صحيح البخاري
كتاب الحدود— کتاب: حد اور سزاؤں کے بیان میں
بَابُ الضَّرْبِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ: باب: (شراب میں) چھڑی اور جوتے سے مارنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، سَمِعْتُ عُمَيْرَ بْنَ سَعِيدٍ النَّخَعِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا كُنْتُ لِأُقِيمَ حَدًّا عَلَى أَحَدٍ فَيَمُوتَ فَأَجِدَ فِي نَفْسِي ، إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ : فَإِنَّهُ لَوْ مَاتَ وَدَيْتُهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَمْ يَسُنَّهُ " .´ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن الحارث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے ابوحصین نے ، انہوں نے کہا کہ میں نے عمیر بن سعید نخعی سے سنا ، کہا کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ` میں نہیں پسند کروں گا کہ حد میں کسی کو ایسی سزا دوں کہ وہ مر جائے اور پھر مجھے اس کا رنج ہو ، سوا شرابی کے کہ اگر وہ مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کر دوں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی تھی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابی کے لیے کوڑوں کی سزا مقرر نہیں کی، اس لیے اگر کسی شرابی کی کوڑے کھاتے کھاتے موت واقع ہو جائے یا چالیس سے زیادہ کوڑے کھانے سے وہ مر جائے تو اس سورت میں اس کی دیت دی جائے گی اور یہ دیت حاکم وقت کے عاقلہ (عصبہ رشتے داروں)
پر ہوگی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوڑوں کہ علاوہ جوتوں اور چھڑیوں سے موت واقع ہو جائے تو اس صورت میں دیت نہیں دی جائے گی۔
(فتح الباري: 83/12) (1)
ہمارے ہاں کوڑے کے لیے خاص طور پر بید تیار کیا جاتا ہے، اسے مارنے کے لیے ایک خاص آدمی ہوتا ہے جو مارنے کی مشق کرتا رہتا ہے، بید کو بھگو بھگو کر مارا جاتا ہے تاکہ جسم کو چھری کی طرح کاٹ دیا جائے، مجرم کو ننگا کر کے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ وہ تڑپ بھی نہ سکے۔
جب جلاد مارنے کے لیے بھاگتا ہوا آتا ہے اور پوری طاقت سے اس کے سرین پر مارتا ہے یہاں تک کہ گوشت قیمہ بن کر اڑتا چلا جاتا ہے۔
بسا اوقات تو ہڈی نظر آنے لگتی ہے۔
اس طرح کی ’’مہذب‘‘ سزائیں دینے والے حضرات اسلام کی سزاؤں کو وحشیانہ کہتے ہیں۔
اس پر ہم تعجب ہی کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انھیں سمجھ عطا کرے۔