حدیث نمبر: 6934
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يُسَيْرُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ ، قُلْتُ لِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ : هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي الْخَوَارِجِ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ وَأَهْوَى بِيَدِهِ قِبَلَ الْعِرَاقِ : " يَخْرُجُ مِنْهُ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ " .
مولانا داود راز

´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیادہ نے ، کہا ہم سے سلمان شیبانی نے ، کہا ہم سے یسیر بن عمرو نے بیان کیا کہ` میں نے سہل بن حنیف ( بدری صحابی ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوارج کے سلسلے میں کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اور آپ نے عراق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا تھا کہ ادھر سے ایک جماعت نکلے گی یہ لوگ قرآن مجید پڑھیں گے لیکن قرآن مجید ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جیسے تیر شکار کے جانور سے باہر نکل جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب استتابة المرتدين / حدیث: 6934
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1068

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6934. حضرت بسیر بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن حنیف ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے نبی ﷺ کو خوارج کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے عراق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہاں سے ایک قوم نکلے گی۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6934]
حدیث حاشیہ: امام مسلم نے حضرت ابوذر سے روایت کیا خارجی تمام مخلوقات میں بدتر ہیں اور بزار نے مرفوعاً نکالا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خارجیوں کا ذکر کیا۔
فرمایا میری امت میں بدترین لوگ ہوں گے ان کو میری امت کے اچھے لوگ قتل کریں گے۔
خارجی ایک مشہور فرقہ ہے جس کی ابتداء حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آخری زمانہ خلافت سے ہوئی۔
یہ لوگ ظاہر میں بڑے عابد زاہد قاری قرآن تھے مگر دل میں ذرا بھی قرآن کا نور نہ تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو یہ لوگ شروع شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔
جب جنگ صفین ہو چکی اور تحکیم کی رائے قرار پائی اس وقت یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بھی الگ ہوگئے۔
ان کو برا کہنے لگے کہ انہوں نے تحکیم کیسے قبول کی۔
حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے ﴿إنِ الحکمُ إلَّا ِﷲِ﴾ (الأنعام: 57)
ان کا سردار عبداللہ بن کوا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو سمجھانے کے لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا اور خود بھی سمجھایا مگر انہوں نے نہ مانا۔
آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نہروان کی جنگ میں ان کو قتل کیا۔
چند لوگ بچ کر بھاگ نکلے۔
ان ہی میں ایک عبدالرحمن بن ملجم تھا جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا۔
یہ خارجی کمبخت حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت عائشہ اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کی تکفیر کرتے ہیں اور کبیرہ گناہ کرنے و الے کو ہمیشہ کے لیے دوزخی کہتے ہیں اور حیض کی حالت میں عورت پر نماز کی قضا واجب جانتے ہیں۔
قرآن کی تفسیر اپنے دل سے کرتے ہیں اور جو آیات کافروں کے باب میں تھیں وہ مومنوں پر چسپاں کرتے ہیں۔
لفظ خارجی کے مرادی معنی باغی کے ہیں یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بغاوت کرنے والے یہ درحقیقت رافضیوں کے مقابلہ پر پیدا ہوکر امت کے انتشار درانتشار کے موجب بنے۔
خذلهم اللہ أجمعین ان جملہ جھگڑوں سے بچ کر صراط مستقیم پر چلنے والا گروہ اہل سنت والجماعت کا گروہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہر دو کی عزت کرتا ہے اور ان سب کی بخشش کے لیے دعا گو ہے۔
﴿تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْۚ-لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ﴾ (البقرة: 134)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6934 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6934. حضرت بسیر بن عمرو سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن حنیف ؓ سے پوچھا: کیا آپ نے نبی ﷺ کو خوارج کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا، آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے عراق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: وہاں سے ایک قوم نکلے گی۔ یہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح باہر ہو جائیں گے جس طرح تیر شکار کو زخمی کر کے نکل جاتا ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6934]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس سے پہلے احادیث میں حروریہ کا ذکر تھا،اس حدیث میں صراحت ہے کہ اس سے مراد خوارج کا گروہ تھا۔
(2)
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں اختلاف کے وقت ان کا ظہور ہوا، چنانچہ اس گروہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ختم کیا۔
ان میں اس شخص کی برآمدگی بھی ہوئی جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نشاندہی فرمائی تھی۔
(3)
خوارج کے متعلق تقریباً پچیس صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث مروی ہیں، جن میں اس فتنے کا ذکر ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فتنے کی سرکوبی کی۔
انھیں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بہت عداوت تھی۔
جس طرح روافض ان سے عقیدت میں گمراہ ہوئے اسی طرح خوارج ان کی عداوت اور دشمنی کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک گئے۔
خذلهم الله أجمعين في الدنيا والآخرة، آ مين يارب العالمين۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6934 سے ماخوذ ہے۔