حدیث نمبر: 6854
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَ زَوْجُهَا : كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا ، قَالَ : فَحَفِظْتُ ذَاكَ مِنَ الزُّهْرِيِّ ، إِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا فَهُوَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ كَذَا وَكَذَا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَهُوَ ، وَسَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ : جَاءَتْ بِهِ لِلَّذِي يُكْرَهُ " .
مولانا داود راز

´ہم سے علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` میں نے دو لعان کرنے والے میاں بیوی کو دیکھا تھا ۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی ۔ شوہر نے کہا تھا کہ اگر اب بھی میں ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں ۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے زہری سے یہ روایت محفوظ رکھی ہے کہ ” اگر اس عورت کے ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر اس کے ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا جیسے چھپکلی ہوتی ہے تو شوہر جھوٹا ہے ۔ “ اور میں نے زہری سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ اس عورت نے اس آدمی کے ہم شکل بچہ جنا جو میری طرح کا تھا ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب المحاربين / حدیث: 6854
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6854. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے دو لعان کرنے والوں کو دیکھا تھا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔ شوہر نے کہا تھا: اگر اب بھی میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے روایت بایں الفاظ محفوظ رکھی: اگر اس عورت کے ہاں ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر اس کے ہاں ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا جیسے چھپکلی ہوتی ہے تو شوہر جھوٹا ہے۔ میں نے زہری سے سنا وہ کہتے تھے کہ اس عورت نے مکروہ حال والے بچے کو جنم دیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6854]
حدیث حاشیہ: یعنی اس مرد کی طرح جس سے تہمت لگائی تھی باوجود اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو رجم نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ قرائن پر کوئی حکم نہیں دیا جا سکتا جب تک باضابطہ ثبوت نہ ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6854 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6854. حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے دو لعان کرنے والوں کو دیکھا تھا۔ اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ آپ ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔ شوہر نے کہا تھا: اگر اب بھی میں اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے زہری سے روایت بایں الفاظ محفوظ رکھی: اگر اس عورت کے ہاں ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا تو شوہر سچا ہے اور اگر اس کے ہاں ایسا ایسا بچہ پیدا ہوا جیسے چھپکلی ہوتی ہے تو شوہر جھوٹا ہے۔ میں نے زہری سے سنا وہ کہتے تھے کہ اس عورت نے مکروہ حال والے بچے کو جنم دیا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6854]
حدیث حاشیہ:
ایک روایت میں اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ اگر اس عورت نے سیاہ فام، سیاہ آنکھوں والا اور موٹے سرین والا بچہ جنم دیا تو اس کا خاوند تہمت لگانے میں سچا ہے اور بیوی کا انکار جھوٹا ہے۔
اور اگر اس نے سرخ رنگ والا، کوتاہ قد (چھوٹے قد والا)
گویا وہ چھپکلی کی طرح ہے، ایسا بچہ جنم دیا تو خاوند تہمت لگانے میں جھوٹا ہے، چنانچہ اس عورت نے مکروہ حال والے بچے (ولد الزنا)
کو جنم دیا۔
(صحیح بخاري، الطلاق، حدیث: 5309)
یعنی اس عورت نے اس مرد جیسا بچہ جنم دیا جس سے تہمت لگائی گئی تھی۔
اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو رجم نہیں کیا کیونکہ اس کا کوئی باضابطہ ثبوت نہ تھا، محض قرائن پائے جاتے تھے جن کی وجہ سے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6854 سے ماخوذ ہے۔