صحيح البخاري
كتاب استتابة المرتدين— کتاب: باغیوں اور مرتدوں سے توبہ کرانے کا بیان
بَابُ إِثْمِ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ وَعُقُوبَتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ: باب: اللہ تعالیٰ نے (سورۃ لقمان میں) فرمایا «إثم من أشرك بالله وعقوبته في الدنيا والآخرة»۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْكَبَائِرُ ؟ ، قَالَ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : ثُمَّ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ ، قَالَ : الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ، قُلْتُ : وَمَا الْيَمِينُ الْغَمُوسُ ؟ ، قَالَ : الَّذِي يَقْتَطِعُ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ هُوَ فِيهَا كَاذِبٌ " .´ہم سے محمد بن حسین بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ کوفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شیبان نحوی نے خبر دی ، انہوں نے فراش بن یحییٰ سے ، انہوں نے عامر شعبی سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ، انہوں نے کہا کہ` ایک گنوار ( نام نامعلوم ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہنے لگا : یا رسول اللہ ! بڑے بڑے گناہ کون سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا ۔ “ اس نے پوچھا پھر کون سا گناہ ؟ آپ نے فرمایا ” ماں باپ کو ستانا ۔ “ پوچھا : پھر کون سا گناہ ؟ آپ نے فرمایا ” «غموس".» قسم کھانا ۔ “ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! «غموس".» قسم کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جان بوجھ کر کسی مسلمان کا مال مار لینے کے لیے جھوٹی قسم کھانا ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اللہ تعالیٰ نے بتوں کی عبادت کو گندگی سے تشبیہ دی ہے، فرمایا: ’’بتوں کی گندگی سے بچو۔
‘‘ (الحج22: 31)
یعنی آستانوں کی آلائش اور بتوں کی پرستش سے اس طرح بچو جیسے انسان گندگی کے ڈھیر سے بچتا ہے، اور اس گندگی کے قریب جانے سے بھی گھن آتی ہے۔
ایک مقام پر شرک کی سنگینی کو ان الفاظ میں بیان فرمایا: ’’اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو وہ ایسے ہے جیسے آسمان سے گرے، پھر اسے پرندے اچک لیں جائیں یا ہوا، اسے کسی دور دراز مقام پر لے جا کر پھینک دے۔
‘‘ (الحج22: 31) (2)
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے، اب اگر وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے آگے جھکے تو گویا ایک بلند تر مخلوق کمتر مخلوق کے سامنے جھک گئی اور جس نے شرک کیا گویا وہ توحید کی بلندیوں سے نیچے گر گیا، اب اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں رہی، اب وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے یا اپنے جیسے مشرکین کے پیچھے لڑھکتا ہے گا جو اسے کبھی کسی در پرجانے کا مشورہ دیں گے، کبھی دوسرے کے آستانے پر جانے کا کہیں گے حتی کہ یہ شکاری پرندے اسے مکمل طور پر گمراہ اور بے ایمان کر کے ہی چھوڑیں گے۔
أعاذنا الله منه
باب اور احادیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
كبائر، كبيرة کی جمع ہے۔
مذکورہ حدیث میں چار کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے، حالانکہ بعض روایات میں سات اور بعض میں دس بیان ہوئے ہیں۔
یہ تضاد نہیں کیونکہ ایک عدد کا ذکر دوسرے عدد کے منافی نہیں ہوتا۔
(2)
واضح رہے کہ اس قسم میں کفارہ نہیں ہوتا، صرف اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کیا جائے۔
اگر کسی کا حق مارا ہے تو وہ واپس کیا جائے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم یمین غموس کو ایسا گناہ شمار کرتے تھے جو کفارے سے بھی نہیں دھل سکتا۔
یمین غموس یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھائے۔
اس امر میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی۔
(فتح الباري: 679/11)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کبائر (بڑے گناہ) یہ ہیں: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، (ناحق) خون کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔“ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4016]
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کبیرہ گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، کسی کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4872]