صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ كَشْفِ الْمَرْأَةِ فِي الْمَنَامِ: باب: خواب میں عورت کا منہ کھولنا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُرِيتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ ، إِذَا رَجُلٌ يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ ، فَيَقُولُ : هَذِهِ امْرَأَتُكَ فَأَكْشِفُهَا ، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ ، فَأَقُولُ : إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ يُمْضِهِ " .´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں ۔ ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے لیے جا رہا تھا ، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں ، ان کے ( چہرے سے ) پردہ ہٹاؤ ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں ۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا! نے تجھے خواب میں دیکھا کہ فرشتہ تجھے ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر لایا اور اس نے کہا: یہ آپ کی بیوی ہے۔
میں نے تمھارے چہرے سے نقاب اٹھایا تو وہ تم تھیں۔
‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، حدیث 5125)
2۔
ان روایات میں اختلاف نہیں کیونکہ فرشتہ انسانی صورت میں آیا تھا۔
عورت کو خواب میں دیکھنے کی کئی تعبیریں ہیں۔
ایک یہ کہ دیکھنے والے کوکوئی عورت بطور بیوی میسر آئے گئی۔
دوسری یہ کہ دنیا میں عظیم مرتبہ اور رزق میں فراخی میسر آئے گی اور تیسری یہ کہ کبھی عورت کو خواب میں دیکھنا فتنے پر دلالت کرتا ہے۔
(عمدة القاري: 294/16)
ایک روایت میں ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد مجھے ریشمی کپڑے میں لپیٹی ہوئی ایک لڑکی دکھائی گئی جب میں نے اس کا نقاب الٹا تو وہ تم تھیں۔
(المعجم الکبیر للطبراني: 23/19، حدیث 13155)
یہ روایت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ نبوت کے بعد کا ہے۔
واللہ أعلم۔
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ حتمی اور یقینی تھا، البتہ علماء نے اس کے تین معانی بیان کیے ہیں: ٭ یہ خواب اپنے ظاہر پر ہو جو تعبیر کا محتاج نہیں لیکن آپ نے اسے بصورت شک اس لیے بیان کیا کہ مذکورہ خواب اپنے ظاہر پر ہے یا تعبیر کا محتاج ہے۔
٭اگر یہ دنیا کی بیوی ہے تو اللہ اس خواب کو ضرور پورا کرے گا اور یہ بات ہو کر رہے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں شک تھا کہ یہ آپ کی دنیوی بیوی ہے یا آخرت میں ملنے والی شریک حیات ہے۔
٭ آپ کو اس میں کسی قسم کا شک نہیں تھا، آپ نے شک کی صورت میں ایک مبنی بر حقیقت خبر دی۔
یہ بلاغت کی ایک قسم ہے جسے مزج الشك باليقين کہا جاتا ہے۔
(عمدة القاري: 14/18) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے جامع ترمذی کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو فرشتہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کی تصویر لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔
(جامع الترمذي، المناقب، حديث: 3880، و فتح الباري: 9/152)
1۔
پہلی روایت میں ہے کہ ریشمی کپڑے کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھولا جبکہ اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتے کو کھولنے کا حکم دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھولنے کی نسبت اس اعتبار سے ہے کہ آپ اس کا حکم دینے والے تھے اور جس نے اپنے ہاتھوں سے اسے کھولا وہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے۔
(فتح الباري: 500/12)
2۔
خواب میں عورتوں کے لیے ریشمی لباس لینا نکاح عزت و احترام، مال و دولت اور تونگری و امیری پر دلالت کرتا ہے نیز سونا چاندی اور لباس پہننے والے کی عظمت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کا محل ہے۔
خواب میں مردوں کا ریشمی لباس پہننا اچھا نہیں کیونکہ شریعت میں ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
(عمدة القاري: 294/16)
1۔
ایک روایت میں ہے کہ میں نے تیرے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے اس طرح دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشمی کپڑے میں تجھے اٹھائے تھا۔
میں نے اسے کہا: اس سے پردہ اٹھاؤ۔
جب اس نے پردہ اٹھایا تو وہ تو تھی اسی طرح میں نے دوبارہ دیکھا تو یہی منظر سامنے آیا۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7012)
کپڑا ہٹایا تو تمھیں دیکھا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس صورت کی طرح ہو جو میں نے بحالت خواب ریشمی کپڑے میں لپٹی ہوئی دیکھی تھی۔
اگر یہ بعثت سے قبل کا واقعہ ہے تو کوئی اشکال نہیں۔
اگر بعثت کے بعد کا ہے تو پھر یہ تجاہل عارفانہ ہے جس میں شک کو یقین کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔
2۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ عقد نکاح سے پہلے اپنی منگیتر کو ایک نظر دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
(صحیح البخاري، النکاح، باب: 36۔
قبل حدیث: 5125)
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3880]
وضاحت:
1؎:
ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو، کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کر دیا ہے، یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرئیل علیہ السلام کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے، عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے، واللہ اعلم۔
2؎:
یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم:5 اور باب رقم:35 میں آئی ہے، اس میں جبرئیل کی بجائے صرف ’’فرشتہ‘‘ کا لفظ ہے۔