حدیث نمبر: 674
وَقَالَ زُهَيْرٌ ، وَوَهْبُ بْنُ عُثْمَانَ : عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ عَلَى الطَّعَامِ فَلَا يَعْجَلْ حَتَّى يَقْضِيَ حَاجَتَهُ مِنْهُ وَإِنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ " ، رَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ عُثْمَانَ ، وَوَهْبٌ مديني .
مولانا داود راز

´زہیر اور وہب بن عثمان نے موسیٰ بن عقبہ سے بیان کیا ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی کھانا کھا رہا ہو تو جلدی نہ کرے ، بلکہ پوری طرح کھا لے گو ( اگرچہ ) نماز کھڑی کیوں نہ ہو گئی ہو ۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا اور مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے وہب بن عثمان سے یہ حدیث بیان کی اور وہب مدنی ہیں ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 674
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
674. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی کھانا کھا رہا ہو تو جلدی نہ کرے تا آنکہ کھانے سے اپنی ضرورت پوری کر لے اگرچہ نماز کھڑی ہو چکی ہو۔‘‘ اس حدیث کو ابراہیم بن منذر نے وہب بن عثمان سے روایت کیا ہے اور وہب مدنی ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:674]
حدیث حاشیہ:
اس حدیث کے عموم کا تقاضا ہے کہ کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہویا نہ ہو، وقت نماز مغرب کا ہو یا کسی دوسری نماز کا،کھانے والا روزے دار ہویا اس کے علاوہ، ہر صورت میں پہلے کھانا تناول کرنا بہتر ہے لیکن شرط یہ ہے کہ بھوک شدید ہو اور وقت بھی کھلا ہو کیونکہ بھوک نہ ہونے کی صورت میں ترک جماعت کی علت معدوم ہوگی اور تنگئ وقت کی صورت میں ایک بڑی خرابی کا ارتکاب لازم آئے گا جس کی وضاحت ہم پہلے کرچکے ہیں۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 674 سے ماخوذ ہے۔