعدہ (إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي)
کا تقا ضا ہے۔
1۔
شان نزول کے اعتبار سے مذکورہ آیت خاص لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی لیکن حکم کے اعتبار سے یہ ہر اس مسلمان کو شامل ہے جس کے اعمال نیک اور بد دونوں قسم کے ہیں۔
ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف کردے گا اور انھیں پروانہ مغفرت عطا فرمائے گا کیونکہ اس ذات کریم کا وعدہ ہے: ’’اور میری رحمت تمام اشیاء پرمحیط ہے۔
‘‘ (فتح الباري: 432/8)
وہ قیامت کے دن ایسے لوگوں کو معاف کردے گا جن کے اعمال بُرے اچھے ملے جلے ہوں گے۔
2۔
دوسری روایت میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جو دوشخص ملے وہ اللہ کے فرشتے حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے۔
(الأعراف: 156/7)
یہ روایت پہلے مفصل طور پر گزر چکی ہے۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3236)
یہاں اس سے فرشتوں کا وجود ثابت کرنا مقصود ہے۔
1۔
مذکورہ حدیث ایک طویل حدیث کا آخری حصہ ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے بحالت خواب مختلف جرائم پیشہ لوگوں کو سنگین سزاؤں سے دوچار ہوتے دیکھا۔
اس خواب میں آپ نے ایک آدمی کو آگ روشن کرتے دیکھا۔
اس حدیث میں اس آدمی کے متعلق نشاندہی کی گئی کہ وہ جہنم کا نگران (مالک)
فرشتہ ہے۔
اس خواب کا آغاز اس طرح ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے پاس دوآدمی آئے۔
وہ میراہاتھ پکڑ کر مجھے ارض مقدس لے گئے۔
‘‘ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ وہ دوآدمی حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے۔
اس طویل حدیث کو امام بخاری ؒ نے کتاب الجنائز (حدیث: 1386)
میں بیان کیاہے۔
2۔
اس مقام پر یہ بتانا مقصود ہے کہ فرشتے اپنا وجود رکھتے ہیں اور وہ اللہ کی مخلوق ہیں جنھیں مختلف صورتیں اختیار کرلینے کی سہولت ہے۔
اسے ان لوگوں کی تردیدہوتی ہے۔
جوفرشتوں کو "عقول مجردہ" سے تعبیرکرتے ہیں۔
دو شخصوں سے مراد حضرت جبرائیل و میکائیل ؑ ہیں جو پہلے آپ کو بیت المقدس لے گئے تھے‘ بعد میں آسمانوں کی سیر کرائی اور جنت و دوزخ کے بہت سے مناظر آپ ﷺ کو دکھلائے۔
جسمانی معراج کا واقعہ الگ ہے جو بالکل حق اور حقیقت ہے۔
مفصل حدیث پہلے گزرچکی ہے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث 1386)
اس حدیث میں ہے کہ آنے والے دو آدمی حضرت جبرئیل ؑ اور حضرت میکائیل ؑ تھے اور یہ مناظر آپ نے خواب میں دیکھے۔
جسمانی معراج کا واقعہ اس کے علاوہ ہے جو عالم بیداری میں ہوا۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے (أَوْسَطُ الْجَنَّةِ)
کی تفسیر بیان کی ہے کہ اس سے مراد جنت کا درمیانی درجہ نہیں بلکہ اعلیٰ درجہ ہے۔
(فتح الباري: 17/6)
1۔
مذکورہ حدیث ایک طویل حدیث کا حصہ ہے جسے امام بخاری ؒ نے کتاب التعبیر (حدیث: 7047)
میں بیان کیا ہے۔
اس میں ہے کہ اس طویل القامت آدمی کے اردگرد بہت سے بچےتھے۔
ان کے متعلق بتایا گیا کہ یہ وہ بچے ہیں جو فطرت اسلام پر فوت ہوئے ہیں۔
اس حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کےطویل القامت ہونے سے مراد ان کا عالی مرتبہ ہونا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے ان کی فضیلت کے سلسلے میں یہ حدیث بیان کی ہے۔
3۔
اگلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ شکل وصورت اوراخلاق و سیرت میں حضرت ابراہیم ؑ سے ملتے جلتے تھے۔
إلا من عصمه اللہ۔
(1)
یہ حدیث ایک لمبے خواب کا حصہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا تھا، جس میں قیامت کا دن مجرموں کو دی جانے والی سزاؤں کا نقشہ پیش کیا گیا تھا۔
کذاب انسان کو ملنے والی سزا اس طرح تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا جبکہ دوسرا آدمی کھڑا تھا اور اس کے ہاتھ میں لوہے کی کنڈی تھی جسے وہ بیٹھنے والے کے جبڑے میں داخل کرتا پھر اسے چیرتا ہوا اس کی گدی تک لے جاتا، اس طرح اس کے دوسرے جبڑے سے کرتا پھر پہلا جبڑا صحیح ہو جاتا، قیامت تک اس کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا رہے گا۔
(صحیح البخاري،الجنائز، حدیث: 1386) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس شخص کو منہ میں عذاب دیا جائے گا کیونکہ اس کے جرم کا محل اس کا منہ تھا، وہ اس کے ذریعے سے جھوٹ بولا کرتا تھا۔
پہلی حدیث میں جھوٹے انسان کے انجام کو بیان کیا گیا تھا اور اس حدیث میں اس انجام کی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔
(فتح الباري: 625/10)
اس میں سود خور کا عذاب دکھلایا گیا ہے کہ دنیا میں اس نے لوگوں کا خون چوس چوس کر دولت جمع کرلی، اسی خون کی وہ نہر ہے جس میں وہ غوطہ کھلایا جارہا ہے۔
بعض روایات میں وسط النہر کی جگہ شط النہر کا لفظ ہے۔
(1)
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے: جس شخص کے آگے پتھ پڑے تھے وہ نہر کے درمیان میں نہیں بلکہ نہر کے کنارے پر کھڑا تھا،سیاق وسباق کے اعتبار سے یہی بات صحیح ہے۔
یہ ایک طویل حدیث ہے جو كتاب التعبير میں بیان ہوگی۔
(صحیح البخاری،التعبیر،حدیث: 7047) (2)
اس حدیث میں قیامت کے دن سود خور کو ملنے والے عذاب کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے کہ دنیا میں اس نے لوگوں کا خون چوس چوس کر دولت جمع کی،قیامت کے دن وہی خون ایک نہر کی صورت اختیار کرے گا جس میں اسے غوطے دیے جائیں گے۔
(3)
اس حدیث میں اگرچہ سود لکھنے اور اس پر گواہی دینے کا ذکر نہیں ہے،تاہم یہ لوگ سود خور کے معاون ہیں،اس لیے حکم کے اعتبار سے انھیں سود خور کے ساتھ ہی ملایا گیا ہے۔
(فتح الباری: 4/397)
(1)
اس حدیث پر باب بلا عنوان ہے، گویا عنوان سابق کا تکملہ اور تتمہ ہے۔
(2)
اس حدیث سے امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ لوگ مشرک ہوں یا مومن ان کی نابالغ اولاد جنت میں ہو گی، کیونکہ اس حدیث میں فرشتوں نے وضاحت کی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے بچے لوگوں کی نابالغ اولاد ہے۔
لوگوں کی اولاد کا لفظ عام ہے جو مشرکین کی اولاد کو بھی شامل ہے۔
اس میں کسی کی تخصیص نہیں۔
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو كتاب التعبير میں بایں الفاظ بیان کیا ہے: ’’وہ بچے جو آپ نے حضرت ابراہیم ؑ کے گرد دیکھے تھے، وہ تھے جنہیں فطرت پر موت آئی تھی۔
‘‘ صحابہ میں سے کسی نے کہا اللہ کے رسول! مشرکین کی اولاد بھی، آپ نے فرمایا: ’’مشرکین کی اولاد بھی ان میں شامل ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7047)
اس روایت میں صراحت ہے کہ مشرکین کی وہ اولاد جو بلوغ سے پہلے مر گئی، ان کی موت فطرت پر تھی اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں دیکھا تھا۔
اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ مشرکین کے بچے بھی مسلمانوں کے بچوں کی طرح جنت میں ہوں گے۔
حافظ ابن حجر ؒ نے اس موقف کی تائید میں چند ایک روایات بھی پیش کی ہیں۔
حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ اولاد آدم میں سے جو بے خبر ہیں انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے میری اس دعا کو قبول کر لیا ہے۔
‘‘ (مسند أبي یعلیٰ: 397/3، رقم: 4087، طبع دارالکتب العلمیة، بیروت)
روایت میں وضاحت ہے کہ ’’بےخبر‘‘ سے مراد معصوم بچے ہیں۔
خنساء بنت معاویہ اپنی پھوپھی سے بیان کرتی ہیں، انہوں نے کہا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ جنت میں کون ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا: ’’انبیاء، شہداء اور نومولود بچے جنت میں ہوں گے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الجھاد، حدیث: 2521)
ان دونوں احادیث کی اسناد حسن ہیں۔
(فتح الباري: 312/3)
آج دوزخ میں اس کو یہ سزا مل رہی ہے۔
یہ حدیث تفصیل کے ساتھ آگے آئے گی۔
(1)
اس روایت کو امام بخاری ؒ نے تفصیل سے کتاب الجنائز میں بیان کیا ہے۔
(صحیح البخاري، الجنائز، حدیث: 1385)
اس میں یہ الفاظ ہیں کہ خواب میں جس کا سر کچلا جا رہا تھا وہ، وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت دی لیکن اس نے رات کے وقت اسے نہ پڑھا اور دن کے وقت اس پر عمل نہ کیا۔
(2)
اس روایت سے بعض حضرات نے نماز تہجد کے واجب ہونے پر دلیل لی ہے۔
امام بخاری ؒ نے مذکورہ روایت سے ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد فرض نماز ہے، نماز تہجد کا وجوب اس سے ثابت نہیں ہوتا۔
(فتح الباري: 32/3)