صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ الطَّوَافِ بِالْكَعْبَةِ فِي الْمَنَامِ: باب: خواب میں کعبہ کا طواف کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الشَّعَرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطُفُ رَأْسُهُ مَاءً ، فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالُوا : ابْنُ مَرْيَمَ ، فَذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالُوا : هَذَا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ ، وَابْنُ قَطَنٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ مِنْ خُزَاعَةَ " .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے خبر دی ، انہیں سالم بن عبداللہ ابن عمر نے خبر دی ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا ۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے ، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ ، بھاری جسم والا ، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا کہ یہ دجال ہے ۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی ۔ “ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سر سے پانی ٹپکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے بال بہت سفید اور نورانی تھے۔
ان کی لطافت و نظافت کو پانی کے قطرے ٹپکنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سرخ رنگ کے تھے۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث 3438)
جبکہ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قسم اٹھا کر اس بات کا انکار کرتے تھے۔
(صحیح البخاري: أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3441)
ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ نہ سنے ہوں یا سننے کے بعد سہوو نسیان کا شکار ہو گئے ہوں۔
2۔
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خالص سرخ رنگ کے نہ تھے بلکہ اس میں سفیدی بھی تھی بلکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ ان کے رنگ میں سرخ اور سفید دونوں کی جھلک تھی۔
(صحیح البخاري، بدء الخلق، حدیث: 3239 وفتح الباري: 593/6)
3۔
دجال اپنے ظاہر ہونے کے بعد مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےدجال کو اس کے ظاہر ہونے سے پہلے خواب کی حالت میں دیکھا ہے۔
واللہ أعلم۔
اسی لیے ہم نے جعد کےمعنی اس حدیث میں کٹھے ہوئےجسم کےگئے ہیں اور مطابقت اس طرح بھی سکتی ہےکہ خفیف گھونگربال تیل ڈالنے یا پانی سےبھگونے یا گفتگو کرنے سےسیدھے ہوجاتے ہیں۔
(وحیدی)
1۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ ؑ کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’وہ سرخ رنگ کے تھے‘‘ جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے انکار کرتے ہیں ممکن ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کے متعلق ان الفاظ میں نہ سنا ہو یا سننے کے بعد سہو ونسیان کا شکار ہوگئے ہوں۔
حافظ ابن حجر ؒ نے دونوں روایات کو اس طرح جمع کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ خالص سرخ رنگ کے نہ تھے بلکہ اس میں سفیدی بھی تھی کیونکہ عرب کے ہاں احمر اس سفید آدمی کو کہتے ہیں جس میں رنگ کی ملاوٹ ہو اور آدم،گندم گوں رنگ والے کو کہا جاتا ہے۔
بلکہ ایک روایت میں صراحت ہے کہ آپ کے رنگ میں سرخ اور سفید کی جھلک تھی۔
(سنن أبي داود، الملاحم، حدیث: 4324 و فتح الباري: 593/6)
2۔
ابن قطن کا نام عبدالعزیٰ بن قطن بن عمرو بن جندب ہے اور اس کی ماں کا نام ہالہ بنت خویلد ہے۔
واللہ أعلم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال ملعون اور ابن مریم علیہ السلام کو بیک وقت دیکھا حالانکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر دجال یوں پگھل جائے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیت اللہ میں دیکھا جبکہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
محدثین نے اس کا دو طرح سے جواب دیا ہے۔
(ا)
یہ ایک خواب کا معاملہ ہے اور خواب میں ایک ناممکن چیز کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، (ب)
دجال کے ظاہر ہونے سے پہلے کا معاملہ ہے۔
ظاہر ہونے کے بعد وہ عیسیٰ علیہ السلام کا سامنا نہیں کر سکے گا۔
اور نہ وہ حرمین میں داخل ہی ہو سکے گا۔
(فتح الباري: 123/13)