صحيح البخاري
كتاب المحاربين— کتاب: ان کفار و مرتدوں کے احکام میں جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں
بَابُ كَمِ التَّعْزِيرُ وَالأَدَبُ: باب: تنبیہ اور تعزیر یعنی حد سے کم سزا کتنی ہونی چاہئے۔
حدیث نمبر: 6849
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عُقُوبَةَ فَوْقَ عَشْرِ ضَرَبَاتٍ ، إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ " .مولانا داود راز
´ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مسلم بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن جابر نے ان صحابی سے بیان کیا جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا مجرم کو دس کوڑے سے زیادہ کی سزا نہ دی جائے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا داود راز
6849. حضرت عبدالرحمن بن جابر سے روایت ہے وہ اس صحابی سے بیان کرتے ہیں جنہوں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے علاوہ مجرم کو دس کوڑوں سے زیادہ سزا نہ دی جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6849]
حدیث حاشیہ: حدی سزاؤں کے علاوہ یہ اختیاری سزا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6849 سے ماخوذ ہے۔