حدیث نمبر: 6951
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَالِمًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لاَ يَظْلِمُهُ، وَلاَ يُسْلِمُهُ، وَمَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللَّهُ فِي حَاجَتِهِ».
مولانا داود راز

´ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ( کسی ظالم کے ) سپرد کرے اور جو شخص اپنے کسی بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہو گا اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت اور حاجت پوری کرے گا ۔ “

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإكراه / حدیث: 6951
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2442 | صحيح مسلم: 2580 | سنن ترمذي: 1426 | سنن ابي داود: 4893

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6951. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے کسی دوسرے کے حوالے ہی کرتا ہے اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں لگا ہوگا اللہ تعالیٰ اس کی دوسری ضروریات پوری کرے گا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6951]
حدیث حاشیہ: اسی حدیث کی رو سے اہل اللہ نے دوسرے حاجت مندوں کے لیے جہاں تک ان سے ہو سکا، کوشش کی ہے۔
اللہ رب العالمین بخاری شریف مطالعہ کرنے والے ہر بھائی بہن کو اس حدیث شریف پر عمل کی توفیق بخشے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6951 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2442 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2442. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ر سول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، لہذا نہ وہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظلم کے حوالے ہی کرے۔ اور جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے میں مصروف ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ضرورت پوری فرمائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت کو دور کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی مصیبت دور کرے گا، نیز جو شخص کسی مسلمان کا عیب چھپائے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2442]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں ترغیب ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں تعاون اور اچھا معاملہ کرنا چاہیے اور جو گناہ کسی سے سرزد ہو جائے اس کی پردہ پوشی کی جائے، البتہ وہ گناہ جو انسان سے سرزد ہو سکتے ہیں اور خطرہ ہے کہ اگر مسلمان بھائی کو بروقت متنبہ نہ کیا تو وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے گا تو ایسے گناہ سے اسے روکنا ضروری ہے۔
حدیث کے راویوں پر جرح و تعدیل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
اس سلسلے میں پردہ پوشی سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ ان پر جرح کرنا غیبت میں شمار نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر کسی کے متعلق گواہی دینی پڑے تو بھی ٹھیک ٹھیک گواہی دینی چاہیے کیونکہ درست گواہی معاشرے کا حق ہے۔
ایسے حالات میں اسے قانون سے چھپانے کی کوشش کرنا اور مجرم کی پردہ پوشی کرنا جرم ہے۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ انسان کو کسی دوسرے شخص کی غیبت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے کسی کی پردہ دری ہوتی ہے، اس طرح انسان خود اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔
(فتح الباري: 121/5)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2442 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2580 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سالم رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ(ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مسلمان،مسلمان کابھائی ہے،نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی بے یارومددگار چھوڑتا ہے،جو شخص اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہتا ہے،اللہ اس کی حاجت روائی کرتاہے اور جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت دور کرتا ہے،اللہ تعالیٰ قیامت کے مصائب میں سے کوئی مصیبت اس کے باعث دور فرمائے گا۔اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتاہے،اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6578]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، مسلمان بھائی کا جائزہ کام میں تعاون کرنا، اس کی ضرورت کو پورا کرنا، درحقیقت اپنی ضرورت و حاجت کو پورا کرنا ہے، کیونکہ اگر ہم کسی کی جائز ضرورت پوری کریں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری حاجتیں پوری فرمائے گا، اسی طرح ہم اگر کسی کی کوئی مشکل حل کرتے ہیں، اس کی مصیبت میں آنے والے درہمے، قدمے سخنے کسی صورت میں بھی تعاون کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہماری مصیبت کا ازلہ فرمائے گا، اس طرح اگر کوئی شخص اور انفرادی طور پر کبھی کسی غلطی کا ارتکاب کر لیتا ہے اور یہ لغزش اس کی عادت یا وطیرہ نہیں ہے اور اس سے دوسرے متاثر نہیں ہوتے، وہ خود بھی اس پر شرمسار ہے تو اس کی غلطی کی پردہ پوشی کرنا مطلوب ہے، لیکن اگر وہ بار بار اس کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے، پھر اس کا پردہ چاک کرنا پسندیدہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2580 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1426 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کی مدد چھوڑتا ہے، اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہوتا ہے، جو اپنے کسی مسلمان کی پریشانی دور کرتا ہے اللہ اس کی وجہ سے اس سے قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور کرے گا، اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالے گا اللہ قیامت کے دن اس کے عیب پر پردہ ڈالے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الحدود/حدیث: 1426]
اردو حاشہ:
وضاخت: 1؎:
اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (الحجرات: 10) کا بھی یہی مفہوم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1426 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4893 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بھائی چارے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4893]
فوائد ومسائل:
دوسرے مسلمان بہن بھائیوں، عزیزوں، رشتے داروں، ہمسائیوں اور احباب کے احوال کی خبر رکھنی چاہیئے۔
بالخصوص مشکلات میں ان سے بے پر واہ ہو جانا اور اُنھیں انکے احوال پر چھوڑ دینا خلافِ شریعت اور بہت بری خصلت ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4893 سے ماخوذ ہے۔