حدیث نمبر: 6945
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُجَمِّعٍ ابني يزيد بن جارية الأنصاري ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ ، " أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ ، فَكَرِهَتْ ذَلِكَ ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن القاسم نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے یزید بن حارثہ انصاری کے دو صاحبزادوں عبدالرحمٰن اور مجمع نے اور ان سے خنساء بنت خذام انصاریہ نے کہ` ان کے والد نے ان کی شادی کر دی ان کی ایک شادی اس سے پہلے ہو چکی تھی ( اور اب بیوہ تھیں ) اس نکاح کو انہوں نے ناپسند کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ( اپنی ناپسندیدگی ظاہر کر دی ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کو فسخ کر دیا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإكراه / حدیث: 6945
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2101 | سنن نسائي: 3270

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6945. حضرت خنساء بنت خدام انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی جبکہ وہ شوہر دیدہ تھیں۔ انہوں نے اس نکاح کا ناپسند کیا اور وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے اس نکاح کو مسترد کر دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6945]
حدیث حاشیہ: امام بخاری نے اس سے یہ دلیل لی کہ مکرہ کا نکاح صحیح نہیں۔
حنفیہ کہتے ہیں کہ ان کا نکاح صحیح ہوا ہی نہ تھا کیوں کہ وہ ثیبہ بالغہ تھیں ان کی اجازت اور رضا بھی ضروری تھی ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں فرد نکاحها ہے اگر نکاح صحیح ہی نہ ہوتا تو آپ فرما دیتے کہ نکاح ہی نہیں ہوا اور حدیث میں یوں ہوتا فأبطل نکاحها اور حنفیہ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے جبر سے ایک عورت سے نکاح کیا دس ہزار درہم مقرر کر کے اس کا مہر مثل ایک ہزار تھا تو ایک ہزار لازم ہوں گے نوہزار باطل ہو جائیں گے۔
ہم کہتے ہیں کہ اکراہ کی وجہ سے جیسے مہر کی زیادتی باطل کہتے ہو ویسے ہی اصل نکاح کو بھی باطل کرو۔
(وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6945 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6945. حضرت خنساء بنت خدام انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کی شادی کر دی جبکہ وہ شوہر دیدہ تھیں۔ انہوں نے اس نکاح کا ناپسند کیا اور وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے اس نکاح کو مسترد کر دیا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6945]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث پر دوسری جگہ ان الفاظ کے ساتھ عنوان قائم کیا ہے: (باب إِذَا زَوَّجَ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَنِكَاحُهُ مَرْدُودٌ)
’’جب کوئی اپنی بیٹی پر جبر کرتے ہوئے اس کا نکاح کسی دوسرے سے کر دے تو اس کا نکاح مردود ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، النکاح، باب 43)
ایک روایت میں تفصیل ہے کہ حضرت جعفر کی اولاد میں سے ایک لڑکی کو خطرہ تھا کہ اس کا سرپرست زبردستی کسی سے اس کا نکاح کر دے گا تو اس نے انصار کے دو شیوخ حضرت عبدالرحمان اور مجمع سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انھوں نے تسلی دی کہ تجھے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، پھر انھوں نے اس حدیث کا حوالہ دیا۔
(صحیح البخاري الحیل، حدیث 6969)
۔

بہرحال اگرسرپرست زبردستی نکاح کرتا ہے تو ایسا نکاح مسترد ہوگا۔
اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6945 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3270 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´باپ بیوہ کی شادی اس کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دے تو کیا حکم ہے؟`
خنساء بنت خذام رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور یہ بیوہ تھیں، یہ شادی انہیں پسند نہ آئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3270]
اردو حاشہ: اس دور میں یقینا یہ بات حیرت انگیز تھی کہ باپ کی کیا ہوا نکاح بیٹی کو پسند نہ ہونے کی وجہ سے رد کردیا گیا۔ یہ اسلام کا عظیم کارنامہ تھا، نیز شریعت اسلامیہ میں یہ مسئلہ متفق علیہ ہے، بشرطیکہ وہ بالغہ ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3270 سے ماخوذ ہے۔