صحيح البخاري
كتاب استتابة المرتدين— کتاب: باغیوں اور مرتدوں سے توبہ کرانے کا بیان
بَابُ إِذَا عَرَّضَ الذِّمِّيُّ وَغَيْرُهُ بِسَبِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَرِّحْ نَحْوَ قَوْلِهِ السَّامُ عَلَيْكَ: باب: اگر ذمی کافر یا کوئی اور اشارے کنائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہے جیسے یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (السلام علیکم کے بدلے) السام علیک کہا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَرَّ يَهُودِيٌّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَعَلَيْكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَدْرُونَ مَا يَقُولُ ؟ قَالَ : السَّامُ عَلَيْكَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا نَقْتُلُهُ ؟ ، قَالَ : لَا ، إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ ، فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ " .´ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے ، انہوں نے ہشام بن زید بن انس سے ، وہ کہتے تھے میں نے اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ` ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا کہنے لگا «السام عليك.» یعنی تم مرو ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں صرف «وعليك".» کہا ( تو بھی مرے گا ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہوا ، اس نے کیا کہا ؟ اس نے «السام عليك.» کہا ۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ( حکم ہو تو ) اس کو مار ڈالیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نہیں ۔ جب کتاب والے یہود اور نصاریٰ تم کو سلام کیا کریں تو تم بھی یہی کہا کرو «وعليكم» ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
امام بخاری رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ جب کوئی ذمی یا معاہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اعلانیہ سب وشتم نہ کرے بلکہ اشارے کنائے کے ذریعے سے اپنے دل کی بھڑاس نکالتا رہے تو اسے قتل نہ کیا جائے جیسا کہ اس حدیث میں صراحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ یہودی کے متعلق قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔
(2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ یہودی کو تالیف قلب کی مصلحت کی بنا پر قتل نہیں کیا یا اس لیے کہ واضح طور پر اس نے سب وشتم نہیں کیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں وجوہات ہوں اور یہی زیادہ بہتر ہے۔
(فتح الباري: 352/12)
اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو واضح طور پر برا بھلا کہے تو ایسے شخص کے قتل پر اجماع ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک نابینا صحابی کی ام ولد لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ کی شان میں گستاخی کی مرتکب ہوتی تھی، ایک دن جب وہ اپنے آقا کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے رہی تھیں تو انھوں نے اسے قتل کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب علم ہوا تو آپ نے اعلانیہ طور پر فرمایا: ’’خبردار! گواہ ہو جاؤ کہ اس لونڈی کا خون رائیگاں اور ضائع ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الحدود، حدیث: 4361)
جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ثابت ہے تو جو بدبخت شخص اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب، اسلام یا سنت مطہرہ اور دین اسلام میں طعن کرے تو اسے قتل کرنا بالاولیٰ لازم ہے۔
یہ ایسی حقیقت ہے کہ اس پر مزید دلائل کی ضرورت نہیں۔
آج کے دور میں غیر مسلم اگر کوئی اچھے لفظوں میں دعا سلام کرتا ہے تو اس کا جواب بھی اچھا ہی دینا چاہئے ﴿وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾ میں عام حکم ہے۔
(1)
بعض دیگر احادیث میں کفار کے سلام کے جواب میں صرف "علیکم" آیا ہے، یعنی واؤ کے بغیر۔
بعض اہل علم نے واؤ عاطفہ اور اس کے بغیر سلام کا جواب دینے میں نکتہ آفرینی کی ہے، تاہم دونوں طرح صحیح ہے اور روایات اس کی تائید کرتی ہیں۔
بعض اوقات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سلام کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ انداز اختیار کیا ہے جیسا کہ مسيء الصلاة نے جب آپ کو سلام کیا تو آپ نے"وعلیك" کہا تھا۔
(جامع الترمذي، الاستئذان، حدیث: 2692) (2)
اب یہ انداز اہل کتاب کو جواب دینے کے لیے مشہور ہوچکا ہے، اس لیے مسلمان کے جواب میں اس انداز کو اختیار نہیں کرنا چاہیے،چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: "ہمیں حکم دیا گیا تھا کہ اہل کتاب کے سلام کے جواب میں "وعلیکم" کے الفاظ پر کسی چیز کا اضافہ نہ کریں۔
(مسند أحمد: 113/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نےبھی اس امر کو بیان کیا ہے۔
(فتح الباري: 56/13)
انس ابن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا: «السام عليكم» (تم پر موت آئے) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ” کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟ “ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا: ” نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس (یہودی) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ “، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا: تو نے «السام عليكم» کہا ہے؟ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3301]
وضاحت:
1؎:
یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے (المجادلة: 8)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے آپ سے عرض کیا: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) ہم کو سلام کرتے ہیں ہم انہیں کس طرح جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: ” تم لوگ «وعليكم» کہہ دیا کرو “ ابوداؤد کہتے ہیں: ایسے ہی عائشہ، ابوعبدالرحمٰن جہنی اور ابوبصرہ غفاری کی روایتیں بھی ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5207]
دیگر بعض احادیث میں کفار کے سلام کے جواب صرف علیکم آیا ہے، یعنی واو کےبغیر۔