صحيح البخاري
كتاب الديات— کتاب: دیتوں کے بیان میں
بَابُ مَنِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ فَلاَ دِيَةَ لَهُ: باب: جس نے کسی کے گھر میں جھانکا اور انہوں نے جھانکنے والے کی آنکھ پھوڑ دی تو اس پر دیت واجب نہیں ہو گی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ : " أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي ، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنَيْكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ " .´ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ` ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا ۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ سر جھاڑ رہے تھے ۔ جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم میرا انتظار کر رہے ہو تو میں اسے تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( گھر کے اندر آنے کا ) اذن لینے کا حکم دیا گیا ہے وہ اسی لیے تو ہے کہ نظر نہ پڑے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سلام کر کے اپنے گھر میں یا غیر کے گھر میں داخل ہونا چاہئے۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو گھر والے کو کچھ تاوان نہ دینا ہوگا مگر یہ دور اسلامی کی باتیں ہیں انفرادی طور پر کسی کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
مدری، لکڑی کا ایک آلہ جس سے بالوں کی اصلاح اور جسم پر خارش کی جاتی ہے۔
یہ کنگھی کی طرح ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے کنگھی کا کام لیا جاتا ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث سے کنگھی کرنے کے عمل کو ثابت کیا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے بال رکھے تو چاہیے کہ انہیں بنا سنوار کر رکھے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الترجل، حدیث: 4163)
اس کا مطلب یہ ہے کہ بال رکھے ہوں تو انہیں سنوار کر رکھنا ضروری ہے مگر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ دھونا اور ہر روز کنگھی پٹی کرنا ممنوع ہے۔
(فتح الباري: 450/10)
(1)
کسی کے گھر یا اس کی مجلس میں آنے کے لیے اجازت لینا ضروری ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے سلام کرے، پھر اجازت طلب کرے، اس کے بغیر اچانک کسی کے گھر میں جانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ معلوم نہیں وہ اس وقت کسی حالت میں ہو اور کس کام میں مصروف ہو۔
ممکن ہے کہ اس وقت اس سے ملاقات ناگواری کا باعث ہو۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک شخص تحائف لے کر اجازت کے بغیر چلا آیا تو آپ نے اسے واپس کرتے ہوئے فرمایا: ’’واپس جاؤ اور السلام علیکم کہنے کے بعد اندر آنے کی اجازت طلب کرو، جب اجازت ملے تو اندر آ جاؤ۔
‘‘ (جامع الترمذي، الاستئيذان، حدیث: 2710)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت طلب کرنے کا طریقہ صرف زبانی بتا دینے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس پر عمل کرایا ہے۔
ظاہر ہے جو شخص اس طرح سبق یاد کرتا ہے وہ اسے بھول نہیں پاتا۔
(1)
جحر: گول سوراخ۔
(2)
مدری: بال سنوارنے کی لوہے کی کنگھی۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دروازہ پر کھڑے ہو کر اندر جھانکنا جائز نہیں ہے اور یہ اجازت طلب کرنے کی حکمت کے منافی ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کی رو سے ایسے آدمی کی آنکھ پھوڑنا جائز ہے، لیکن یہ اس صورت میں ہے، جب اس کے بغیر چارہ نہ ہو اور دیدہ بازی کرنے والا اس کے بغیر باز نہ آتا ہو۔
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ایک سوراخ سے جھانکا (اس وقت) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اگر مجھے (پہلے سے) معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں اسے تیری آنکھ میں کونچ دیتا (تجھے پتا نہیں) اجازت مانگنے کا حکم تو دیکھنے کے سبب ہی سے ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2709]
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ اجازت مانگنے سے پہلے کسی کے گھر میں جھانکنا اور ادھر ادھر نظر دوڑانا منع ہے، یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کے گھر میں بھی اجازت طلب کئے بغیر داخل ہونا منع ہے، اگر اجازت طلب کرنا ضروری نہ ہوتا تو بہت سوں کی پردہ دری ہوتی اور نامحرم عورتوں پر بھی نظر پڑتی، یہی وہ قباحتیں ہیں جن کی وجہ سے اجازت طلب کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث میں یہ ذکر ہے کہ آدمی کو کسی کے گھر کے دروازے سے اندر نہیں جھانکنا اس چاہیے، کیونکہ دروازے کا مقصد پردہ ہے، اگر کوئی انسان دروازے یا دیوار سے کسی سوراخ سے اندر جھانکے، اور گھر والوں کو اس کا علم ہو جائے اور وہ آگے سے کوئی چیز مارکر آنکھ پھوڑ دیں تو ان کو اس پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔