حدیث نمبر: 6943
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ ، قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَةً لَهُ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَقُلْنَا : " أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا ، أَلَا تَدْعُو لَنَا ؟ ، فَقَالَ : قَدْ كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يُؤْخَذُ الرَّجُلُ فَيُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ ، فَيُجْعَلُ فِيهَا ، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَيُجْعَلُ نِصْفَيْنِ ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ وَعَظْمِهِ ، فَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ ، وَاللَّهِ لَيَتِمَّنَّ هَذَا الْأَمْرُ حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ ، وَالذِّئْبَ عَلَى غَنَمِهِ ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ " .
مولانا داود راز

´ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا ، ان سے خباب بن الارت رضی اللہ عنہ نے کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال زار بیان کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کا حال یہ ہوا کہ ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا اور گڑھا کھود کر اس میں انہیں ڈال دیا جاتا پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر دو ٹکڑے کر دئیے جاتے اور لوہے کے کنگھے ان کے گوشت اور ہڈیوں میں دھنسا دئیے جاتے لیکن یہ آزمائشیں بھی انہیں اپنے دین سے نہیں روک سکتی تھیں ۔ اللہ کی قسم ! اس اسلام کا کام مکمل ہو گا اور ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک اکیلا سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا خوف نہیں ہو گا اور بکریوں پر سوا بھیڑئیے کے خوف کے ( اور کسی لوٹ وغیرہ کا کوئی ڈر نہ ہو گا ) لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الإكراه / حدیث: 6943
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 3612 | صحيح البخاري: 3852 | سنن ابي داود: 2649 | مسند الحميدي: 157

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6943. حضرت خباب بن ارت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی حالت زار بیان کی جبکہ اس وقت آپ کعبے کے سائے میں اپنی چادر اوڑھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا، زمین میں اس کے گڑھا کھود کر اس میں اسے بٹھا دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت اور ہڈیوں کو الگ الگ کر دیا جاتا لیکن یہ آزمائشیں اسے اپنے دین سے برگشتہ نہ کرتی تھیں۔ اللہ کی قسم! یہ (اسلام کا) کام ضرور مکمل ہوگا حتی کہ صںعاء سے حضرت موت کا سفر کرنے والا شخص اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے گا اور نہ بھیڑیے کے علاوہ بکریوں کو کسی سے خطرہ ہوگا لیکن تم لوگ جلدی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6943]
حدیث حاشیہ: آپ کی یہ بشارت پوری ہوئی سارا عرب کافروں سے صاف ہو گیا۔
ترجمہ باب اس سے نکلا کہ خباب نے کفار کی تکالیف پر صبر کیا صرف شکوہ کیا مگر اسلام پر قائم رہے۔
آپ نے خباب کی درخواست پر فوراً بددعا نہ کی بلکہ صبر کی تلقین فرمائی۔
انبیاء کی یہی شان ہوتی ہے۔
آخر آپ کی پیشین گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی اور آج اس چودہویں صدی کے خاتمہ پر عرب کا ملک امن کا ایک مثالی گہوارہ بنا ہوا ہے۔
یہ اسلام کی برکت ہے۔
اللہ اس حکومت سعودیہ کو ہمیشہ قائم دائم رکھے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6943 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6943. حضرت خباب بن ارت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی حالت زار بیان کی جبکہ اس وقت آپ کعبے کے سائے میں اپنی چادر اوڑھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی: آپ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد کیوں نہیں مانگتے؟ آپ ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں سے کسی ایک کو پکڑ لیا جاتا، زمین میں اس کے گڑھا کھود کر اس میں اسے بٹھا دیا جاتا، پھر آرا لایا جاتا اور اس کے سر پر رکھ کر اس کے دو ٹکڑے کر دیے جاتے اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت اور ہڈیوں کو الگ الگ کر دیا جاتا لیکن یہ آزمائشیں اسے اپنے دین سے برگشتہ نہ کرتی تھیں۔ اللہ کی قسم! یہ (اسلام کا) کام ضرور مکمل ہوگا حتی کہ صںعاء سے حضرت موت کا سفر کرنے والا شخص اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرے گا اور نہ بھیڑیے کے علاوہ بکریوں کو کسی سے خطرہ ہوگا لیکن تم لوگ جلدی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:6943]
حدیث حاشیہ:

حضرت خباب بن ارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت کافروں کے ہاتھوں گرفتار تھے۔
وہ انھیں طرح طرح کی تکلیفیں دیتے اور کفر میں واپس لوٹ جانے پر مجبور کرتے تھے۔
انھوں نے کفر پرمارپیٹ کو پسند کیا۔
ایسےحالات میں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا کریں لیکن آپ نے انھیں صبرکرنے کی تلقین کی اور فرمایا: تم سے پہلے لوگ زیادہ سنگین حالات سے دوچار ہوتے تھے۔
مصائب وآلام کی رات ختم ہونے والی ہے، اس لیے تم جلدی سے کام نہ لو۔

اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کو کفر پرمجبور کیا جائے تو اسے رخصت پر عمل کرنے کے بجائے عزیمت کو اختیار کرنا چاہیے اور اگر کفر کے علاوہ کسی چیز پر مجبور کیا جائے تو اسے رخصت کو قبول کرنا چاہیے۔
گویا جبرواکراہ کی دو قسمیں ہین: ایک مُبَاح اور دوسری مُرَخّص، اس کی تفصیل ہم تعارفی نوٹ میں بیان کر آئے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6943 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3612 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3612. حضرت خباب بن رات ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے سائے تلے اپنی چادر سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے ہم نے آپ سے کفارکی ایذا کےمتعلق شکایت کی۔ ہم نے عرض کیا: آپ ہمارےلیے مدد کیوں نہیں مانگتے؟آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟آپ نے فرمایا: ’’تم لوگوں سے پہلے کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں کہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھوداجاتا۔ پھر اس میں انھیں کھڑا کر دیا جاتا۔ پھر آرا لایا جا تا اور ان کے سر پر رکھ کر ان کے دوٹکڑے کردیے جاتے لیکن اس قدر سختی ان کو دین سے برگشتہ نہ کرتی تھی۔ پھر ان کے گوشت کے نیچے ہڈی اور پٹھوں پر لوہے کی کنگھیاں کھینچ دی جاتیں تھیں، لیکن یہ اذیت بھی انھیں ان کے دین سے نہ ہٹا سکی۔ اللہ کی قسم!یہ دین ضرور مکمل ہوگا، اس حدتک کہ اگر کوئی مسافر صنعاء سے حضر موت کا سفر کرے گا تو اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا اور نہ کوئی اپنی بکریوں کے لیے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3612]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ کی یہ پیش گوئی بھی اپنے وقت پر پوری ہوچکی ہے اور آج سعودی دور میں بھی حجاز میں جو امن وامان ہے وہ بھی اس پیش گوئی کا مصداق قراردیاجاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس حکومت کو قائم ودائم رکھے آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3612 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3612 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3612. حضرت خباب بن رات ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کعبہ کے سائے تلے اپنی چادر سے تکیہ لگائے بیٹھے تھے ہم نے آپ سے کفارکی ایذا کےمتعلق شکایت کی۔ ہم نے عرض کیا: آپ ہمارےلیے مدد کیوں نہیں مانگتے؟آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا کیوں نہیں کرتے؟آپ نے فرمایا: ’’تم لوگوں سے پہلے کچھ لوگ ایسے ہوئے ہیں کہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھوداجاتا۔ پھر اس میں انھیں کھڑا کر دیا جاتا۔ پھر آرا لایا جا تا اور ان کے سر پر رکھ کر ان کے دوٹکڑے کردیے جاتے لیکن اس قدر سختی ان کو دین سے برگشتہ نہ کرتی تھی۔ پھر ان کے گوشت کے نیچے ہڈی اور پٹھوں پر لوہے کی کنگھیاں کھینچ دی جاتیں تھیں، لیکن یہ اذیت بھی انھیں ان کے دین سے نہ ہٹا سکی۔ اللہ کی قسم!یہ دین ضرور مکمل ہوگا، اس حدتک کہ اگر کوئی مسافر صنعاء سے حضر موت کا سفر کرے گا تو اسے اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا اور نہ کوئی اپنی بکریوں کے لیے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3612]
حدیث حاشیہ:

رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو شدائد و مصائب میں صبر کرنے کی تلقین فرمائی کہ وہ کفار کی اذیتوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کریں کیونکہ ایسا وقت آنے والا ہے کہ مسلمانوں کو کفار سے کسی قسم کا ڈراور خطرہ نہیں ہو گا وہ امن و امان کی حالت میں جہاں چاہیں سفر کریں گے ان کے دلوں میں صرف اللہ کا ڈر ہو گا۔

صنعاء سے صنعائے یمن مراد ہو تو اس کے اور حضرموت کے درمیان پانچ دن کی مسافت ہے اور اگر صنعاء سے مراد شام ہے تو پھر مسافت بعید مراد ہے لیکن پہلا احتمال زیادہ قرین قیاس ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی۔
حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
آج بھی سعودی دور حکومت میں علاقہ حجاز کے اندر جو امن و امان ہے وہ بھی اس پیش گوئی کا مصداق قراردیا جا سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس حکومت کو تادیر قائم ودائم رکھے اور حاسدین کے حسد سے بچائے۔
آمین یا رب العالمین۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3612 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3852 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3852. حضرت خباب بن ارت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ بیت اللہ کے سائے میں چادر اوڑھے تکیہ لگائے بیٹھے تھے اور ہمیں مشرکین کے ہاتھوں سخت تکالیف پہنچ رہی تھیں۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے اللہ تعالٰی سے دعا نہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے، آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ’’بلاشبہ تم سے پہلے کچھ لوگ ایسے تھے کہ لوہے کی کنگھیوں کو ان کے گوشت اور پٹھوں سے گزار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا جاتا اور اس قدر سنگین تکالیف بھی انہیں ان کے دین سے برگشتہ نہ کر سکیں۔ کسی کے سر پر آرا رکھ کر انہیں دولخت کر دیا گیا، یہ سختی بھی انہیں ان کے دین سےنہ پھیر سکی۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالٰی اس دین کو ایک نہ ایک دن ضرور کمال تک پہنچائے گا حتی کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک تنہا سفر کرے گا اسے اللہ کے سوا کسی اور کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3852]
حدیث حاشیہ: حضرموت شمالی عرب میں ایک ملک ہے اس میں اور صنعاء میں پندرہ دن پیدل چلنے والوں کا راستہ ہے۔
اس سے امن عام مراد ہے جوبعد میں سارے ملک عرب میں اسلام کے غلبہ کے بعد ہوا اور آج سعودی عرب کے دور میں یہ امن سارے ملک میں حاصل ہے اللہ پاک اس حکومت کو قائم ودائم رکھے۔
آمین۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3852 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3852 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3852. حضرت خباب بن ارت ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ بیت اللہ کے سائے میں چادر اوڑھے تکیہ لگائے بیٹھے تھے اور ہمیں مشرکین کے ہاتھوں سخت تکالیف پہنچ رہی تھیں۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے اللہ تعالٰی سے دعا نہیں فرماتے؟ یہ سن کر آپ بیٹھ گئے، آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ’’بلاشبہ تم سے پہلے کچھ لوگ ایسے تھے کہ لوہے کی کنگھیوں کو ان کے گوشت اور پٹھوں سے گزار کر ان کی ہڈیوں تک پہنچا دیا جاتا اور اس قدر سنگین تکالیف بھی انہیں ان کے دین سے برگشتہ نہ کر سکیں۔ کسی کے سر پر آرا رکھ کر انہیں دولخت کر دیا گیا، یہ سختی بھی انہیں ان کے دین سےنہ پھیر سکی۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالٰی اس دین کو ایک نہ ایک دن ضرور کمال تک پہنچائے گا حتی کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک تنہا سفر کرے گا اسے اللہ کے سوا کسی اور کا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:3852]
حدیث حاشیہ:

صنعاء ملک یمن کا ایک شہر ہے جس میں بکثرت باغات ہوتے ہیں اور حضر موت شمالی عرب کا ایک قصبہ ہے جہاں کھجوروں کے باغات ہیں۔
ان کے درمیان پیدل چلنے والوں کے لیے پندر دن کی مسافت ہے۔
اس حدیث میں امن عام مراد ہے جو غلبہ اسلام کے بعد پورے عرب میں لوگوں کو حاصل ہوا۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دور میں ایسے واقعات ہوئے کہ چرواہے اپنی بکریوں کے معاملے میں بھیڑیوں سے بے خوف تھے حتی کہ انھیں ان کی موت کا علم ہی اس وقت ہوا جب بھیڑیوں نے بکریوں پر حملہ کرنا شروع کردیا۔

آج کل سعودی عرب میں اس قسم کا امن تمام لوگوں کو ملا ہے۔
وہاں سونے سے بھری دوکانیں کھلی رہتی ہیں کسی کو چوری کا ڈر نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ اس حکومت کو قائم و دائم رکھے جو اشاعت اسلام اور ترویج توحید میں پیش پیش ہے۔

بہرحال امام بخاری ؒ کا مقصود ان تکالیف کو بیان کرنا ہے جو مشرکین کی طرف سے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو اٹھانا پڑیں۔
رضي اللہ عنهم اجمعین۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3852 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2649 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مسلمان قیدی کفر پر مجبور کیا جائے تو اس کے حکم کا بیان۔`
خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر پر تکیہ لگائے ہوئے تھے، ہم نے آپ سے (کافروں کے غلبہ کی) شکایت کی اور کہا: کیا آپ ہمارے لیے اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لیے دعا نہیں کرتے؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، اور فرمایا: تم سے پہلے آدمی کا یہ حال ہوتا کہ وہ ایمان کی وجہ سے پکڑا جاتا تھا، اس کے لیے زمین میں گڑھا کھودا جاتا تھا، اس کے سر کو آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا تھا مگر یہ چیز اسے اس کے د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2649]
فوائد ومسائل:
مسلمان اگرکفار کے نڑغے میں ہوں۔
اور اپنی جان بچانے کےلئے بظاہر کفریہ کلمات بول دیں۔
تو رخصت ہے۔
قرآن مجید نے اس ضمن میں بیان کیا ہے۔
(مَن كَفَرَ بِاللَّـهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ) (النحل۔
106) جس نے ایمان لے آنے کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کیا (تو اس پر اللہ کا غضب ہے۔
) سوائے اس کے جسے مجبور کر دیا گیا اور اس کا دل ایمان پر مطئمین رہا۔
سورہ آل عمران (آیت 28) میں ہے۔
(إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً ۗ) اگر تم کفار سے بچائو کی کوئی صورت بنالو تو (کوئی حرج نہیں)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2649 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 157 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
C
فائدہ:
اس حدیث میں اسلام کی خاطر آنے والی تکالیف پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پہلی امتوں پر کیے گئے ظلم وستم بیان کیے گئے ہیں۔ کفار نے ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر ظلم کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور امت مسلمہ کو دین اسلام پر استقامت عطا فرماۓ، آمین۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 157 سے ماخوذ ہے۔