صحيح البخاري
كتاب الأذان— کتاب: اذان کے مسائل کے بیان میں
بَابُ إِذَا حَضَرَ الطَّعَامُ وَأُقِيمَتِ الصَّلاَةُ: باب: جب کھانا حاضر ہو اور نماز کی تکبیر ہو جائے تو کیا کرنا چاہئے؟
حدیث نمبر: 671
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .مولانا داود راز
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شام کا کھانا سامنے رکھا جائے اور ادھر نماز کے لیے تکبیر بھی ہونے لگے تو پہلے کھانا کھا لو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عبدالستار الحماد
671. حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر دوران اقامت میں کھانا سامنے رکھ دیا جائے تو پہلے کھانا کھا لو۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:671]
حدیث حاشیہ:
(1)
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو دو مختلف الفاظ سے بیان کیا ہے: ایک روایت میں اِذَا حَضَرَ ہے جس کے معنی ہیں: جب وہ حاضر اور تیار ہو۔
دوسری روایت میں ہے، اِذَا وُضِعَ ’’جب اسے پیش کردیا جائے۔
‘‘ چونکہ حَضَرَکے الفاظ میں زیادہ عموم ہے، لہٰذا اسےوُضِعَ کے معنی میں لیا جائے گا۔
اس تائید دیگر روایات سے بھی ہوتی ہے جن کے الفاظ إذا قدم یا إذا قرب ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب کھانا موجود ہویا اسے بول وبراز مجبور کررہے ہوں تو ایسے حالات میں نماز نہیں ہوتی۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1246(560)
وفتح الباري: 280/2) (2)
کھانے کو نماز پر مقدم کرنے کے سلسلے میں علماء وفقہاء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں: بعض علماء کہتے ہیں کہ جب کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ قلت طعام پرمحمول ہے کہ کھانا تھوڑا ہو اور کھانے والے زیادہ ہوں اور اندیشہ ہوکہ اگر نماز شروع کردی گئی تو کھانا ختم ہوجائے گا، ایسے حالات میں پہلے کھانا کھا لیا جائے، پھر نماز پڑھی جائے۔
ہمارے نزدیک بہتر توجیہ یہ ہے کہ مذکورہ اجازت اس وقت ہے جبکہ اشتغال قلب کا اندیشہ ہو، یعنی اگر کھانا نہ کھایا جائے تو نماز میں خیال کھانے کی طرف لگا رہے۔
اگر ایسی صورت ہوتو پہلے کھانا کھائے پھر نماز پڑھے۔
امام بخاری ؒ کا میلان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت ابو درداء ؓ کے مقولے میں اس بات کی صراحت ہے۔
امام بخاری ؒ کا رجحان عنوان کے تحت دیے گئے آثار سے معلوم ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 20/2)
والله أعلم.
(1)
امام بخاری ؒ نے اس روایت کو دو مختلف الفاظ سے بیان کیا ہے: ایک روایت میں اِذَا حَضَرَ ہے جس کے معنی ہیں: جب وہ حاضر اور تیار ہو۔
دوسری روایت میں ہے، اِذَا وُضِعَ ’’جب اسے پیش کردیا جائے۔
‘‘ چونکہ حَضَرَکے الفاظ میں زیادہ عموم ہے، لہٰذا اسےوُضِعَ کے معنی میں لیا جائے گا۔
اس تائید دیگر روایات سے بھی ہوتی ہے جن کے الفاظ إذا قدم یا إذا قرب ہیں۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جب کھانا موجود ہویا اسے بول وبراز مجبور کررہے ہوں تو ایسے حالات میں نماز نہیں ہوتی۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1246(560)
وفتح الباري: 280/2) (2)
کھانے کو نماز پر مقدم کرنے کے سلسلے میں علماء وفقہاء نے مختلف توجیہات بیان کی ہیں: بعض علماء کہتے ہیں کہ جب کھانا خراب ہونے کا اندیشہ ہوتو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ قلت طعام پرمحمول ہے کہ کھانا تھوڑا ہو اور کھانے والے زیادہ ہوں اور اندیشہ ہوکہ اگر نماز شروع کردی گئی تو کھانا ختم ہوجائے گا، ایسے حالات میں پہلے کھانا کھا لیا جائے، پھر نماز پڑھی جائے۔
ہمارے نزدیک بہتر توجیہ یہ ہے کہ مذکورہ اجازت اس وقت ہے جبکہ اشتغال قلب کا اندیشہ ہو، یعنی اگر کھانا نہ کھایا جائے تو نماز میں خیال کھانے کی طرف لگا رہے۔
اگر ایسی صورت ہوتو پہلے کھانا کھائے پھر نماز پڑھے۔
امام بخاری ؒ کا میلان بھی اسی طرف معلوم ہوتا ہے کیونکہ حضرت ابو درداء ؓ کے مقولے میں اس بات کی صراحت ہے۔
امام بخاری ؒ کا رجحان عنوان کے تحت دیے گئے آثار سے معلوم ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 20/2)
والله أعلم.
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 671 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5465 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5465. سیدنا عائشہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کر دی جائے اور رات کا کھانا سامنے ہو تو پہلے عشائیہ تناول کرو۔“ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے حضرت ہشام سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”جب رات کا کھانا چن دیا جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ: یعنی کھانا سامنے آ جائے تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیئے تاکہ پھر نماز سکون سے ادا کی جا سکے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5465 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5465 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5465. سیدنا عائشہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب نماز کھڑی کر دی جائے اور رات کا کھانا سامنے ہو تو پہلے عشائیہ تناول کرو۔“ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے حضرت ہشام سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں: ”جب رات کا کھانا چن دیا جائے۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:5465]
حدیث حاشیہ:
(1)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ جب کھانا اور نماز دونوں حاضر ہوں تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے تاکہ دل کھانے کی طرف لٹکا نہ رہے اور نماز اطمینان و سکون سے ادا کی جائے۔
اسی طرح اگر کھانے کے دوران میں نماز کھڑی ہو جائے تو کھانا چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ فراغت کے بعد اطمینان سے نماز کی طرف جانا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب تم میں سے کوئی کھانے پر ہو تو جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے جلدی مت کرے اگرچہ نماز کے لیے اقامت ہی کیوں نہ کہہ دی جائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 674) (2)
یہ ضابطہ تمام نمازوں کے لیے ہے۔
چونکہ نماز مغرب یا عشاء کے وقت کھانا کھایا جاتا ہے، اس لیے احادیث میں ان کا ذکر آیا ہے۔
(1)
ان احادیث کا تقاضا ہے کہ جب کھانا اور نماز دونوں حاضر ہوں تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے تاکہ دل کھانے کی طرف لٹکا نہ رہے اور نماز اطمینان و سکون سے ادا کی جائے۔
اسی طرح اگر کھانے کے دوران میں نماز کھڑی ہو جائے تو کھانا چھوڑنا نہیں چاہیے بلکہ فراغت کے بعد اطمینان سے نماز کی طرف جانا چاہیے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’جب تم میں سے کوئی کھانے پر ہو تو جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کر لے جلدی مت کرے اگرچہ نماز کے لیے اقامت ہی کیوں نہ کہہ دی جائے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الأذان، حدیث: 674) (2)
یہ ضابطہ تمام نمازوں کے لیے ہے۔
چونکہ نماز مغرب یا عشاء کے وقت کھانا کھایا جاتا ہے، اس لیے احادیث میں ان کا ذکر آیا ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5465 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 935 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جب نماز کی اقامت ہو جائے اور کھانا سامنے ہو تو کیا کرے؟`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 935]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب شام کا کھانا سامنے ہو اور نماز بھی تیار ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 935]
اردو حاشہ:
فائده:
نماز سے پہلے کھانا کھا لینے کا حکم شدید بھوک ہی کی صورت میں ہے۔
بصورت دیگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے گریز سخت نا مناسب ہے۔
واللہ أعلم۔
فائده:
نماز سے پہلے کھانا کھا لینے کا حکم شدید بھوک ہی کی صورت میں ہے۔
بصورت دیگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے سے گریز سخت نا مناسب ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 935 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 182 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
C
فائدہ:
کھانا سامنے ہو اور نماز کی اقامت کہی جائے تو پہلے کھانا کھانا چاہیے، تاکہ نماز کے خشوع و خضوع میں فرق نہ پڑے، اور نماز مکمل یکسوئی کے ساتھ ادا کی جائے۔ یہ ضابطہ تمام نمازوں کے لیے ہے۔ چونکہ نماز مغرب یا عشاء کے وقت کھانا کھایا جا تا ہے اس لیے احادیث میں ان کا ذکر ہے۔ امام صاحب اس سے مستثنٰی ہیں کیونکہ اس نے نماز پڑھانی ہوتی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری: 675، الأذان، الإمام إلى الصلاة وبيده مايأكل)
کھانا سامنے ہو اور نماز کی اقامت کہی جائے تو پہلے کھانا کھانا چاہیے، تاکہ نماز کے خشوع و خضوع میں فرق نہ پڑے، اور نماز مکمل یکسوئی کے ساتھ ادا کی جائے۔ یہ ضابطہ تمام نمازوں کے لیے ہے۔ چونکہ نماز مغرب یا عشاء کے وقت کھانا کھایا جا تا ہے اس لیے احادیث میں ان کا ذکر ہے۔ امام صاحب اس سے مستثنٰی ہیں کیونکہ اس نے نماز پڑھانی ہوتی ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاری: 675، الأذان، الإمام إلى الصلاة وبيده مايأكل)
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 182 سے ماخوذ ہے۔