صحيح البخاري
كتاب التعبير— کتاب: خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
بَابُ مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ: باب: جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَمَنْ رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفِثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلَاثًا ، وَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ ، وَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَرَاءَى بِي " .´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن ابی جعفر نے ، کہا مجھ کو ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے پس جو شخص کوئی برا خواب دیکھے تو اپنے بائیں طرف کروٹ لے کر تین مرتبہ تھو تھو کرے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اس کو نقصان نہیں دے گا اور شیطان کبھی میری شکل میں نہیں آ سکتا ۔ “
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
رؤیا اچھے خواب کو اور حُلم برے خواب کو کہتے ہیں۔
برے خواب دیکھنے سے شیطان کو تھو،تھو کیا جاتا ہے اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
ایسا کرنے سے شیطان کی تذلیل ہوتی ہے۔
(2)
باب سے مطابقت اس طرح ہے کہ تعوذ میں تھو،تھو کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے اور تعوذ دم ہی کی ایک قسم ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان حضرات کی تردید کی ہے جن کا موقف ہے کہ دم کرتے وقت، تھو،تھو نہیں کرنا چاہیے کیونکہ قرآن میں نفاثات کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین ہے لیکن مذموم نَفَث وہ ہے جو جادو ٹونا کرتے وقت کیا جائے۔
قرآن کریم میں ایسے وقت گرہوں میں تھوتھو کرنے کی مذمت ہے جبکہ دم کرتے وقت ایسا کرنا احادیث سے ثابت ہے۔
(فتح الباری: 10/258)
1۔
ایک روایت کے مطابق ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں ایسے خواب دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ گراں ہوتے۔
(صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5900۔
(2261)
ایک روایت میں ہے کہ جب کوئی اچھا خواب دیکھے تو اسے کسی عالم یا خیرخواہ ہی سے بیان کرے۔
(جامع الترمذي، الرؤیا، حدیث: 2278)
2۔
احادیث کی روشنی میں اچھا خواب درج ذیل افراد کو بیان کرنا چاہیے۔
ماہر عالم دین جو اس کی مناسب تعبیر کر سکے۔
پھر اس کی بتائی ہوئی ہدایات پر عمل کیا جائےگا۔
قریبی دوست: جو اس خواب کے پیش نظر اس کی حوصلہ افزائی کرے اور ہمت بندھائے۔
خیر خواہ: اپنا خواب اپنے کسی انتہائی خیر خواہ سے بیان کیا جائے تاکہ بدخواہ انسان اسے پریشان نہ کرے۔
اگر کسی ناپسندیدہ شخص سے بیان کرے گا تو وہ بغض یا حسد کی وجہ سے اس کی بڑی تعبیر کرے گا جو خواب دیکھنے والے کی دل آزاری کا باعث ہوگا۔
«. . . عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا حَلَمَ فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْهُ، وَلْيَبْصُقْ عَنْ شِمَالِهِ، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ . . .»
”. . . ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے پس اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اسے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئیے اور بائیں طرف تھوکنا چاہئیے یہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا“ [صحيح البخاري/كِتَاب التَّعْبِيرِ: 6986]
باب اورحدیث میں مناسبت:
امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب نیک خواب کا نبوت کے چھیالیس حصوں میں ایک حصہ ہے، اس پر مقرر فرمایا ہے، جبکہ تحت الباب جو حدیث سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج فرمائی ہے اس میں نبوت کے چھیالیس حصوں کا کوئی ذکر نہیں ہے، اسی وجہ سے علامہ اسماعیلی اور امام زرکشی نے باب پر اعتراض وارد کیا ہے، چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں: «و قد اعترضه الاسماعيلى فقال: ليس هذا الحديث من هذا الباب فى شيئي.»
”یعنی اسماعیلی نے باب پر اعتراض وارد کیا ہے کہ جو حدیث تحت الباب امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل فرمائی ہے، اس کا کچھ بھی باب سے تعلق نہیں ہے۔“
علامہ زرکشی کہتے ہیں: «إدخاله فى هذا الباب لا وجه له بل هو ملحق بالذي قبله.» [فتح الباري لابن حجر: 320/13]
”اس باب کے تحت جو حدیث پیش فرمائی ہے اس کا تعلق اس باب سے نہیں بلکہ اس سے قبل باب کے ساتھ ہے۔“ حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ ان دونوں بزرگوں کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں: «قلت و قد وقع ذالك فى رواية النسفي كما أشرت إليه، و يجاب عن صنيع الأكثر بأن وجه دخوله فى هذه الترجمة الإشارة إلى أن الرؤيا الصالحة إنما كانت جزءًا من أجزاء النبوة لكونها من الله تعالي بخلاف التى من الشيطان فإنها ليست من أجزاء النبوة، و أشار البخاري مع ذالك إلى ما وقع فى بعض الطرق . . . . . عن أبى قتادة فى هذا الحديث من الزيادة و رؤيا المؤمن جزء من ستة و أربعين جزءًا من النبوة.» [فتح الباري لابن حجر: 320/13]
”حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں: نسفی کے نسخے میں ایسا ہی ہے، اکثر کو اس صنع کے متعلق جواب دیا گیا ہے کہ اس باب میں اس حدیث کو ذکر کرنے کا یہ اشارہ ہے کہ رویائے صالحہ اس لیے نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے کیوں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے (الہام) ہیں، بخلاف ان خوابوں کے جو شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ نبوت کے جزء میں سے نہیں ہوتے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اس روایت کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے جو بعض طرق سے بطریق (حدیث عبداللہ بن یحیی بن ابی کثیر . . . . . عن ابی قتادۃ) سے مروی ہے جس میں یہ زیادتی ہے کہ ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں کا ایک حصہ ہے۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ان گزارشات سے باب اور حدیث میں مناسبت کی بہترین توجیہ سامنے آئی، آپ کا مقصد یہ ہے کہ جو مومن کا نیک خواب ہو گا وہی نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہو گا، اور جو شیطان کی طرف سے ہو گا وہ نبوت کے چھالیس حصوں میں سے کوئی حصہ نہ ہو گا، پس یہ بتلانا مقصود ہے امام بخاری رحمہ اللہ کا۔
محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: «وجه دخول هذا الحديث فى هذا الباب الإشارة إلى أن الرؤيا إنما كانت جزءا من أجزاء النبوة لكونها من الله تعالي بخلاف التى من الشيطان فإنها ليست من أجزاء النبوة.» [الابواب والتراجم: 651/6]
”یعنی اس حدیث کا تعلق اس باب سے یوں ہے کہ اس میں اشارہ ہے کہ جو خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہو گا وہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہو گا، اور جو شیطان کی طرف سے ہو گا تو وہ اس کے خلاف ہو گا۔“
زرکشی نے حضرت امام بخاری پر اعتراض کیا ہے کہ یہ حدیث اس باب سے غیر متعلق ہے۔
میں کہتا ہوں زرکشی حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی طرح وقت نظر کہاں سے لاتے‘ اسی لیے اعتراض کر بیٹھے۔
امام بخاری رحمہ اللہ شروع میں یہ حدیث اس لیے لائے کہ آگے کی حدیث میں جس خواب کی نسبت یہ بیان ہوا ہے کہ وہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے‘ اس سے مراد اچھا خواب ہے جو اللہ کی طر ف سے ہوتا ہے کیونکہ جو خواب شیطان کی طرف سے ہو وہ نبوت کا جزو نہیں ہو سکتا۔
خواب کو مسلم کی روایات میں نبوت کے پینتالیس حصوں میں سے ایک حصہ اور ایک روایت میں ستر حصوں میں سے ایک حصہ اور طبرانی کی روایت چھہتر حصوں میں سے ایک حصہ۔
ابن عبد البر کی روایت چھبیس حصوں میں سے ایک حصہ۔
طبری کی روایت میں چوالیس حصوں میں سے ایک حصہ مذکور ہے۔
یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ روز روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم نبوت میں ترقی ہوتی جاتی اور نبوت کے نئے نئے حصے معلوم ہوتے جاتے جتنا جتنا علم بڑھتا جاتا اتنے ہی حصوں میں اضافہ ہو جاتا۔
قسطلانی نے کہا چھیالیس حصوں کی روایت ہی زیادہ مشہور ہے۔
(وحیدی)
1۔
حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے ایسے ڈراؤنے خواب آتے تھے کہ مجھےا ن کی وجہ سے سخت بخار ہو جاتا تھا۔
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور ان سے اپنا معاملہ بیان کیا تو انھوں نے مذکورہ حدیث بیان کی اس کے بعد مجھے ان کے متعلق کوئی پروانہ ہوئی تھی۔
(صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5900) (2261)
ایک روایت میں ہے۔
’’ایسا خواب دیکھنے کے بعد جب پیدا ہو تو تین مرتبہ اپنی بائیں جانب تھوتھو کرے۔
'' (صحیح مسلم، الرؤیا، حدیث: 5897(2261)
2۔
اگرچہ ہر خواب کا پیدا کرنا اور اس کا دکھانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے لیکن برے خواب کا سبب شیطان ہوتا ہے اور وہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو پریشان اور غمگین کرتا ہے۔
اس لیے ایسے خواب کو شیطان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 491/12)
اچھے اور برے خواب کے آداب ہم حدیث نمبر6985کے فوائد میں بیان کر آئے ہیں۔
1۔
انسانی خواب، خواہ وحی الٰہی کا نتیجہ ہوں یا اچھے سیرت وکردار کی وجہ سے ہوں یا ان کے پس منظر میں ذاتی رجحانات اور کاروباری مصروفیات ہوں یا انسانی مزاج کا اتار چڑھاؤ اور اخلاط کی کمی بیشی ان کی وجہ ہو یا توہمات اور لاشعوری احساسات کا نتیجہ ہوں بہرحال اس کی حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سونے والا کچھ دیکھتا ضرورہے، خواہ وہ خواب سچا ہو یا چھوٹا اچھا ہو یا براء سے پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
2۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قائم کردہ عنوان میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے، البتہ خوابوں کی تکریم اوراحترام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر انھیں اپنی طرف منسوب کیا ہے۔
چونکہ بُرے خواب شیطان کی دخل اندازی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
وہ ان کے ذریعے سے خوفزدہ اور پریشان کرتا ہے، اس لیے ایسے خوابوں کو حدیث میں شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن خلقت کے اعتبار سے تمام خواب اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے اس میں کسی دوسرے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے تاہم اچھے خواب انسان کی راست بازی اور سچائی کی دلیل ہوتے ہیں اور بُرے خواب دیکھنے والا عام طور پر جھوٹا اورمکار انسان ہوتا ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
راوی حدیث ابوسلمہ کہتے ہیں: مجھے ایسے پریشان کن خواب آتے جن سے میں بیمار ہوجاتا۔
میں نے حضرت ابوقتادہ ؓسے ان کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا: مجھے بھی یہی شکایت تھی۔
میں نے یہ مسئلہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے مذکورہ حدیث بیان کی۔
(صحیح البخاري، التعبیر، حدیث: 7044)
حضرت ابوسلمہ مزید فرماتے ہیں: مجھے ایسے خواب آتے جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ گراں بار ہوتے۔
جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے تو میں ان کی کوئی پروا نہیں کرتا۔
(صحیح البخاري، الطب، حدیث: 5747)
2۔
دراصل شیطان چاہتا ہے کہ بُرے خواب کے ذریعے سے مسلمان کو پریشان کرکے اپنے رب سے اس کو بدگمان کردیا جائے۔
ایسی حالت میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ اللہ کی پناہ میں آنا چاہیے۔
واللہ المستعان۔
3۔
اس حدیث میں شیطانی کارروائیوں کا علاج بتایاگیا ہے۔
آئندہ احادیث میں بھی انھی کارستانیوں کا توڑ بیان کیا جائے گا۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خوابوں کی مختلف قسمیں ہیں، اگر برا خواب نظر آئے تو حدیث میں موجود احکام پر ضرور عمل کرنا چاہیے، بعض لوگ برے خوابوں کی وجہ سے لوگوں کو ڈراتے ہیں، پھر ان سے روپے بٹورتے ہیں، الامان والحفيظ۔