صحيح البخاري
كتاب استتابة المرتدين— کتاب: باغیوں اور مرتدوں سے توبہ کرانے کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُتَأَوِّلِينَ: باب: تاویل کرنے والوں کے بارے میں بیان۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ فُلَانٍ ، قَالَ : تَنَازَعَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَحِبَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، فَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، لِحِبَّانَ : لَقَدْ عَلِمْتُ مَا الَّذِي جَرَّأَ صَاحِبَكَ عَلَى الدِّمَاءِ ، يَعْنِي عَلِيًّا ، قَالَ : مَا هُوَ لَا أَبَا لَكَ ، قَالَ : شَيْءٌ سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالزُّبَيْرَ ، وَأَبَا مَرْثَدٍ ، وَكُلُّنَا فَارِسٌ ، قَالَ : " انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ حَاجٍ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : هَكَذَا قَالَ أَبُو عَوَانَةَ ، حَاجٍ : فَإِنَّ فِيهَا امْرَأَةً مَعَهَا صَحِيفَةٌ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَأْتُونِي بِهَا ، فَانْطَلَقْنَا عَلَى أَفْرَاسِنَا حَتَّى أَدْرَكْنَاهَا حَيْثُ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسِيرُ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا ، وَقَدْ كَانَ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ بِمَسِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ ، فَقُلْنَا : أَيْنَ الْكِتَابُ الَّذِي مَعَكِ ؟ ، قَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ ، فَأَنَخْنَا بِهَا بَعِيرَهَا ، فَابْتَغَيْنَا فِي رَحْلِهَا ، فَمَا وَجَدْنَا شَيْئًا ، فَقَالَ صَاحِبَايَ : مَا نَرَى مَعَهَا كِتَابًا ، قَالَ : فَقُلْتُ : لَقَدْ عَلِمْنَا مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ حَلَفَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ ، أَوْ لَأُجَرِّدَنَّكِ ، فَأَهْوَتْ إِلَى حُجْزَتِهَا وَهِيَ مُحْتَجِزَةٌ بِكِسَاءٍ ، فَأَخْرَجَتِ الصَّحِيفَةَ ، فَأَتَوْا بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا حَاطِبُ مَا حَمَلكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لِي أَنْ لَا أَكُونَ مُؤْمِنًا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ يَكُونَ لِي عِنْدَ الْقَوْمِ يَدٌ يُدْفَعُ بِهَا عَنْ أَهْلِي وَمَالِي ، وَلَيْسَ مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَهُ هُنَالِكَ مِنْ قَوْمِهِ مَنْ يَدْفَعُ اللَّهُ بِهِ عَنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ ، قَالَ : صَدَقَ ، لَا تَقُولُوا لَهُ إِلَّا خَيْرًا ، قَالَ : فَعَادَ عُمَرُ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ خَانَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، دَعْنِي فَلِأَضْرِبْ عُنُقَهُ ، قَالَ : أَوَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ ، فَقَدْ أَوْجَبْتُ لَكُمُ الْجَنَّةَ ، فَاغْرَوْرَقَتْ عَيْنَاهُ " ، فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : خَاخٍ أَصَحُّ ، وَلَكِنْ كَذَا ، قَالَ أَبُو عَوَانَةَ : حَاجٍ وَحَاجٍ تَصْحِيفٌ ، وَهُوَ مَوْضِعٌ ، وَهُشَيْمٌ ، يَقُولُ خَاخٍ .´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح شکری نے بیان کیا ، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن سلمی نے ، ان سے فلاں شخص ( سعید بن عبیدہ ) نے کہ` ابوعبدالرحمٰن اور حبان بن عطیہ کا آپس میں اختلاف ہوا ۔ ابوعبدالرحمٰن نے حبان سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ساتھی خون بہانے میں کس قدر جری ہو گئے ہیں ۔ ان کا اشارہ علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا اس پر حبان نے کہا انہوں نے کیا کیا ہے ، تیرا باپ نہیں ۔ ابوعبدالرحمٰن نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ مجھے ، زبیر اور ابومرثد رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا اور ہم سب گھوڑوں پر سوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور جب روضہ خاخ پر پہنچو ( جو مدینہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ ہے ) ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ابوعوانہ نے خاخ کے بدلے حاج کہا ہے ۔ تو وہاں تمہیں ایک عورت ( سارہ نامی ) ملے گی اور اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا ایک خط ہے جو مشرکین مکہ کو لکھا گیا ہے تم وہ خط میرے پاس لاؤ ۔ چنانچہ ہم اپنے گھوڑوں پر دوڑے اور ہم نے اسے وہیں پکڑا جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا تھا ۔ وہ عورت اپنے اونٹ پر سوار جا رہی تھی حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کو آنے کی خبر دی تھی ۔ ہم نے اس عورت سے کہا کہ تمہارے پاس وہ خط کہاں ہے اس نے کہا کہ میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے ہم نے اس کا اونٹ بٹھا دیا اور اس کے کجاوہ کی تلاشی لی لیکن اس میں کوئی خط نہیں ملا ۔ میرے ساتھی نے کہا کہ اس کے پاس کوئی خط نہیں معلوم ہوتا ۔ راوی نے بیان کیا کہ ہمیں یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات نہیں فرمائی پھر علی رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس کی قسم کھائی جاتی ہے خط نکال دے ورنہ میں تجھے ننگی کروں گا اب وہ عورت اپنے نیفے کی طرف جھکی اس نے ایک چادر کمر پر باندھ رکھی تھی اور خط نکالا ۔ اس کے بعد یہ لوگ خط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی ہے ، مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں ۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، حاطب ! تم نے ایسا کیوں کیا ؟ حاطب رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! بھلا کیا مجھ سے یہ ممکن ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ رکھوں میرا مطلب اس خط کے لکھنے سے صرف یہ تھا کہ میرا ایک احسان مکہ والوں پر ہو جائے جس کی وجہ سے میں اپنی جائیداد اور بال بچوں کو ( ان کے ہاتھ سے ) بچا لوں ۔ بات یہ ہے کہ آپ کے اصحاب میں کوئی ایسا نہیں جس کے مکہ میں ان کی قوم میں کے ایسے لوگ نہ ہوں جس کی وجہ سے اللہ ان کے بچوں اور جائیداد پر کوئی آفت نہیں آنے دیتا ۔ مگر میرا وہاں کوئی نہیں ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حاطب نے سچ کہا ہے ۔ بھلائی کے سوا ان کے بارے میں اور کچھ نہ کہو ۔ بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مومنوں کے ساتھ خیانت کی ہے ۔ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں اس کی گردن مار دوں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ جنگ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے نہیں ہیں ؟ تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے واقف تھا اور پھر فرمایا کہ جو چاہو کرو میں نے جنت تمہارے لیے لکھ دی ہے اس پر عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں ( خوشی سے ) آنسو بھر آئے اور عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول ہی کو حقیقت کا زیادہ علم ہے ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ «خاخ» زیادہ صحیح ہے لیکن ابوعوانہ نے «حاج» ہی بیان کیا ہے اور لفظ «حاج» بدلا ہوا ہے یہ ایک جگہ کا نام ہے اور ہشیم نے «خاخ» بیان کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
باب کا مطلب اس طرح نکلا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے نزدیک حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو خائن سمجھا۔
ایک روایت کی بنا پر ان کو منافق بھی کہا مگر چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایسا خیال کرنے کی ایک وجہ تھی یعنی ان کا خط پکڑا جانا جس میں اپنی قوم کا نقصان تھا تو گویا وہ تاویل کرنے والے تھے اور اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کوئی مواخذہ نہیں کیا۔
اب یہ اعتراض ہوتا ہے کہ ایک بار جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطب کی نسبت یہ فرمایا کہ وہ سچا ہے تو پھر دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو مار ڈالنے کی اجازت کیوں کر چاہی اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت کی رائے ملکی اور شرعی قانون ظاہری پر تھی جو شخص اپنے بادشاہ اپنی قوم کا راز دشمنوں پر ظاہر کرے اس کی سزا موت ہے اور ایک بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے سے کہ وہ سچا ہے ان کی پوری تشفی نہیں ہوئی کیوں کہ سچا ہونے کی صورت میں بھی ان کا عذر اس قابل نہ تھا کہ اس جرم کی سزا سے وہ بری ہو جاتے۔
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہ فرمایا کہ اللہ نے بدریوں کے سب قصور معاف فرما دیئے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تسلی ہو گئی اور اپنا خیال انہوں نے چھوڑ دیا اس سے بدری صحابہ کے جنتی ہونے کا اثبات ہوا۔
لفظ لا أبا لك عربوں کے محاورہ میں اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شخص ایک عجیب بات کہتا ہے مطلب یہ ہوتا ہے کہ تیرا کوئی ادب سکھانے والا باپ نہ تھا جب ہی تو بے ادب رہ گیا۔
ابوعبدالرحمن عثمانی تھے اور حبان بن عطیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے طرف دارتھے۔
ابوعبدالرحمن کا یہ کہنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نسبت صحیح نہ تھا کہ وہ بے وجہ شرعی مسلمانوں کی خونریزی کرتے ہیں۔
انہوں نے جو کچھ کہا حکم شرعی کے تحت کہا ابوعبدالرحمن کو یہ بدگمانی یوں ہوئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت سنائی تھی کہ جنگ بدر میں شرکت کرنے والے بخشے ہوئے ہیں اللہ پاک نے بدریوں سے فرمادیا کہ ﴿اِعمَلُوا مَاشِئتُم فَقَد اَوجَبتُ لَکُمُ الجَنَّةَ﴾ تم جو چاہو عمل کرو میں تمہارے لیے جنت واجب کر چکا ہوں چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی بدری ہیں اس لیے اب وہ اس بشارت خدائی کے پیش نظر خون ریزی کرنے میں جری ہوگئے ہیں۔
ابوعبدالرحمن کا یہ گمان صحیح نہ تھا ناحق خون ریزی کرنا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بالکل بعید تھا۔
جو کچھ انہوں نے کیا شریعت کے تحت کیا یوں بشری لغزش امر دیگر ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ابوطالب کے بیٹے ہیں، نوجوانوں میں اولین اسلام قبول کرنے والے ہیں۔
عمر دس سال یا پندرہ سال کی تھی۔
جنگ تبوک کے سوا سب جنگوں میں شریک ہوئے۔
گندم گوں، بڑی بڑی آنکھوں والے، درمیانہ قد، بہت بال والے، چوڑی داڑھی والے، سر کے اگلے حصہ میں بال نہ تھے۔
جمعہ کے دن 18ذی الحجہ 35 ھ کو خلیفہ ہوئے یہی شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کا دن ہے۔
ایک خارجی عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے18 رمضان بوقت صبح بروز جمعہ 40ھ میں آپ کو شہید کیا۔
زخمی ہونے کے بعد تین رات زندہ رہے، 63 سال کی عمر پائی۔
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم اجمعین نے نہلایا اور حضرت حسن نے نماز جنازہ پڑھائی۔
صبح کے وقت دفن کئے گئے۔
مدت خلافت چار سال نو ماہ اور کچھ دن ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ رابع برحق ہیں۔
بہت ہی بڑے دانش مند اسلام کے جرنیل، بہادر اور صاحب مناقب کثیرہ ہیں آپ کی محبت جزوایمان ہے۔
تینوں خلافتوں میں ان کا بڑا مقام رہا۔
بہت صائب الرائے اور عالم و فاضل تھے۔
صد افسوس کہ آپ کی ذات گرامی کو آڑ بنا کر ایک یہودی عبداللہ بن سبا نے امت مسلمہ میں خانہ جنگی و فتنہ و فساد کو جگہ دی۔
یہ محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے بظاہر مسلمان ہوگیا تھا۔
اس نے یہ فتنہ کھڑا کیا کہ خلافت کے وصی حضرت علی رضی اللہ عنہ ہیں، حضرت عثمان ناحق خلیفہ بن بیٹھے ہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کے لیے حضرت علی کو اپنا وصی بنا گئے ہیں، لہٰذا خلافت صرف حضرت علی ہی کا حق ہے۔
عبداللہ بن سبا نے یہ ایسی من گھڑت بات ایجاد کی تھی جس کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بعد میں خلافت صدیقی و فاروقی و عثمانی میں کوئی ذکر نہیں تھا مگر نام چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جیسے عالی منقبت کا تھا اس لیے کتنے سادہ لوح لوگوں پر اس یہودی کا یہ جادو چل گیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا اندوہناک واقعہ اسی فتنہ کی بنا پر ہوا۔
آپ بیاسی سال کی عمر میں 18ذی الحجہ 35ھ کو جبکہ آپ قرآن شریف کی آیت ﴿فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ﴾ پر پہنچے تھے کہ نہایت بے دردی سے شہید کئے گئے اور آپ کے خون کی دھار قرآن پاک کے ورق پر اسی آیت کی جگہ جا کر پڑی۔
رضي اللہ عنه۔
الحمد للہ حرمین شریفین کے سفر میں تین بار آپ کی قبر پر دعائے مسنون پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
اللہ پاک قیامت کے دن ان سب بزرگوں کی زیارت نصیب کرے آمین۔
شہادت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے امت کا نظام ایسا منتشر ہوا جو آج تک قائم ہے اور شاید قیامت تک بھی نہ ختم ہو------فلیبك علی الإسلام من کان باکیا۔
(1)
حضرت ابو عبدالرحمٰن کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے عقیدت تھی،اس لیے وہ عثمانی کہلاتے تھے اور حضرت ابن عطیہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کی وجہ سے علوی کہا جاتا تھا۔
(صحیح البخاري، الجھاد، حدیث: 3081)
اس لیے ابو عبدالرحمٰن نے ابن عطیہ سے کہا: مجھے معلوم ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس قدر خون ریزی پر کیوں جرأت کرتے ہیں۔
انھیں یقین ہے کہ میں اہل جنت میں سے ہوں، اس لیے اجتہادی معاملات میں اگر کوئی خطا ہو گئی تو وہ قیامت کے دن معاف ہو جائے گی۔
حضرت ابو عبدالرحمٰن کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ غلط فہمی ہوئی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اس سلسلے میں انتہائی محتاط تھے، پھر اہل بدر کی مغفرت کا تعلق آخرت سے ہے لیکن دنیا میں اگر حد کا مرتکب ہوا تو اس پر حد ضرور قائم ہو گی جیسا کہ حضرت مسطح رضی اللہ عنہ پر حد قذف لگائی گئی، حالانکہ وہ اہل بدر میں سے تھے۔
(2)
اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی اہل بدر میں سے گناہ، مثلاً: کسی پر تہمت لگانا، قتل کرنا وغیرہ کا مرتکب ہوا تو اس پر حد قصاص واجب ہے۔
(3)
اس حدیث کا عنوان سے اس طرح تعلق ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دوسری روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو منافق قرار دیا اور خائن کہا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا دفاع تو کیا لیکن ردعمل کے طور پرحضرت عمر رضی اللہ عنہ کو کافر یا منافق نہیں کہا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں ایک معقول تاویل کی بنا پر منافق کہا تھا کیونکہ انھوں نے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایک اہم راز فاش کیا تھا۔
یہ ایک فوجداری جرم تھا اور ایسا کرنا کفار سے دوستی رکھنے کے مترادف تھا۔
چونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک معقول وجہ سے انھیں منافق کہا تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مؤاخذہ نہیں کیا بلکہ ان کی فکری غلطی کی اصلاح فرمائی اور حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو لوگ غزوۂ بدر میں شریک ہو چکے ہیں اللہ تعالیٰ نےانھیں معاف کر دیا ہے۔
‘‘ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حضرت حاطب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کی اجازت اس لیے مانگی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ جو انسان اپنے سربراہ یا اپنی قوم کا راز دشمنوں کے سامنے فاش کرے، اس کی سزا موت ہے۔
ان کے سچا ہونے کی صورت میں بھی ان کا عذر اس قابل نہ تھا کہ وہ اس جرم کی سزا سے بری ہو جائیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ وضاحت فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے سب قصور معاف کر دیے ہیں تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے موقف سے دستبردار ہوگئے اور مارے خوشی کے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
واللہ أعلم
کے تحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شرف معافی عطا فرما کر اور ایک اہم ترین دلیل پیش فرما کر حضرت عمررضی اللہ عنہ اور دیگر اجل صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو مطمئن فرما دیا اس سے ظاہر ہوا کہ مفتی صاحب جب تک کسی معاملہ کے ہر پہلو پر گہری نظر نہ ڈال لے اس کو فتوی لکھنا مناسب نہیں ہے۔
(1)
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی صاف گوئی نے سارا معاملہ ہی صاف کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اہم دلیل پیش کر کے حضرت عمر اور دیگر صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم کو مطمئن کر دیا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ کا مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کسی کا خط بلا اجازت پڑھنا بہت بڑی خیانت ہے لیکن اگر کسی خط میں مسلمانوں کی غیبت ہو یا ان کے خلاف سازش کی گئی ہو تو ایسا خط بلا اجازت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ایسے حالات میں خط اور خط والے کا کوئی احترام نہیں۔
(3)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دشمن کی عورت کو کسی اہم ضرورت کے پیش نظر برہنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
حضرت عمر ؓ نے جو کچھ کہا وہ ظاہری قانونی سیاست کے مطابق تھا۔
مگر آنحضرت ﷺ کو ان کی سچائی وحی سے معلوم ہو گئی۔
لہذا آپ نے ان کی غلطی سے در گزر فرمایا۔
معلوم ہوا کہ بعض امور میں محض ظاہری وجوہ کی بنا پر فتوی ٹھوک دینا درست نہیں ہے۔
مفتی کو لازم ہے کہ ظاہر وباطن کے جملہ امور وحالات پر خوب غور وخوض کرکے فتوی نویسی کرے۔
روایت میں غزوئہ فتح مکہ کے عزم کا ذکر ہے یہی باب سے وجہ مطابقت ہے۔
فتح الباری میں حضرت حاطب ؓ کے خط کے یہ الفاظ منقول ہوئے ہیں: (يَا مَعْشَر قُرَيْش فَإِنَّ رَسُول اللَّه صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَكُمْ بِجَيْشٍ كَاللَّيْلِ , يَسِير كَالسَّيْلِ , فَوَاَللَّهِ لَوْ جَاءَكُمْ وَحْدَهُ لَنَصَرَهُ اللَّه وَأَنْجَزَ لَهُ وَعْده. فَانْظُرُوا لأَنْفُسِكُمْ وَالسَّلام)
وا قدی نے یہ لفظ نقل کئے ہیں۔
أن حاطب كتب إلی سہیل بن عمرو و صفوان بن أسد وعکرمة أن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم أذن في الناس بالغزو ولا أرادہ یرید غیرکم وقد أحببت أن یکون لي عندکم ید۔
ان کا خلاصہ یہ کہ رسول کریم ﷺ ا یک لشکر جرار لے کر تمہارے اوپر چڑھائی کر نے والے ہیں تم لوگ ہوشیار ہو جاؤ۔
میں نے تمہارے ساتھ احسان کرنے کے لیے ایسا لکھا ہے۔
1۔
روضہ خاخ، مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ایک مقام ہے۔
حضرت حاطب ؓ نے اس عورت کو دس دینار دیے تھے کہ وہ اس خط کو مشرکین مکہ تک بحفاظت پہنچادے لیکن بذریعہ وحی یہ راز فاش ہوگیا۔
2۔
حضرت عمر ؓ نے جو کچھ کہا وہ ظاہری اور قانونی سیاست کے مطابق تھا مگر رسول اللہ ﷺ کو حضرت حا طب ؓ کی سچائی بذریعہ وحی معلوم ہوگئی، اس بنا پر آپ نے ان کوغلطی سے درگزر فرمایا۔
3۔
اس سے معلوم ہوا کہ بعض معاملات میں محض ظاہری حالات کودیکھ کر فیصلہ کرنا قرین قیاس نہیں ہوتا۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ سن کر حضرت عمر ؓ کی آنکھیں اشکبار ہوگئیں اور انھوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 3983۔
)
4۔
بہرحال اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہم راز راستے ہی میں پکڑ وادیا اور مسلمانوں کی جنگی تیاریوں کی کوئی خبرقریش تک نہ پہنچ سکی، بالآخر نبی کریم ﷺ نے 10 رمضان المبارک کو مدینہ طیبہ چھوڑ کر مکہ مکرمہ کا رخ کیا اور آپ کے ساتھ دس ہزار صحابہ کرام ؓ کی نفری تھی۔
اس کی تفصیل آئندہ حدیث میں بیان ہوگی۔
باذن اللہ تعالیٰ۔
اگر آپ اکیلے آئیں تو بھی اللہ آپ کی مدد کرے گا اور اپنا وعدہ پورا کرے گا‘ اب تم اپنا بچاؤ کرلو‘ والسلام‘‘۔
حضرت عمر ؓ نے قانون شرعی اور قانون سیاست کے مطابق رائے دی کہ جو کوئی اپنی قوم یا سلطنت کی خبر دشمنوں کو پہنچائے وہ سزائے موت کے قابل ہے لیکن آنحضرتﷺ نے حضرت حاطبؓ کی نیت میں کوئی فتور نہیں دیکھا اور یہ بھی کہ وہ بدری صحابہ میں سے تھے جن کی جزوی لغزشوں کو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی معاف کردیا ہے۔
اس لئے ان کی اس سیاسی غلطی کو آنحضرتﷺ نے نظر انداز فرما دیا اور حضرت عمرؓ کی رائے کو پسند نہیں فرمایا۔
معلوم ہوا کہ ذمہ دار لوگوں کے بعض انفرادی یا اجتماعی معاملات ایسے بھی آجاتے ہیں کہ ان میں سخت ترین غلطیوں کو بھی نظر انداز کردینا ضروری ہو جاتا ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا کہ فتویٰ دینے سے قبل معاملے کے ہر ہر پہلو پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
جو لوگ بغیر غور و فکر کئے سرسری طور پر فتویٰ دے دیتے ہیں بعض دفعہ ان کے ایسے فتوے بہت سے فسادات کے اسباب بن جاتے ہیں۔
خاخ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک گاؤں کا نام تھا۔
اس حدیث سے اہل بدر کی بھی فضیلت ثابت ہوئی کہ اللہ پاک نے ان کی جملہ لغزشوں کو معاف فرما دیا ہے۔
1۔
علامہ عینی ؒنےسُہیلی ؒ کے حوالے سے حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے خط کا مضمون ان الفاظ میں لکھا ہے۔
’’أمابعد! قریش کے لوگو! تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ ایک لشکر جرار لے کر مکہ کی طرف آرہے ہیں۔
اگر آپ اکیلے بھی آجائیں تو بھی اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا اور اپنا وعدہ پورا کرے گا۔
اب تم اپنا بچاؤ کر لو۔
‘‘ (عمدة القاري: 321/10)
حضرت عمر ؓ نے حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے متعلق جو رائے دی وہ شرعی اور سیاسی قانون کے عین مطابق تھی کہ انسان اپنی قوم یا حکومت کی خبر دشمن تک پہنچائے وہ قابل گردن زونی ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے بعض مصالح کے پیش نظر اس رائے سے اتفاق نہ کیا۔
2۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ دار حضرات کے بعض انفرادی یا اجتماعی معاملات ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان میں سنگین غلطیوں کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے۔
امام بخاری ؒ نے عنوان کے تحت ایک آیت کا حوالہ دیا ہے۔
حدیث میں اس آیت کا پس منظر بیان ہوا ہے اس سے کفار کے جاسوس کا حکم معلوم ہوتا ہے کہ جب کسی مسلمان کو اس کی جاسوسی کا علم ہو جائے تو اس کا معاملہ حاکم وقت تک پہنچانا چاہیے تاکہ وہ اس کے متعلق مناسب رائے قائم کر کے کوئی فیصلہ دے۔
3۔
ہمارے نزدیک جاسوسی کا حکم یہ ہے کہ جب وہ کفار کی طرف سے ہو تو محض شرہے اور اگر مسلمانوں کی طرف سے ہو تو وہ جنگی مصلحت کی وجہ سے خیر پر مبنی ہوتی ہے امام بخاری ؒ نے کفار کی طرف سے جاسوسی کا حکم اور مسلمانوں کی طرف سے اس کی مشروعیت بتانے کے لیے مذکورہ عنوان اور پیش کردہ حدیث ذکر کی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس نے سچ سچ بتا دیا ہے اب اس کے متعلق خیر کے علاوہ کچھ نہ کہو۔
‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس نے اللہ اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان سے خیانت کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا وہ اہل بدر میں سے نہیں ہے؟ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تم جو چاہو کرو میں نے تمھارے لیے جنت واجب کردی ہے۔
‘‘ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں عرض کرنے لگے۔
اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
(صحیح البخاري، المغازي، حدیث: 8339)
2۔
صحیح بخاری کی روایت میں یہ صراحت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر سن کر انھیں معاف کر دیا ہواور کسی ذریعے سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ انھیں اس جرم کی کوئی سزا دی گئی ہو اس بناء پر علمائے امت نے یہی سمجھا ہے کہ حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عذر سن کر انھیں چھوڑ دیا گیا۔
البتہ اس میں یہ درس ضرور ہے کہ جہاں کفر و اسلام کا مقابلہ ہو اور جہاں اہل ایمان سے صرف ایمان کی وجہ سے لوگ دشمنی کرتے ہوں وہاں کسی شخص کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اپنی ذاتی غرض یا مصلحت کی خاطر کوئی ایسا کام کرے جس سے اسلام اور اہل اسلام کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہو اور کفر اور اہل کفر کے مفادات کو تحفظ ملتا ہو۔
ایسی حرکت ایمان کے منافی ہے کوئی شخص اگر اسلام کی بد خواہی کے جذبے سے بالکل خالی ہو اور بد نیتی سے نہیں بلکہ محض اپنی کسی ذاتی مصلحت کی خاطر ہی یہ کام کرے۔
پھر بھی یہ فعل کسی مومن کے شایان شان نہیں۔
قرآن کریم نے تصریح کی ہے کہ جس نے بھی یہ کام کیا وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔
(الممتحنة: 60۔
1)
3۔
بہر حال حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محض اپنے اہل وعیال کو بچانے کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک نہایت اہل جنگی راز سے دشمنان اسلام کو خبر دار کرنے کی کوشش ک تھی جسے اگر بر وقت ناکام نہ کر دیا گیا ہوتا تو فتح مکہ کے موقع پر شاید بہت زیادہ خون خرابہ ہوتا مسلمان کی بہت قیمتی جانیں ضائع ہو جاتیں اور قریش کے بھی بہت سے وہ لوگ مارے جاتے جو بعد میں اسلام کی عظیم خدمات سر انجام دینے والے تھے اور وہ تمام فوائد بھی ضائع ہو جاتے جو مکہ کو پر امن طریقےسے فتح کرنے کی صورت میں حاصل ہوسکتے تھے۔
واللہ اعلم۔
حضرت علی ؓ کی خدا ترسی اور پرہیزگاری سے بعید ہے کہ وہ خون ناحق کریں۔
امام بخاری ؒ نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ضرورت کے وقت عورت کی تلاشی لینا‘ اس کا برہنہ کرنا درست ہے۔
بعض روایتوں میں یہ ہے کہ اس عورت نے وہ خط اپنی چوٹی میں سے نکال کر دیا۔
اس پر حافظ صاحب ؒ فرماتے ہیں: والجمع بینه وبین روایة أخرجته من حجزتها أي مقعد الإذار لأن عقیصتها طویلة بحیث تصل إلی حجزتها فربطته في عقیصتها وغزرته بحجزتها (الخ)
یعنی ہر دو روایتوں میں مطابقت یہ ہے کہ اس عورت کے سر کی چوٹی اتنی لمبی تھی کہ وہ ازار بند باندھنے کی جگہ تک لٹکی ہوئی تھی‘ اس عورت نے اس کو چٹیا کے اندر گوندھ کر نیچے مقعد کے پاس ازار میں ٹانک لیا تھا۔
چنانچہ اس جگہ سے نکال کر دیا۔
راویوں نے جیسا دیکھا بیان کر دیا۔
سلف امت میں جو لوگ حضرت عثمان ؓ کو حضرت علی ؓ پر فضیلت دیتے انہیں عثمانی کہتے اور جو حضرت علی ؓ کو حضرت عثمان ؓ پر فضیلت دیتے انہیں علوی کہتے تھے۔
یہ اصطلاح ایک زمانہ تک رہی‘ پھر ختم ہو گئی۔
اہل سنت میں یہ عقیدہ قرار پایا کہ کسی صحابی کو کسی پر فوقیت نہیں دینا چاہئے۔
وہ سب عنداللہ مقبول ہیں‘ ان میں فاضل کون ہے اور مفضول کون‘ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
یوں خلفائے اربعہ کو حسب ترتیب خلافت اور صحابہ پر فوقیت حاصل ہے‘ پھر عشرہ مبشرہ کو رضي اللہ عنهم أجمعین۔
1۔
امام بخاری ؒنے اس حدیث سے ثابت کیا ہے کہ ضرورت کے وقت کسی بھی عورت کی تلاشی لینا یا اسے برہنہ کرنا درست ہے۔
خاص طور پر جاسوسی مرد ہو یاعورت جب اس کے برہنہ کرنے میں مصلحت ہویا اس کی ستر پوشی میں فساد کا اندیشہ ہوتو اس کا انکشاف ضروری ہے۔
2۔
قاعدہ ہے کہ ضرورت کے وقت ممنوع چیزیں مباح قرارپاتی ہیں۔
یہ قاعدہ اسی قسم کی احادیث سے ماخوذ ہے۔
ابوعبدالرحمٰن کے کلام میں انتہائی مبالغہ ہے کیونکہ حضر ت علی ؓ کی للہیت اور تقویٰ شعاری سے بعید ہے کہ وہ کسی کا خون ناحق کریں۔
3۔
واضح رہے کہ سلف میں جو لوگ حضرت عثمان ؓ کو حضرت علی ؓ پر فضیلت دیتے تھے انھیں عثمانی اور جو لوگ حضرت علی ؓ کو حضرت عثمان ؓ پربرتری دیتے تھے انھیں علوی کہا جاتا تھا۔
یہ اصطلاح ایک زمانے تک رہی پھر ختم ہوگئی۔
اب خاندانی نسبت کی حد تک ایسا کہا جاتا ہے۔
1۔
اس حدیث میں اہل بدر کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھا انھیں معاف کردیا اور ان کے لیے جنت کو واجب کردیا۔
آئندہ تم جو چاہو کرو۔
یہ خوش خبری گناہ کو جائز سمجھنے کے لیے نہیں ہے جو خلاف شرع ہوں کیونکہ اس خوش خبری کا تعلق احکام دنیا سے نہیں بلکہ امور آخرت سے ہے۔
حدود وغیرہ کے ارتکاب پر ان کا اجراء ہوگا جیسا کہ حضرت قدامہ بن مظعون ؓ بدری صحابی ہیں۔
انھوں نے شراب پی تو حضرت عمر ؓ نے ان پر حد جاری فرمائی۔
وہ ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے۔
حضرت عمر ؓنے خواب میں دیکھا کہ انھیں مصالحت کے لیے حکم دیا جا رہا ہے تو انھوں نے حضرت قدامہ ؓ کو بلا کر ان سے صلح کر لی۔
(السنن الکبری للنسائي: 138/5، رقم 5270۔
وفتح الباري: 382/7)
اس سے مراد گزشتہ گنا ہ نہیں بلکہ آئندہ جو صادر ہوں گے ان کی معافی کا اعلان ہے ابو عبد الرحمٰن سلمی تابعی نے اس حدیث سے یہی سمجھا ہے، چنانچہ ایک مرتبہ ان کا حبان بن عطیہ سے کسی بات پر جھگڑا ہوا تو ابو عبدالرحمٰن سے کہا کہ حضرت علی ؓ کو جنگ وقتال کی جرات ایک حدیث کی وجہ سے ہوئی پھر انھوں نے یہی حدیث بیان کی کہ اس میں اہل بدر کے متعلق امور یہ تو مستقبلہ کی معافی کا ذکرہے۔
(صحیح البخاري، استابة المرتدین، حدیث: 6939۔
)
2۔
حضرت عمر ؓ دین کے معاملے میں بہت سخت تھے۔
منافقین کے متعلق ان کا سخت رویہ تو مشہور ہے۔
ان کی رائے ملکی قانون اور سیاست پر مبنی تھی کہ جو شخص ملک و ملت کے ساتھ بے وفائی کر کے جنگی راز دشمن کو پہنچائےوہ مجرم قابل گردن زونی ہے اس قسم کی فوجی غلطی پر اس کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے اور اس پر نفاق کا اطلاق بھی نفاق عقیدہ کے طور پر نہیں بلکہ نفاق عملی کے اعتبار سے تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کی صحیح نیت جان کر اور ان کے بدری ہونے کی بنا پر حضرت عمر ؓ سے اتفاق نہیں کیا بلکہ انھیں معذور قراردے کر چھوڑدیا، پھر اس سے حضرت عمر ؓ کا اشکبار ہونا شدت خوشی کی وجہ سے تھا کیونکہ مذکورہ عظیم خوش خبری انھیں بھی شامل تھی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کا آبدیدہ ہو نا رنج و غم کی وجہ سے ہو کہ میں نے خواہ مخواہ حضرت حاطب ؓ کے متعلق سختی کی اور انھیں منافق کہا۔
اگرچہ وہ نفاق عملی تھا لیکن رسول اللہ ﷺ کے کلام سے واضح ہو گیا کہ ان کی شان اس نفاق عملی سے بھی بلند اور ارفع تھی۔
واضح رہے کہ خوشی کے آنسو ٹھنڈے اور رنج والم کے گرم ہوتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
(1)
ظعينة: هودج میں سفر کرنے والی عورت، کیونکہ ظعن چلنے کو کہتے ہیں۔
(2)
معها كتاب فخذوا منها: اس کے پاس خط ہے، وہ اس سے لے لو، جس سے معلوم ہوتا ہے، جاسوسی پر مشتمل خط و کتابت کو قبضہ میں لیا جا سکتا ہے اور کسی مصلحت اور حکمت کے تحت مشتبہ خطوط کو پڑھا جا سکتا ہے۔
(3)
لتلقين الثياب: لتخرجن کی مناسبت سے تلقین کی یا اس کو گرایا نہیں گیا، اس سے ثابت ہوا ضرورت اور مجبوری کے تحت مجرم یا جاسوس کے کپڑے اتارے جا سکتے ہیں، خواہ وہ عورت ہی کیوں نہ ہو۔
(4)
عقاص: کی جمع ہے، گیسو، گندھے ہوئے بال۔
(5)
ملصق: جو کسی خاندان میں، ان سے دوستی کے سبب داخل سمجھا جائے، حضرت حاطب رضی اللہ عنہ یمنی شاعر اور شاہسوار تھے، جو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے حلیف تھے، ان کی ہجرت کے بعد ان کے بیٹے اور بھائی مکہ میں رہ گئے تھے۔
(6)
لعل الله اطلع: بعض روایات میں ان الله ہے، لعل: اللہ اور رسول کے کلام میں یقین کا معنی دیتا ہے، محض امید پر دلالت نہیں کرتا ہے۔
(7)
اعملواماشئتم: جو چاہو کرو، یعنی تم سے اچھے کام ہی صادر ہوں گے، اگر کبھی بشری تقاضا سے غلط کام ہو گیا تو تمہیں توبہ کی توفیق مل جائے گی، اس لیے قیامت کو اس پر مواخذہ نہیں ہو گا، لیکن دنیا میں اگر کوئی قابل حد یا تعزیر حرکت سرزد ہوئی تو اس پر مؤاخذہ ہو گا، جیسا کہ آپ نے بدری صحابی مسطح ابن اثاثہ کو حد لگائی تھی۔
عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی الله عنہ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا: جاؤ، روضہ خاخ ۱؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چنانچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال، اس نے کہا: ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے؟ (ی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3305]
وضاحت:
1؎:
خاخ ایک جگہ کا نام ہے اس کے اور مدینہ کے درمیان 12میل کا فاصلہ ہے۔
2؎:
اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو (الممتحنة: 1)
عبیداللہ بن ابی رافع جو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے منشی تھے، کہتے ہیں: میں نے علی رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد تینوں کو بھیجا اور کہا: ” تم لوگ جاؤ یہاں تک کہ روضہ خاخ ۱؎ پہنچو، وہاں ایک عورت کجاوہ میں بیٹھی ہوئی اونٹ پر سوار ملے گی اس کے پاس ایک خط ہے تم اس سے اسے چھین لینا “، تو ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے یہاں تک کہ روضہ خاخ پہنچے اور دفعتاً اس عورت کو جا لیا، ہم نے اس سے کہا: خط لاؤ، اس نے کہا: میرے پاس کوئی خط نہیں ہے، میں نے کہا: خط نکالو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2650]
1۔
رسول اللہ ﷺ کا غیب کی خبریں دینا وحی کی بنا پر ہوتا تھا۔
2۔
مجاہد کو تلوار کا دھنی ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر تدابیر سے بھی کام لینا چاہیے۔
جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دھمکی سے کام نکالا۔
3۔
صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کی امانت قابل قدر ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر خط پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔
4۔
کافر کا کوئی اکرام و احترام نہیں ہوتا، بالخصوص جب وہ مسلمانوں کے خلاف کام کرتا ہو۔
5۔
بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین تمام تر رفعت شان کے باوجود بشری خطائوں سے مبرا نہ تھے اور ان سے ان کے عادل ہونے پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
جیسے کہ حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ
6۔
جب کوئی شخص کسی ناجائز کام کا مرتکب ہوا ہو وہ اس کے جواز میں اپنے فہم (تاویل) کا سہارا لے تو اس کا عذر ایک حد تک قبول کیا جائے گا۔
بشرط یہ کہ اس کے فہم (تاویل) کی گنجائش نکلتی ہو۔
7۔
کوئی مسلمان ہوتے ہوئے اپنے مسلمانوں کے راز افشاں کرے۔
اور ان کی جاسوسی کرے۔
تو یہ حرام کام ہے۔
اور انتہائی کبیرہ گناہ مگر اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔
لیکن تعزیر ضرور ہوگی۔
امام شافعی فرماتے ہیں۔
کہ اگر کوئی مسلمان باوقار ہو اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کی تہمت سے مہتم نہ ہو تو اس کو معاف بھی کیا جاسکتا ہے۔
8۔
کسی واضح عمل کی بنا پر اگر کوئی شخص کسی کو کفر یانفاق کی طرف منسوب کردے تو اس پرکوئی سزا نہیں۔
جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا۔
9۔
اہل بدر کو دیگر صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کے مقابلے میں ایک ممتاز مرتبہ حاصل تھا۔
حضرت حاطبرضی اللہ تعالیٰ عنہ انہی میں سے تھے۔
اور نفاق کی تہمت سے بری تھے۔
10۔
جو جی چاہے کرو۔
کہ یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ شرعی پابندیوں سے آذاد قرار دیئے گئے۔
بلکہ یہ ان کی مدح ثناء تھی۔
اور اللہ تعالیٰ کی طرفسے ضمانت تھی۔
کہ یہ لوگ اللہ کی خاص حفاظت میں ہیں۔
ان میں سے کوئی ایسا کام مصادر نہ ہوگا۔
جوشریعت کے صریح منافی ہو۔
واللہ اعلم۔
اس کے جواب میں شیخنا محدث ارشاد الحق اثری رحمہ اللہ لکھتے ہیں ” مگر یہ اعتراض بھی درست نہیں ہے، بلکہ صحابی کی تعریف کو پیش نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہے، صحابی کی تعریف یہ ہے کہ جس نے ایمان کی حالت میں رسول اللہ سلیم سے ملاقات کی ہو، اور وہ اسلام پر فوت ہوا ہو “۔ (الاصابہ: 8/1 وغیرہ) اور جو کوئی اسلام سے مرتد ہو گیا، اسے صحابی شمار نہیں کیا جاتا، جیسے عبداللہ بن خطل جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر وہ بیت اللہ کے غلاف کے نیچے بھی چھپا ہوا ہو تو اسے قتل کر دو، چنانچہ اسے اس حالت میں قتل کر دیا گیا، یا جیسے عبداللہ بن جحش جو سیدنا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا خاوند تھا۔ دونوں نے ہجرت حبشہ کی۔ حبشہ میں عبداللہ عیسائی ہو گیا۔ بعض وہ بھی تھے جومرتد ہوئے مگر پھر اسلام میں پلٹ آئے، وہ بھی صحابی شمار ہوتے ہیں، جیسے اشعث بن قیس، قرہ بن ہبیرہ، عمرو بن معد یکرب وغیر ہ، لہٰذا جب صحابی کی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اسلام پر فوت ہوا ہو، تو اس روایت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان پر قائم نہ رہنے پر استدلال کیونکر ہوسکتا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ لکھتے ہیں: ” ولا شك أن مـن ارتـد سـلب اسم الصحبة لأنها نسبة شريفة إسلامية فلا يستحقها من ارتد بعد أن اتصف بها۔ “ (فتح الباری: 490/6) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو مرتد ہو گیا، اس سے ” صحابی “ کا لقب سلب ہو گیا، کیونکہ صحابی اسلام کی مہتم بالشان نسبت ہے۔ صحابی ہونے کے بعد جو اسلام سے مرتد ہوا، وہ اس لقب کا مستحق نہیں۔ (مقام صحابه از ارشادالحق اثری بس: 96 تا 98)