صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ فَلاَ يُخْبِرْ بِهَا وَلاَ يَذْكُرْهَا: باب: جب کوئی برا خواب دیکھے تو اس کی کسی کو خبر نہ دے اور نہ اس کا کسی سے ذکر کرے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يُحِبُّهَا فَإِنَّهَا مِنَ اللَّهِ فَلْيَحْمَدِ اللَّهَ عَلَيْهَا وَلْيُحَدِّثْ بِهَا ، وَإِذَا رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ ، فَإِنَّمَا هِيَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَلْيَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا ، وَلَا يَذْكُرْهَا لِأَحَدٍ ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " .´ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا ، ان سے یزید نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ،` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس پر اسے اللہ کی تعریف کرنا چاہئیے اور اسے بیان بھی کرنا چاہئیے اور جب کوئی خواب ایسا دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اور اسے چاہئیے کہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے ، کیونکہ وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
برے خواب کے آداب حسب ذیل ہیں جسے ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔
تین دفعہ بائیں جانب تھوتھوکرے۔
شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔
اپنا پہلوفوراً بدل لے۔
یہ خواب کسی سے بیان نہ کرے۔
دو رکعت نماز ادا کرے۔
اس کی صراحت ایک دوسری حدیث میں ہے۔
(صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5900(2263)
2۔
واضح رہے کہ دروغ گوئی (جھوٹ بولنا)
حرام کمائی اور گناہوں کا ارتکاب برے خواب آنے کا باعث ہے اور راست بازی (سچ بولنا)
حلال کمائی نیکیوں کا اہتمام اچھے خواب کا ذریعہ ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے: ’’اچھا خواب کسی عالم یا خیر خواہی کو بیان کرے۔
‘‘ (جامع الترمذي، تعبیر الرؤیا، حدیث: 2278)
ایک روایت میں ہے: ’’اگر کوئی شخص ناپسندیدہ خواب دیکھے تو تین دفعہ بائیں طرف تھوک دے۔
شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور فوراً اپنا پہلو بدل لے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5904(2262)
ایک روایت میں ہے: ’’اس وقت اُٹھ کر نماز ادا کرے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5905(2263)
2۔
ان روایات سے اچھے اور بُرے خواب کے آداب بیان ہوئے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے: اچھے خواب دیکھنے کے آداب: اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے۔
یہ خوشخبری دوسروں کو سنائے۔
فرحت، مسرت کا اظہار کرے، عام لوگوں کو بتانے کے بجائے وہ کسی خیر خواہ دوست اور ماہر تعبیر عالم دین کو بتائے۔
بُرے خواب دیکھنے کے آداب: تین دفعہ اپنی بائیں طرف تھوک دے۔
شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔
فوراً اپنا پہلو بدل لے، اس قسم کاخواب کسی سے بیان نہ کرے۔
اس وقت اٹھ کر نماز پڑھے۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر خواب کی خلقت اور روئیت تو اللہ کی طرف سے ہوتی ہے مگر بُرے خواب کا سبب چونکہ شیطان کی دراندازی ہے اس لیے ایسے خواب کو شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ انسانوں کو پریشان کرنے کے لیے اس قسم کے تصرفات سے کام لیتا ہے۔
واللہ أعلم۔