صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ التَّعْلِيقِ بِالْعُرْوَةِ وَالْحَلْقَةِ: باب: کنڈے یا حلقے کو (خواب میں) پکڑ کر اس سے لٹک جانا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ . ح وحَدَّثَنِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ عُبَادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ وَوَسَطَ الرَّوْضَةِ عَمُودٌ فِي أَعْلَى الْعَمُودِ عُرْوَةٌ ، فَقِيلَ لِي ، ارْقَهْ ، قُلْتُ ، لَا أَسْتَطِيعُ ، فَأَتَانِي وَصِيفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي ، فَرَقِيتُ ، فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ ، فَانْتَبَهْتُ وَأَنَا مُسْتَمْسِكٌ بِهَا ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : تِلْكَ الرَّوْضَةُ رَوْضَةُ الْإِسْلَامِ ، وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ ، وَتِلْكَ الْعُرْوَةُ عُرْوَةُ الْوُثْقَى ، لَا تَزَالُ مُسْتَمْسِكًا بِالْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ " .´مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ازہر نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن عون نے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ، ان سے معاذ نے بیان کیا ، ان سے ابن عون نے بیان کیا ، ان سے محمد نے ، ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے ( خواب ) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے ۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے چڑھا دئیے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا ، ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی ۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ «عروة الوثقى» تھا ، تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اہل تعبیر کہتے ہیں کہ حلقہ اور عروہ سے مراد پکڑنے والے کی دینی قوت اور اس کا اخلاق ہے۔
حدیث میں عروہ ثقی سے درج ذیل آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے۔
’’جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایسے مضبوط حلقے کو تھام لیا جو کسی صورت میں ٹوٹ نہیں سکتا۔
‘‘ (البقرة: 256/2)
حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بیدار ہوئے تو عروہ ثقی ان کے ہاتھ میں تھا۔
شارحین نے دو طرح سے اس کا مفہوم بیان کیا ہے۔
میں اسے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی یعنی خواب میں اسے پکڑے ہوئے تھا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ بیداری کے وقت اللہ تعالیٰ کی قدرت سے حلقے اور کڑے کو پکڑے ہوئے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں۔
(عمدة القاري: 295/16)
1۔
حضرت عبداللہ بن سلام ؓ جب خواب سے بیدار ہوئے تھے تو عروہ وثقیٰ کو تھامے ہوئے تھے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کنڈا پکڑنے کے بعد اور اسے چھوڑنے سے پہلے بیدار ہوگئے، یعنی کنڈا پکڑنے اور بیدارہونے میں کوئی فاصلہ واقع نہیں ہواتھا یا بیدا رہونے کےبعد مٹھی بھرے ہوئے تھے جیسا کہ کوئی چیز پکڑے ہوئے ہیں۔
2۔
اس عروہ وثقیٰ سے مراد ایمان ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اب جو شخص طاغوت سے کفر کرے اوراللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایسے مضبوط حلقے کو تھام لیا جو ٹوٹ نہیں سکتا۔
‘‘ (البقرة: 256/2)
3۔
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کی فضیلت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’تم مرتے دم تک اسلام پر قائم رہو گے۔
‘‘ واللہ اعلم۔
(فتح الباري: 166/7)
ما ينبغي لاحد ان يقول مالايعلم: کسی کو کوئی بات بلا سند و دلیل نہیں کرنی چاہیے، انہوں نے تجھے یہ تو بتا دیا کہ یہ جنتی ہے، لیکن اس کی دلیل اور سند بیان نہیں کی، اس لیے میں تمہیں اس کا سبب اور پس منظر بتاتا ہوں، تاکہ تم بات دلیل سے کر سکو۔
(1)
جواد: جادة کی جمع ہے، دال پر شد ہے، شاہراہ عام، وہ کھلا راہ جس پر لوگ چلتے ہوں۔
(2)
جواد، منهج: شاہراہ عام جو مستقیم اور سیدھی ہو۔
کیونکہ نهج سیدھے راستہ کو کہتے ہیں، کھلا، واضح اور سیدھا راستہ۔
(3)
زجل بي: مجھے پھینک دیا، یعنی اوپر چڑھا دیا۔
خرشہ بن حرر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو مسجد نبوی میں چند بوڑھوں کے پاس آ کر بیٹھ گیا، اتنے میں ایک بوڑھا اپنی لاٹھی ٹیکتے ہوئے آیا، تو لوگوں نے کہا: جسے کوئی جنتی آدمی دیکھنا پسند ہو وہ اس شخص کو دیکھ لے، پھر اس نے ایک ستون کے پیچھے جا کر دو رکعت نماز ادا کی، تو میں ان کے پاس گیا، اور ان سے عرض کیا کہ آپ کی نسبت کچھ لوگوں کا ایسا ایسا کہنا ہے؟ انہوں نے کہا: الحمدللہ! جنت اللہ کی ملکیت ہے وہ جسے چاہے اس میں داخل فرمائے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک خواب دیکھا تھا، میں نے دیکھا، گویا ایک شخص میرے پاس آیا،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3920]
فوائد ومسائل: (1)
حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودی مذہب پر تھےاور ان کے بہت بڑے عالم تھے۔
(2)
دین پر مرتے وقت دم تک قائم رہنا نجات کا باعث ہے۔
(3)
شہادت کے منصب کو پھسلواں پہاڑ سے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جس طرح پھسلن والے پہاڑ پر چڑھنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح جہاد کرکے شہادت حاصل کرنا، مشکل ہے لیکن وہ پہاڑ کی طرح بلند اور عظیم مقام ہے۔