مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 7004
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا ، وَقَالَ : " مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ ، قَالَتْ : وَأَحْزَنَنِي فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ذَلِكَ عَمَلُهُ .
مولانا داود راز

´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے یہی حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ` اس کا مجھے رنج ہوا ۔ ( کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے ) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے ۔ میں نے اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب التعبير / حدیث: 7004
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
7004. ایک دوسری روایت ہے جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائےگا؟ تو مجھے بہت رنج ہوا چنانچہ میں سو گئی تو میں نے خواب میں حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا چشمہ دیکھا جو جاری تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا: یہ ان (عثمان ؓ) کا نیک عمل ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7004]
حدیث حاشیہ: کہتے ہیں وہ ایک صالح بیٹا سائب نامی چھوڑ گئے تھے جو بدر میں شریک ہوئے یا اللہ کی راہ میں ان کا چوکی پر پہرہ دینا مراد ہے۔
اللہ تعالیٰ کی راہ میں یہ نیک عمل قیامت تک بڑھتا ہی چلا جائے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7004 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
7004. ایک دوسری روایت ہے جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائےگا؟ تو مجھے بہت رنج ہوا چنانچہ میں سو گئی تو میں نے خواب میں حضرت عثمان بن مظعون ؓ کا چشمہ دیکھا جو جاری تھا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ نے فرمایا: یہ ان (عثمان ؓ) کا نیک عمل ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:7004]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت اُم العلاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد ان کے لیے خواب میں ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعبیر فرمائی کہ یہ ان کے نیک اعمال ہیں جو ان کی وفات کے بعد بھی جاری و ساری ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ عورت کا خواب بھی اچھا اور سچا ہو سکتا ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواب کو مبنی بر حقیقت سمجھتے ہوئے اس کی تعبیر فرمائی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7004 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔