صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ رُؤْيَا النِّسَاءِ: باب: عورتوں کے خواب کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا ، وَقَالَ : " مَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِهِ ، قَالَتْ : وَأَحْزَنَنِي فَنِمْتُ فَرَأَيْتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي ، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ذَلِكَ عَمَلُهُ .´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے یہی حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ` اس کا مجھے رنج ہوا ۔ ( کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے ) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے ۔ میں نے اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اللہ تعالیٰ کی راہ میں یہ نیک عمل قیامت تک بڑھتا ہی چلا جائے گا۔
اس حدیث میں صراحت ہے کہ حضرت اُم العلاء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد ان کے لیے خواب میں ایک بہتا ہوا چشمہ دیکھا جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعبیر فرمائی کہ یہ ان کے نیک اعمال ہیں جو ان کی وفات کے بعد بھی جاری و ساری ہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ عورت کا خواب بھی اچھا اور سچا ہو سکتا ہے۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خواب کو مبنی بر حقیقت سمجھتے ہوئے اس کی تعبیر فرمائی۔
واللہ أعلم۔