حدیث نمبر: 6705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ أَبِي حُرَّةَ الْأَسْلَمِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ نَذَرَ أَنْ لَا يَأْتِيَ عَلَيْهِ يَوْمٌ إِلَّا صَامَ ، فَوَافَقَ يَوْمَ أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ ، فَقَالَ : " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ، لَمْ يَكُنْ يَصُومُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَالْفِطْرِ ، وَلَا يَرَى صِيَامَهُمَا " .
مولانا داود راز

´ہم سے محمد بن ابوبکر مقدمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکیم بن ابی حرہ اسلمی نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ،` ان سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے نذر مانی ہو کہ کچھ مخصوص دنوں میں روزے رکھے گا ۔ پھر اتفاق سے انہیں دنوں میں بقر عید یا عید کے دن پڑ گئے ہوں ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقر عید اور عید کے دن روزے نہیں رکھتے تھے اور نہ ان دنوں میں روزے کو جائز سمجھتے تھے ۔

حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأيمان والنذور / حدیث: 6705
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة