حدیث نمبر: 6781
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَكْرَانَ ، فَأَمَرَ بِضَرْبِهِ ، فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِيَدِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِنَعْلِهِ ، وَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُهُ بِثَوْبِهِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ ، قَالَ رَجُلٌ : مَا لَهُ أَخْزَاهُ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَكُونُوا عَوْنَ الشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ " .
مولانا داود راز

´ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ، ان سے ابن الہاد نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابراہیم نے ، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نشہ میں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے کا حکم دیا ۔ ہم میں سے بعض نے انہیں ہاتھ سے مارا ، بعض نے جوتے سے مارا اور بعض نے کپڑے سے مارا ۔ جب مار چکے تو ایک شخص نے کہا ، کیا ہو گیا اسے ؟ اللہ اسے رسوا کرے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الحدود / حدیث: 6781
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6777 | سنن ابي داود: 4477

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا داود راز
6781. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص نشے کی حالت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا، چنانچہ ہم میں کچھ لوگوں نے اسے جوتے مارے جبکہ کچھ لوگوں نے کپڑوں (کو بٹ دے کر ان) سے اس کی مرمت کی۔ جب وہ چلا گیا تو ایک شخص نے کہا: اسے کیا ہو گیا ہے اللہ تعالٰی اس کو رسوا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6781]
حدیث حاشیہ: اللہ کی حد کو بخوشی برداشت کرنا ہی اس گنہگار کے مومن ہونے کی دلیل ہے پس حد قائم کرنے کے بعد اس پر لعن طعن کرنا منع ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6781 سے ماخوذ ہے۔

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
6781. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص نشے کی حالت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا، چنانچہ ہم میں کچھ لوگوں نے اسے جوتے مارے جبکہ کچھ لوگوں نے کپڑوں (کو بٹ دے کر ان) سے اس کی مرمت کی۔ جب وہ چلا گیا تو ایک شخص نے کہا: اسے کیا ہو گیا ہے اللہ تعالٰی اس کو رسوا کرے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6781]
حدیث حاشیہ:
(1)
جب کوئی اپنے جرم کی سزا بھگت لے تو اسے برا بھلا کہنا یا اس پر لعنت کرنا درست نہیں بلکہ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش اور رحم کی دعا کرو۔
‘‘ اور مارنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے شرمسار کرو تو لوگوں نے اسے کہا تو اللہ سے نہیں ڈرتا، تجھے اس کے عذاب سے خوف نہیں آتا، تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حیا نہیں آتی، اسے ملامت کرنے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
‘‘ (سنن أبي داود، الحدود، حدیث: 4478) (2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے شارح صحیح بخاری ابن منیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ معین شخص پر لعنت کرنا مطلق طور پر منع ہے، البتہ نام لیے بغیر برا کام کرنے پر لعنت کرنا جائز ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ممکن ہے کہ وہ باز آجائے، البتہ نام لے کر لعنت کرنا اس کے لیے باعث اذیت ہے اور مسلمان کو اذیت پہنچانا جائز نہیں۔
معین شخص پر لعنت کرنا اس لیے بھی منع ہے کہ ایسا کرنے سے وہ گنا ہ پر ڈٹ جائے گا اور توبہ سے مایوس ہوکر اس گندے کام پر دلیر ہوگا۔
بعض حضرات نے نام لے کر لعنت کرنے کو جائز قرار دیا ہے لیکن ان کا موقف راجح نہیں۔
(فتح الباري: 93/12)
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6781 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6777 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6777. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ابھی ابھی شراب نوشی کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مارو حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: ہم میں سے بعض نے اسے مکوں سے مارا۔ کچھ نے جوتوں اور کچھ نے کپڑوں سے اس کی مرمت کی۔ جب وہ جانے لگا تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کہو اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6777]
حدیث حاشیہ: معلوم ہوا کہ گناہ گار کی مذمت میں حد سے آگے بڑھنا معیوب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6777 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6777 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6777. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے ابھی ابھی شراب نوشی کی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے مارو حضرت ابو ہریرہ ؓ کہتے ہیں: ہم میں سے بعض نے اسے مکوں سے مارا۔ کچھ نے جوتوں اور کچھ نے کپڑوں سے اس کی مرمت کی۔ جب وہ جانے لگا تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ایسا مت کہو اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6777]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں شرابی کو مارنے کے لیے تعداد کا تعین نہیں ہے کیونکہ شروع اسلام میں اس کی تعداد مقرر نہ تھی، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر رسوائی کی بددعا کرنے کو شیطان کی مدد قرار دیا ہے۔
اس طرح شیطان کو وسوسہ اندازی کا موقع ملے گا۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایسا کرنا یہ تأثر دینا ہے کہ وہ بددعا کا مستحق ہے تو شیطان اس کے دل میں گندے خیالات پیدا کرے گا، اس لیے آپ نے اس سے منع فرمایا۔
(2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوڑے نہیں لگوائے تھے بلکہ جوتوں، مکوں اور کپڑے کے سونٹوں کو کافی خیال کیا تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ کا اس حدیث سے یہی مقصود ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6777 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4477 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´شراب کی حد کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا جس نے شراب پی رکھی تھی، تو آپ نے فرمایا: اسے مارو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو ہم میں سے کسی نے ہاتھ سے، کسی نے جوتے سے، اور کسی نے کپڑے سے، اسے مارا، پھر جب فارغ ہوئے تو کسی نے کہا: اللہ تجھے رسوا کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کہو اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4477]
فوائد ومسائل:
انسان خطا کا پتلا ہے چاہئے کہ خطاکار کو احسن انداز سے نصیحت کی جائے۔
اس انداز کی ڈانٹ ڈپٹ کہ اس کے منفی جذبات کو ابھارے مناسب نہیں، اس سے گویا شیطان کی مدد ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4477 سے ماخوذ ہے۔