حدیث نمبر: 6866
وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمِقْدَادِ : " إِذَا كَانَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ يُخْفِي إِيمَانَهُ ، مَعَ قَوْمٍ كُفَّارٍ ، فَأَظْهَرَ إِيمَانَهُ ، فَقَتَلْتَهُ ، فَكَذَلِكَ كُنْتَ أَنْتَ تُخْفِي إِيمَانَكَ بِمَكَّةَ مِنْ قَبْلُ " .
مولانا داود راز

´اور حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر کوئی مسلمان کافروں کے ساتھ رہتا ہو پھر وہ ڈر کے مارے اپنا ایمان چھپاتا ہو ، اگر وہ اپنا ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے یہ کیوں کر درست ہو گا خود تم بھی تو مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپاتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الديات / حدیث: 6866
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6866. حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے حضرت مقداد ؓ سے فرمایا: اگر کوئی آدمی کافروں کے ساتھ رہتے ہوئے اپنا ایمان چھپاتا رہے پھر وہ ایمان ظاہر کر دے اور تو اس کو مار ڈالے (تو کیونکر درست ہو سکتا ہے) کیونکہ تو بھی مکہ میں پہلے اپنا ایمان چھپائے پھرتا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6866]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کا آغاز اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹا لشکر بھیجا جس میں حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔
جب یہ لشکر کافروں کی طرف بڑھا تو وہ منتشر ہوگئے لیکن ایک مال دار شخص وہیں رہا اور اس نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔
حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔
جب لوگوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: ’’تو نے ایک ایسے آدمی کو قتل کیا ہے جس نے لا إله إلا الله پڑھ لیا تھا۔
جب وہ قیامت کے دن کلمہ پڑھتے ہوئے آئے گا تو اس وقت تو لا إله إلا الله کے ساتھ کیا کرے گا؟‘‘ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’وہ آدمی جسے تونے قتل کیا ہے وہ مومن تھا اور اس نے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔
‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني: 24/12، حدیث: 12379، وفتح الباري: 236/12)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6866 سے ماخوذ ہے۔